متبادل اسامیوں پر تعینات لینگویج ٹیچرز کو تنخواہ جاری نہیں ہوگی اے جی سندھ

محکمہ تعلیم نے لینگویج ٹیچرزکی 3ہزاراسامیوں پر5ہزار افرادکوبھرتی کیا،دیگرپوسٹوں پرجوائننگ قوانین کی خلاف ورزی ہے.

صرف ان ملازمین کو تنخواہ ادا کی جائے گی جس کی بھرتی متعلقہ خالی اسامی پرکی گئی ہے ، ڈائریکٹرز اسکولز کو مراسلہ. فوٹو: فائل

اکاؤنٹنٹ جنرل ( اے جی) سندھ نے محکمہ تعلیم کو واضح کردیا ہے کہ اسکول کیڈ ر میں مختلف لینگویج ٹیچرزکی اسامیوں پر بھرتی ہونے والے تمام ملازمین جن کو ان پوسٹوں کی بجا ئے ٹیچرز کیڈر کی دیگر پوسٹوں پر جوائننگ دی گئی ہے۔

ان ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی جاسکتی کیونکہ ان ملازمین کی دیگر پوسٹوں پر جوائننگ قوانین کی خلاف ورزی اور خلاف ضابطہ ہے، اے جی سندھ کے اس اعتراض کے بعد سندھ بھر میں ان پوسٹوں پر بھرتی ہونے والے اضافی ملازمین کی تنخواہیں جاری نہیں ہوسکیں گی، ان ملازمین کی تعداد2 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔

اے جی سندھ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم نے اسکول کیڈر کی عربی ٹیچر (اے ٹی)، سندھی لینگویج ٹیچر ( ایس ایل ٹی ) اور ڈرائنگ ٹیچر ( ڈی ٹی )کی اسامیوں پر اگست 2012 سے جنوری 2013 تک تقریباً 5 ہزار ملازمین کو صوبے بھر میں بھرتی کیا گیا ، ذرائع کے مطابق صوبے بھر میں ان خالی اسامیوںکی تعداد تقریباً 3ہزار سے زائد تھی تاہم محکمہ تعلیم نے خالی اسامیوں پر زائد ملازمین کو بھرتی کردیا ،جس کے سبب ان ملازمین کو جونیئر اسکول ٹیچرز کی خالی اسامیوں پر جوائننگ دے دی گئی۔




ان بھرتی ہونے والے ملازمین نے جب تنخواہوں کے لیے اے جی سندھ سے رجوع کیا تو ملازمین کی تنخواہوں کے بل مسترد کردیے گئے، ذرائع کے مطابق اے جی سندھ نے سیکریٹری تعلیم اور سندھ کے تمام ڈائریکٹرز اسکولز کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کیڈر کی اے ٹی، او ٹی اور ایس ایل ٹی کی پوسٹوں پر بھرتی ہونے والے وہ ملازمین جن کو متبادل گریڈ کی پوسٹوں پر جوائننگ دی گئی ہے ان کی تنخواہیں ادا نہیں کی جاسکتی ہیں۔

یہ جوائننگ محکمہ جاتی اور مالیاتی رولز کی خلاف ورزی ہے، صرف ان ملازمین کو تنخواہ ادا کی جائے گی، جس کی بھرتی متعلقہ خالی اسامی پر کی گئی ہے اور بھرتی ہونے والے شخص کو اسی اسامی کا تقررنامہ اور جوائننگ جاری کی گئی ہو،ذرائع کے مطابق اے جی سندھ نے محکمہ تعلیم کو واضح کیا ہے کہ یا تو ان ملازمین کے لیے پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ کرایا جائے یا اس حوالے سے کوئی پالیسی مرتب کی جائے ۔
Load Next Story