پاکستان کے بعد سری لنکنز بھارتی انتہا پسندوں کا ہدف بننے لگے

چنئی میں شیڈول میچز سے دور رکھا جاسکتا ہے، کرکٹرز ایسوسی ایشن نے عالمی نمائندہ تنظیم فیکا سے مدد مانگ لی۔

چنئی میں شیڈول میچز سے دور رکھا جاسکتا ہے، کرکٹرز ایسوسی ایشن نے عالمی نمائندہ تنظیم فیکا سے مدد مانگ لی۔ فوٹو فائل

انتہا پسند بھارتی پاکستان کے بعد سری لنکا کے پیچھے پڑگئے۔

تامل ناڈو میں سری لنکن باشندوں پر حملوں کے بعد آئی لینڈرز کی آئی پی ایل کے دوران سیکیورٹی اہمیت اختیار کرگئی، انھیں چنئی میں شیڈول میچز سے دور رکھا جاسکتا ہے، ادھر سری لنکن کرکٹرز ایسوسی ایشن نے فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن سے مدد مانگ لی۔ تفصیلات کے مطابق انتہا پسند باشندوں نے پاکستان کے بعد اب سری لنکا کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے۔

تامل ناڈو میں خاص طور پر آئی لینڈرز کیخلاف نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہاں پر دو سری لنکن باشندوں پر حملے بھی کیے گئے جس کیخلاف کولمبو میں بھی کافی غصہ پایا جاتا ہے۔ ان حالات میں تین اپریل سے شروع ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ میں سری لنکن کرکٹرز کی سیکیورٹی اہمیت اختیار کرگئی،ایونٹ میں سری لنکا کے 11 پلیئرز شامل اور ان میں سے کچھ چنئی سپر کنگز کا بھی حصہ ہیں جس کا ہیڈ کوارٹر تامل ناڈو میں ہے۔


ذرائع نے بتایاکہ آئی لینڈرز کی سیکیورٹی کا مسئلہ چنئی میں ہوسکتا ہے، وہاں پر 10 میچز کھیلے جائیں گے،کھلاڑیوں کو وہاں سے دور رکھا جا سکتا ہے، ایسی صورت میں سپرکنگز کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر کچھ ٹاپ پلیئرز کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی۔



ادھر سری لنکا کرکٹ ایسوسی ایشن نے فیکا کو خط لکھ دیا،اس میں اپنے کھلاڑیوں کی بھارت میں سیکیورٹی پر خدشات ظاہر کرنے کے ساتھ ان سے وہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے کی بھی درخواست کی گئی ہے، ایسوسی ایشن کے چیئرمین کین ڈی ایلویس کا کہنا ہے کہ ہم اب فیکا کے جواب کا انتظار کررہے ہیں۔ دوسری جانب آئی پی ایل کے چیئرمین راجیو شکلا کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں اور تمام میچز شیڈول کے مطابق اپنے وینیوز پر ہی ہوں گے، سری لنکا کے خدشات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس ایونٹ میں کوئی سری لنکا کی ٹیم شریک نہیں ہورہی بلکہ سب انفرادی حیثیت سے مختلف فرنچائزز میں کھیلیں گے، ہم ان کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دیں گے۔
Load Next Story