سفارش کلچر ویمنز کرکٹ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے لگا

مقامی ٹیموں سے قومی اسکواڈ کے انتخاب تک مختلف مراحل میں حق تلفی نے کئی باصلاحیت پلیئرز کو دلبرداشتہ کردیا.

مقامی ٹیموں سے قومی اسکواڈ کے انتخاب تک مختلف مراحل میں حق تلفی نے کئی باصلاحیت پلیئرز کو دلبرداشتہ کردیا، بااثر گروپس کے من پسند فیصلے جاری. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

سفارش کلچر پاکستانی ویمنز کرکٹ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے لگا۔

مقامی ٹیموں سے قومی اسکواڈ کے انتخاب تک مختلف مراحل میں حق تلفی نے کئی باصلاحیت پلیئرز کو دلبرداشتہ کردیا، چھوٹے بڑے بااثر گروپ من پسند فیصلوں سے میرٹ کا خون کرکے کھیل کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں سماجی اور ثقافتی ماحول کی وجہ سے خواتین کیلیے کھیلوں کے مواقع پہلے ہی بہت کم ہیں،ان حالات میں بھی میدانوں میں سرگرم نظر آنے والی پلیئرز حوصلہ افزائی کی مستحق مگر حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں، ویمن کرکٹ بھی سفارش کلچر کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے زوال پذیر ہوتی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈومیسٹک مقابلوں میں اولین سطح پر ہی میرٹ کو نظر انداز کرکے من پسند پلیئرز کو نوازا جاتاہے، ٹاپ پرفارمرز کی فہرستیں ضرور تیار ہوتی ہیں مگر ٹیم میں ایسی کرکٹرز کو شامل کرلیا جاتا ہے جن کا ذکر کہیں نہیں ہوتا ہے،ایک ریجنل کوچ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی کے بعد نئے ٹیلنٹ کی تلاش کیلیے اہم سمجھی جانے والی قومی چیمپئن شپ میں بھی ٹیموں کے انتخاب میں من مانے فیصلے کرائے گئے۔


 



بیٹنگ کنسلٹنٹ باسط علی کے کہنے پر لاہور کی نمرا ایمان کو ڈراپ کرکے فیصل آباد کی مریم شفیق کو شامل کرلیاگیا، ملتان کی بختاور نے 30رنز کے عوض 6وکٹوں سمیت بہترین پرفارمنس دکھائی مگر کیمپ میں بلانے کی زحمت بھی گوارا نہ کی گئی۔

ذرائع کے مطابق بعض پلیئرز کو قومی اے ٹیموں میں شامل کرکے بیرون ملک ٹورز کا شوق پورا کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، چند ایک تو قومی ٹیم کا حصہ بن کر بھی سیر سپاٹے کر چکی ہیں، معصومہ جاوید کو 5دورے کرائے گئے، قومی ویمنز ٹیم کی چند پلیئرز کا اثرورسوخ اتنا زیادہ ہے کہ مسلسل ناقص پرفارمنس کے باوجود انھیں ڈراپ کرکے نئی باصلاحیت کرکٹرز کو شامل کرنے کی جرات نہیں کی جا سکتی، ڈومیسٹک سطح پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھنے اور تصویریں بنوانے کیلیے مرضی کی ایسی امپائرز کا تقرر بھی کرایا جاتا ہے جو کھیل کے بنیادی قوانین سے بھی واقف نہیں ہوتیں۔
Load Next Story