سندھ کا نوحہ جنگل مقبوضہ اور بدحال صحت کا شعبہ

کراچی جیسے بڑے شہر میں سرکاری اسپتالوں کی بدتر حالت کی رپورٹ میڈیا پر روز عیاں ہوتی ہے

کراچی جیسے بڑے شہر میں سرکاری اسپتالوں کی بدتر حالت کی رپورٹ میڈیا پر روز عیاں ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

صوبہ سندھ کی دھرتی اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہے اور حکومتی بے حسی و لاپرواہی عروج پر ہے۔ حالیہ دور میں وہ کون سا مسئلہ ہے جو سندھ کے عوام کو درپیش نہیں لیکن حکومتی سطح پر انتظامی غفلت اور وژن کی کمی کے باعث نہ صرف پسماندہ دیہات بلکہ شہروں میں بھی انسانی المیے جنم لے رہے ہیں۔ سندھ میں زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور قبضے صرف شہروں کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ دیہات اور کچے کے علاقوں میں بھی یہ مسئلہ برسوں سے درپیش ہے، محکمہ جنگلات کی ہزاروں ایکڑ زمین بااثر افراد کے قبضے میں ہے، مقامی زمیندار جنگلات پر مشتمل زمینیں زراعت کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں جس سے ہزاروں ایکڑ جنگلات ختم ہوچکے ہیں، جنگلات کا تیزی سے خاتمہ خطرناک حد تک ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔


ماحولیاتی آلودگی سے جہاں صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں، وہیں صوبہ بھر میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال اور شعبہ صحت کی بدحالی کے باعث عوام کو متعدی بیماریوں اور صحت کی ناکافی سہولیات کا سامنا ہے۔ کس قدر افسوسناک صورتحال ہے کہ کراچی سمیت صوبہ سندھ کی پونے 5 کروڑ آبادی کے لیے سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی مجموعی تعداد 13 ہزار ہے۔ عالمی اسٹینڈرڈ کے مطابق 600 افراد پر ایک معالج ہونا چاہیے جب کہ سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی تعداد کے پیش نظر 16 افراد کے لیے ایک بستر، 13 سو مریضوں پر ایک ڈاکٹر اور 16 ہزار افراد پر صرف ایک ڈینٹل سرجن کی سہولت میسر ہے۔ صوبہ میں صرف ایک برنس سینٹر ہے جہاں جھلسے ہوئے مریضوں کو علاج کے لیے شدید دباؤ ہوتا ہے، جب کہ آبادی کے لحاظ سے سرکاری اسپتالوں، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل عملے کی تعداد میں بھی نمایاں فرق ہے۔ حکومت کے اس غیر سنجیدہ، غیر مساوی اور غیر ذمے دارانہ طرز عمل کی وجہ سے صوبے کے عوام آج بھی صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

بالائی سندھ میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ این جی اوز کے حوالے کرنے سے تھر سمیت دیگر علاقوں میں یومیہ درجنوں بچے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔ پاکستان میں صحت اور تعلیم کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہیں، حکومتی غفلت کے باعث پاکستان میں صحت کے مسائل ہولناک صورت اختیار کرنے لگے ہیں۔ سندھ کے سرکاری اسپتالوں کو سالانہ اربوں روپے کا بجٹ فراہم کیا جاتا ہے لیکن کسی بھی سرکاری اسپتال کا دورہ کرکے دیکھیں تو عوام کی بے بسی و بے کسی عیاں ہوتی ہے، کراچی جیسے بڑے شہر میں سرکاری اسپتالوں کی بدتر حالت کی رپورٹ میڈیا پر روز عیاں ہوتی ہے، ایسے میں گاؤں دیہات میں طبی سہولیات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف حکومتی زعما اور اراکین پارلیمنٹ اپنے ذاتی مفادات اور مراعات کے لیے تو بل فوری پاس کرلیتے ہیں لیکن حقیقی عوامی مسائل سے پہلوتہی برتنا ایک المیہ ہے جس کی جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story