سو پشت سے ہے پیشہ ٔ آبا گداگری

میرا ارادہ مزدوری کرکے اپنے پیشے کو بٹہ لگانا نہیں تھا لیکن اس نے زبردستی وہ پیسے میرے ہاتھ پر رکھے

barq@email.com

یہ تو آپ کو بھی پتہ ہے بلکہ ہم سے زیادہ آپ کو معلوم ہے کہ مسلمان چونکہ اصیل اور خاندانی لوگ ہیں اور پھر پاکستان کے لوگ تو مسلمانوں میں بھی خاص الخاص خاندانی لوگ ہوتے ہیں اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ خاندانی لوگ کام کرتے ہوئے اچھے بالکل نہیں لگتے حتیٰ کہ لباس اور جوتے تک کمی کمین لوگوں سے پہنواتے ہیں مثلاً ہم نے سن رکھا ہے کہ عرب کے شیوخ اپنے سر پر وہ ایک رومال اور کالا سا رسا جو باندھتے ہیں ان کے لیے بھی الگ الگ دودو یورپی یا امریکی نوکر رکھتے ہیں کہ اگر ایک چھٹی پر ہو تو دوسرا موجود رہے کیا پتہ شیخ کو کب کسی حاجت کے لیے اٹھنا پڑھے، اکثر تو سوتے بھی ان ہی لوازمات کے ساتھ ہیں اس لیے غلام سرہانے کھڑا رہتا ہے کہ اگر نیند میں کروٹ لیتے ہوئے یہ لوازمات کھل جائیں یا ٹیڑھے ہو جائیں تو فوراً درست کر سکیں ۔ عموماً بیڈروم میں اس کام پر غلاموں کی جگہ کنیزوں کو دی جاتی ہے ۔

ہمارے ایک گرائیں عرب میں کسی '' یاشیخ '' کے پاس ملازم تھا جو شاہی خاندان میں بھی کچھ زیادہ شاہی خاندان کا تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ '' یا شیخ '' جب کسی کام یا چیز کو اپنا دست مبارک یا انگشت مقدس لگا دیتے ہیں تو اس کے بعد فوراً واش روم جاکر آٹھ دس لوشنوں سے ہاتھ دھوتا تھا، کسی سے مصافحہ یا بغلگیر ہونے کے بعد تو باقاعدہ غسل کرتا تھا پانی میں دس پندرہ لوشن اور انٹی بائیٹک ملاکر ۔ ظاہر ہے کہ یہ ساری چیزیں مع جاندار کنیزوں اور غلاموں کے فارن والی ہوا کرتی ہیں ۔

لیکن ہمارے ہاں پاکستان میں بھی حیثیت کسی کی کچھ بھی ہو ذات تو سب کی اونچی ہے اس لیے سارے کام یورپ اور امریکا یا چین و جاپان کی کمی کمپنیوں سے کروائے جاتے ہیں ۔ لیکن پاکستانی چونکہ بڑے '' لڑیا'' بھی ہوتے ہیں اس لیے انھوں نے باقاعدہ ایک نئی روایت یہ ڈالی ہوئی ہے کہ ملک میں '' جھاڑو لگانے '' کاکام بھی لیڈروں کے سپرد کیا ہوا ہے اور باتیں بنانے کا کام کرنے کے لیے بھی الگ سے ملازمین رکھے ہوئے ہیں اور خود صرف اپنا خاندانی کام سنبھالے ہوئے ہیں ۔وہ خاندانی کام ایسا ہے کہ ہم دو لفظوں میں بھی اسے بیان کر سکتے ہیں لیکن یہ '' پریم کہانی '' ذرا مشکل ہے۔

اس لیے دو لفظوں میں بیاں نہ ہو پائے گی بلکہ '' لفظوں '' کی بجائے اگر اسے کہانی میں بیان کیا جائے تو زیادہ زود ہضم اور زود فہم ہو جائے گی۔کہانی یوں ہے کہ بھکاریوں کی بستی میں ایک گھر سے اچانک شور شرابے مارنے کوٹنے اور رونے گرجنے کی آوازیں سنائی دیں تو دوسرے ہمسایوں کے ساتھ بستی کا سردار بھی موقع واردات پر پہنچا، کیا دیکھتا ہے کہ بوڑھا نندو بھکاری اپنے جوان بیٹے چندو بھکاری کو بری طرح اپنی لاٹھی سے پیٹ رہا ہے، چندو چیختے ہوئے یہاں وہاں دوڑ رہا ہے اور چندو کی ماں تارا ہائے وائے کر رہی ہے۔سردار کے گرجنے پر تھوڑی دیر میں ماحول شانت ہوا تو سردار نے نندو بھکاری سے ماجرا پوچھا ۔ اس پر نندو بھکاری نے اپنے سرکی بجائے بیٹے چندو کا سر پٹتے ہوئے کہا کہ دیکھو اس ناخلف نابنجار کندۂ نا تراش بیٹے نے میرا اور خاندان کا نام پورا ڈبو کر رکھ دیا۔سردار نے تفصیل چاہی تو گویا ہوا کہ آج میں ویسے ہی کسی کام سے بس اڈے پر گیا۔

جہاں اس ناہنجار ننگ خاندان ننگ قوم کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی ۔کیا دیکھتا ہوں کہ یہ ایک مسافر کا سامان بس کی چھت پر چڑھا رہا ہے اور پھر یہ دیکھ کر تو میرے تن بدن کو آگ لگ گئی کہ اس مسافر نے اسے مزدوری کے طور پر کچھ پیسے دے دیے، اس موقع پر سارے بھکاریوں کی جو وہاں جمع ہوئے تھے کے منہ سے حیرت کی آوازیں ابھرنے لگیں۔ سردار نے ایک مرتب پھر ماحول کو شانت کرکے چندو سے پوچھا کہ تم بتاؤ کیا واقعی تمہارا باپ سچ کہہ رہا ہے واقعی تم نے اپنے مقدس پیشے کو مزدوری کرکے بٹہ لگانے کی کوشش کی ہے ۔چندو نے کہا ہے جناب والا میں نے ارادتاً ایسا نہیں کیا تھا ۔ اڈے پر میں حسب معمول بھیک مانگنے کے لیے ہی کھڑا تھا ۔ اس دن قلیوں کی ہڑتال تھی اور وہ مسافر بہت بہی ضعیف اور لاچار تھا اس نے بڑی عاجزی سے مدد چاہی میں انکار نہ کر سکا اور بیچارے کا سامان چڑھا دیا ۔ میرا ارادہ مزدوری کرکے اپنے پیشے کو بٹہ لگانا نہیں تھا لیکن اس نے زبردستی وہ پیسے میرے ہاتھ پر رکھے ۔


اس پر نندو فقیر کو ایک مرتبہ پھر طیش آیا اپنے ڈانگ کو اس کی کمر پرجماتے ہوئے بولا ، کم بخت اگر اس نے مزدوری دی تو تم نے قبول کیوں کی یا تو انکار کرکے '' حرام '' کی کمائی کو رد کر دیتے اور یا اس سے لے کر دور پھینک دیتے لیکن تم نے تو لے کر جیب میں ڈال لیے جو تمہاری حق حلال بھیک سے مل کر اسے بھی اپوترکر گئے ہوں گے ۔ سردار نے کہا ٹھیک ہے بچہ ہے غلطی ہو گئی اب تم وہ سارے پیسے پھینک دو قصہ ختم ۔ ہم نے کافی ریسرچ کی ہے کہ آخر اس بھیک میں ایسا کیا ہے جو بالکل نہیں چھوٹتا ۔ حالانکہ اب تک ایک اور چیز کے بارے میں کہا جاتا کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی ۔

لیکن وہ محض ہوائی تھی وہ چیز بڑی آسانی سے چھوٹ جاتی ہے بلکہ اکثر لوگ اسے بیس بیس مرتبہ چھوڑ چکے ہیں لیکن یہ کم بخت نیچے '' والے ہاتھ '' کی علت کبھی نہیں چھوٹتی اور اس کی واحد وجہ وہی خاندانی تفاخر ہے بھلا کام کرکے کمانا بھی کوئی کام ہے وہ تو یہاں وہاں کے ایرے غیرے نتھو خیرے لوگ بھی '' کام '' کرکے کمائی کر لیتے ہیں اس میں کمال یا ہنر مندی یا برتری کیا ہوئی ؟ مزہ تو جب ہے کہ کچھ بھی نہ کرکے کمایا جائے ۔ اور پھر اونچی ذات کے اعلیٰ نسب لوگ اگر کسی کام کو ہاتھ لگائیں گے تو لوگ کیا کہیں گے اور اعلیٰ و ادنیٰ کا فرق کیا ہوا ۔

ٹھیک ہے جن کے پاس تیل ہے جائیداد ہے دولت ہے وہ تو معاوضہ دے کر کمی کمین لوگوں سے کام کروا لیتے ہیں لیکن جن کے پاس ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور خاندانی تفاخر احساس بالاتری اور خاندانی غرور ہے ۔ ان کے لیے یہی طریقہ بہتر ہے کہ کچھ بھی نہ کرکے کمانے کا کہ کمی کمین بھی نہ بنیں اور کمائی بھی ہوتی رہے اور خاندانی احساس تفاخر بھی قائم رہے

سو پشت سے ہے پیشہ آباء گداگری

بس '' کام '' ہی ذریعہ عزت نہیں مجھے
Load Next Story