ٹرمپ حقیقت پسند بنیں

ٹرمپ کی طرف سے آیندہ 24 اور 48گھنٹوں میں مزید اقدامات کا بگل بھی بجایاگیا ہے

ٹرمپ کی طرف سے آیندہ 24 اور 48گھنٹوں میں مزید اقدامات کا بگل بھی بجایاگیا ہے۔ فوٹو: فائل

قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکی صدر کے غیرذمہ دارانہ الزامات کے باوجود جلد بازی میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔ پاکستان کو افغانستان میں مشترکہ ناکامی کا ذمے دار قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ اتحادیوں ہی پر الزام لگا کر افغانستان میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی قوم اپنی حفاظت کرنا جانتی ہے، افغانستان میں سیاسی محاذ آرائی، کرپشن اور منشیات بڑے چیلنجز ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس منگل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہوا جس میں وزیرخارجہ خواجہ آصف، وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر دفاع خرم دستگیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیرمحمود حیات، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان، پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود اور دیگر سول و فوجی حکام شریک ہوئے۔ امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر اعزاز احمد چوہدری بھی اجلاس میں موجود تھے ۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف اشتعال انگیز،غیر منطقی اور حقیقت سے متصادم بیان پرقومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ بر وقت ہے ، اس بات سے قطع نظر کہ ٹرمپ اور اس کی بے سمت انتظامیہ دنیا کے امن کو لاحق خطرات میں ابھی مزید کتنا اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اس بنیادی حقیقت کا ادراک ضروری ہے جس کی نشاندہی خود امریکی میڈیا اور اس کے معتبر اخبارات کرتے ہیں، پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ٹرمپ کی بڑھکوں سے زیادہ اس تباہ کن سامراجی حکمت عملی کے گھناؤنے اور ہولناک اسٹریٹجی سے ہے جس کی روشنی میں ٹرمپ امریکی اقدار، جمہوری روایات اور پاک امریکا تعلقات کے سرد وگرم چشیدہ مگر جمے جمائے شیرازہ کو بکھیرنے کی غیر ضروری مہم جوئی پر کمربستہ ہیں، امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل کا کہنا ہے کہ امریکا جلد افغانستان میں طالبان اور داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریگا ۔

لہذا سلامتی کمیٹی کا یہ صائب فیصلہ ہے کہ جلد بازی کے بجائے امریکا کو حقائق کے اعتراف و اقرار پر مجبور کرنے کے لیے سفارتی آپشنز کا غیر معمولی مظاہرہ ہونا چاہیے ۔ اے پی پی کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ امریکی وزرا ٹیلرسن اور میٹس کے دوروں میں مثبت پیش قدمی کے تناظر میں امریکی قیادت کی طرف سے دیے گئے حالیہ بیانات مکمل طور پر ناقابل فہم ہیں کیونکہ یہ حقائق کے برخلاف ہیں۔ کئی سال سے پاکستان کی دہشت گردی کے انسداد کے لیے مہم افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کے عزائم کی ممکنہ توسیع کے خلاف ایک حفاظتی دیوار ثابت ہوئی ہے۔ شہداء کے خاندانوں کی تکالیف کی بے رحمی سے مالی قیمت لگا کر توہین نہیں کی جا سکتی۔


یہی وقت ہے کہ امریکا اور ان کے اتحادیوں کے عزائم یوں ناکام بنائے جائیں کہ عالمی برادری پاکستان کے موقف ،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی بے مثال قربانیوں کا نہ صرف اعتبار کرے بلکہ انکل سام اور ان کے حواریوں کو خبردار بھی کردے کہ وہ خطے میں بدامنی،جنگجوئی اور تباہی کا ہولناک کھیل کھیلنے سے باز رہیں ، ساتھ ہی امریکی عوام کو باور کرایا جائے کہ پاکستان کا محاصرہ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی ، ضرورت حکمرانوں اور مین اسٹریم سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی دور اندیشی ، قومی مفاد اور ملک کو درپیش سنگین خطرات کے فوری ادراک، اتحاد اور یکجہتی کی ہے۔ اسی جوش وجذبہ ،قومی حمیت اور دلیری و سفارتی حکمت و تدبر سے امریکا سے معاملات کے تصفیہ کی راہ ڈھونڈیں، ٹرمپ کے جنگی جنون کا راستہ تدبر اور ناقابل شکست قومی بیانیے سے روکا جاسکتا ہے۔امریکا نے پاکستان کو جھوٹا ،دغاباز اور ڈبل گیم میں ملوث قراردے کر ایک بااعتماد اتحادی کی عزت نفس پر حملہ کیا ہے۔

ٹرمپ کی طرف سے آیندہ 24 اور 48گھنٹوں میں مزید اقدامات کا بگل بھی بجایاگیا ہے، پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ٹرمپ کچھ بھی کرسکتا ہے، دفاعی مبصرین اور سیاسی مبصرین نے اقتصادی پابندیوں اور ڈرون حملوں کا خطرہ بھی ظاہر کیا ہے تاہم قوم ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے گی۔کسی کو پاکستانیوں کے عزم کے بارے میں غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔امریکا ڈالروں کی بے بنیاد بارش کا چرچا کررہا ہے ، وزیر دفاع خواجہ آصف نے صائب بیان دیا ہے کہ امریکا اپنی امداد کا آڈٹ کسی عالمی ادارہ سے کرائے، خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں امریکا کی کوئی امداد اب نہیں چاہیے۔دریں اثنا آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی زیرصدارت کورکمانڈرز کانفرنس میں خطے کی اسٹرٹیجک اورملک کی اندرونی وعلاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے لیے اپنے نقطہ نظر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔آن لائن کے مطابق عسکری قیادت نے امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کو یکسر مستردکرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کے منافی اور پاکستان کی قربانیوں کی نفی قراردیا ہے ساتھ ہی واضح کر دیاکہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی جمعہ 5جنوری کو پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کرلیا گیا۔

امکان ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی بلایا جائے گا جب کہ اس اجلاس میں بھی ٹرمپ کی دھمکی اور دیگر قومی سلامتی امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ ادھر امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے چین نے بھی پاکستان کی حمایت کی ہے ۔ایک اطلاع کے مطابق چین نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں عالمی برادری انھیں تسلیم کرے۔ بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے کہا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی کوششیںکیں اور بہت قربانیاں دیں، عالمی برادری پاکستان کی غیرمعمولی خدمات کا اعتراف کرے۔امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی خطے کو نئے انتشار میں مبتلا کرنے کی ہے ،چنانچہ اس نے پاکستان کے بعد ایران کو بھی نشانہ بنایا۔ ایران کی داخلی صورتحال کے حوالے سے اپنے نئے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے تہران کو احمقوں کی طرح جو پیسے دیے وہ دہشت گردی میں استعمال ہوئے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر ایران نے سخت رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو اپنے ملک کے بے گھر اور بھوکے لوگوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی سطح پر سیاست دانوں کو اپنے فروعی اختلافات ختم کردینے چاہییں، وقت کی نزاکت کا تقاضہ یہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ایک غیر معمولی صورتحال سے غیر روایتی انداز میں نمٹنا ہے، ٹرمپ کی سائیکی،اس کا دیوانہ پن امریکی میڈیا کی زینت بنتا رہتا ہے، وال اسٹریٹ جرنل نے اپنے اداریہ میں ٹرمپ کے عہد صدارت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ واشنگٹن میں '' فسطائی کو'' کی نوبت نہیں آئی ورنہ امریکی اشرافیہ کے نمایندے ٹرمپ کو جمہوری اقدار کے لیے ایک نرالہ خطرہ قرار دے چکے تھے۔ لہٰذا وقت آگیا ہے کہ ارباب اختیار ٹرمپ کے پیدا کردہ مصنوعی بھنور سے تدبر کے ساتھ نکلنے کا قوم کو یقین دلائیں۔ پاکستان امن کا ہمیشہ سے داعی رہا ہے اس پیغام کو امریکا سمیت عالمی برادری تک بہت جلد پہنچنا چاہیے۔
Load Next Story