غیرملکی کوچ وکٹ کیپرز کی صلاحیتیں نکھارے گا
قومی سلیکشن کمیٹی10پلیئرز کا انتخاب کرکے کیمپ میں طلب کرے گی.
دورئہ جنوبی افریقہ کے بعد ٹیم کے لیے فارن ٹرینر کا تقرر بھی کیا جائے گا،ذرائع. فوٹو: فائل
نوجوان وکٹ کیپرز کی صلاحیتیں نکھارنے کیلیے پاکستان نے غیرملکی کوچ کے تقرر کا فیصلہ کر لیا، وہ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے فراہم کردہ10 پلیئرز کو ایک، ایک ماہ کے کیمپ میں تربیت دیا کرے گا۔
اسی طرح کھلاڑیوں کے متواتر انجری مسائل کی وجہ سے دورئہ جنوبی افریقہ کے بعد ٹیم کیلیے غیرملکی ٹرینر کا تقرر بھی کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے پاس ایک زمانے میں معین خان اور راشد لطیف جیسے بہترین وکٹ کیپرز موجود تھے تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے اس شعبے میں مشکلات کا سامنا ہے، اکمل برادران کے ساتھ سرفراز احمد کو آزمایا جاتا رہا مگر تینوں کی کارکردگی اوسط درجے کی ہی رہی ہے، مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے پی سی بی نے ایک منصوبہ تیار کر لیا، جس کے تحت کچھ عرصے بعد سلیکشن کمیٹی ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کھیل پیش کرنے والے 10 وکٹ کیپرز کا انتخاب کرے گی۔
ان کی تربیت کیلیے بیرون ملک سے کسی وکٹ کیپنگ کوچ کو بلایا جائے گا، وہ مستقل طور پر ذمہ داری تو انجام نہیں دے گا تاہم ایک، ایک ماہ کے چند کیمپ لگا کر نوجوانوں کی رہنمائی کرے گا۔ دریں اثنا پاکستانی بورڈ کھلاڑیوں کی متواتر انجریز سے بھی بیحد پریشان ہے، حالیہ دورئہ جنوبی افریقہ کے دوران بھی محمد عرفان، عمر گل، جنید خان، حارث سہیل اور توفیق عمر سمیت کئی کرکٹرز فٹنس مسائل کا شکار ہوئے، ذرائع کے مطابق بورڈ کا خیال ہے کہ معیاری ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے متواتر ایسا ہو رہا ہے۔
گذشتہ کافی عرصے سے قومی ٹیم کے ساتھ صبور احمد بطور ٹرینر وابستہ ہیں مگر ان کے دور میں کھلاڑیوں کی فٹنس میں کوئی نمایاں بہتری دکھائی نہیں دی، اسی وجہ سے اب غیر ملکی ٹرینر کو لانے کا فیصلہ کر لیا گیا، صبور سے قبل ڈیوڈ ڈائر پاکستانی ٹیم کے ساتھ منسلک تھے تاہم اب ان کی خدمات بنگلہ دیش نے حاصل کر لی ہیں، دورئہ جنوبی افریقہ کے بعد نئے ٹرینر کے حوالے سے کوئی فیصلہ متوقع ہے۔
اسی طرح کھلاڑیوں کے متواتر انجری مسائل کی وجہ سے دورئہ جنوبی افریقہ کے بعد ٹیم کیلیے غیرملکی ٹرینر کا تقرر بھی کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے پاس ایک زمانے میں معین خان اور راشد لطیف جیسے بہترین وکٹ کیپرز موجود تھے تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے اس شعبے میں مشکلات کا سامنا ہے، اکمل برادران کے ساتھ سرفراز احمد کو آزمایا جاتا رہا مگر تینوں کی کارکردگی اوسط درجے کی ہی رہی ہے، مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے پی سی بی نے ایک منصوبہ تیار کر لیا، جس کے تحت کچھ عرصے بعد سلیکشن کمیٹی ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کھیل پیش کرنے والے 10 وکٹ کیپرز کا انتخاب کرے گی۔
ان کی تربیت کیلیے بیرون ملک سے کسی وکٹ کیپنگ کوچ کو بلایا جائے گا، وہ مستقل طور پر ذمہ داری تو انجام نہیں دے گا تاہم ایک، ایک ماہ کے چند کیمپ لگا کر نوجوانوں کی رہنمائی کرے گا۔ دریں اثنا پاکستانی بورڈ کھلاڑیوں کی متواتر انجریز سے بھی بیحد پریشان ہے، حالیہ دورئہ جنوبی افریقہ کے دوران بھی محمد عرفان، عمر گل، جنید خان، حارث سہیل اور توفیق عمر سمیت کئی کرکٹرز فٹنس مسائل کا شکار ہوئے، ذرائع کے مطابق بورڈ کا خیال ہے کہ معیاری ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے متواتر ایسا ہو رہا ہے۔
گذشتہ کافی عرصے سے قومی ٹیم کے ساتھ صبور احمد بطور ٹرینر وابستہ ہیں مگر ان کے دور میں کھلاڑیوں کی فٹنس میں کوئی نمایاں بہتری دکھائی نہیں دی، اسی وجہ سے اب غیر ملکی ٹرینر کو لانے کا فیصلہ کر لیا گیا، صبور سے قبل ڈیوڈ ڈائر پاکستانی ٹیم کے ساتھ منسلک تھے تاہم اب ان کی خدمات بنگلہ دیش نے حاصل کر لی ہیں، دورئہ جنوبی افریقہ کے بعد نئے ٹرینر کے حوالے سے کوئی فیصلہ متوقع ہے۔