نئے بجٹ میں ای ٹریڈنگ اورغیرملکیوں پرٹیکس لگنے کا امکان
استثیٰ کے حامل شعبوں سے چھوٹ واپس لے کر معمولی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے گا.
ایف بی آر نے19شعبوں کی نشاندہی کرکے فیلڈ فارمشنز سے 1 ہفتے میں تجاویز طلب کرلیں۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت نے ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پاکستان میں ای ٹریڈنگ، ہیومن ریسورس پرووائیڈر کمپنیوں، پاکستان میں مقیم غیر ملکی باشندوں، ٹرانسفر پرائسنگ اور رائلٹی پر ٹیکس عائد کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
جبکہ ٹیکس سے استثنیٰ کے حامل تمام شعبوں پر چھوٹ ختم کرکے معمولی شرح سے ٹیکس عائد کیے جانے کا بھی امکان ہے، اس سلسلے میں 19 شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس بیس، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح اور ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے لیے 19 شعبوں کی نشاندہی کرکے فہرست تیار کر لی ہے جو فیلڈ فارمشنز کو بھجوائی گئی ہے۔
تمام فیلڈ فارمشنز سے کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2013-14 کے وفاقی بجٹ میںفہرست میں شامل 19 شعبوں کے لیے ٹیکسیشن سے متعلقہ تجاویز تیار کرکے آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کو بھجوائی جائیں اور اس بات کی نشاندہی کی جائے کہ ان شعبوں پر پہلے سے عائد ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ ریکوری کیلیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں اور جہاں جہاں ٹیکس لیکج یا ٹیکس چوری ہورہی ہے اسے کیسے روکا جاسکتا ہے اور ایسے شعبے جن پر ٹیکس عائد نہیں ہے انہیں کیسے ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکتا ہے اور ان کے لیے شروع میں ٹیکس کی شرح کیا ہونی چاہیے۔
دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے جن 19 شعبوں کی نشاندہی کر کے فہرست فیلڈ فارمشنز کو بھجوائی ہے ان میں ٹیکسوں میں دی جانے والی غیرضروری چھوٹ ختم کرنا، ٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ کا اینالسز کر کے انکی ریشنلائزیشن کرنا، کیپٹل گین ٹیکس، کم ازکم ٹیکس ریجیم کو بڑھانا، ملک میں اقتصادی ترقی کیلیے ود ہولڈنگ ٹیکس اور اسکے اثرات، پریزمپٹو ٹیکس رجیم کی ریشنلائزیشن اور فائنل ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنا، ملکی معیشت کے تمام شعبوں کو معمول کی ٹیکس ریجیم میں لانا، ریفنڈز کے اجرا کیلیے موصول ہونے والے کلیمز کی موثر مانیٹرنگ، نان ریذیڈینٹ، ٹرانسفر آف پرائسنگ، رائلٹی، انسانی وسائل فراہم کرنے والی کمپنیوں، ای ٹریڈنگ، اشیا کی تجارت پر ٹیکس کا نفاذ، بینکنگ سیکٹر پر ٹیکیسشن اور لینڈنگ باورنگ ریشو، ٹرانسپورٹ سیکٹر، ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز، ٹیلی کام سیکٹر اور ٹیکس سے مستثنیٰ تمام شعبوں پر معمولی شرح سے ٹیکس نافذ کرنا شامل ہے۔
جبکہ ٹیکس سے استثنیٰ کے حامل تمام شعبوں پر چھوٹ ختم کرکے معمولی شرح سے ٹیکس عائد کیے جانے کا بھی امکان ہے، اس سلسلے میں 19 شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس بیس، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح اور ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے لیے 19 شعبوں کی نشاندہی کرکے فہرست تیار کر لی ہے جو فیلڈ فارمشنز کو بھجوائی گئی ہے۔
تمام فیلڈ فارمشنز سے کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2013-14 کے وفاقی بجٹ میںفہرست میں شامل 19 شعبوں کے لیے ٹیکسیشن سے متعلقہ تجاویز تیار کرکے آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کو بھجوائی جائیں اور اس بات کی نشاندہی کی جائے کہ ان شعبوں پر پہلے سے عائد ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ ریکوری کیلیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں اور جہاں جہاں ٹیکس لیکج یا ٹیکس چوری ہورہی ہے اسے کیسے روکا جاسکتا ہے اور ایسے شعبے جن پر ٹیکس عائد نہیں ہے انہیں کیسے ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکتا ہے اور ان کے لیے شروع میں ٹیکس کی شرح کیا ہونی چاہیے۔
دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے جن 19 شعبوں کی نشاندہی کر کے فہرست فیلڈ فارمشنز کو بھجوائی ہے ان میں ٹیکسوں میں دی جانے والی غیرضروری چھوٹ ختم کرنا، ٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ کا اینالسز کر کے انکی ریشنلائزیشن کرنا، کیپٹل گین ٹیکس، کم ازکم ٹیکس ریجیم کو بڑھانا، ملک میں اقتصادی ترقی کیلیے ود ہولڈنگ ٹیکس اور اسکے اثرات، پریزمپٹو ٹیکس رجیم کی ریشنلائزیشن اور فائنل ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنا، ملکی معیشت کے تمام شعبوں کو معمول کی ٹیکس ریجیم میں لانا، ریفنڈز کے اجرا کیلیے موصول ہونے والے کلیمز کی موثر مانیٹرنگ، نان ریذیڈینٹ، ٹرانسفر آف پرائسنگ، رائلٹی، انسانی وسائل فراہم کرنے والی کمپنیوں، ای ٹریڈنگ، اشیا کی تجارت پر ٹیکس کا نفاذ، بینکنگ سیکٹر پر ٹیکیسشن اور لینڈنگ باورنگ ریشو، ٹرانسپورٹ سیکٹر، ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز، ٹیلی کام سیکٹر اور ٹیکس سے مستثنیٰ تمام شعبوں پر معمولی شرح سے ٹیکس نافذ کرنا شامل ہے۔