سندھ حکومت 12ہزار نئے ملازمین 6ماہ سے تنخواہ سے محروم
بھرتی ہونے والے افرادکی تصدیق شدہ فہرست اے جی سندھ کو نہیں بھیجی گئی،ذرائع.
صرف محکمہ صحت اور تعلیم نے بھرتی ہونے والے ملازمین کی فہرست دی ہے. فوٹو: فائل
سندھ حکومت کے مختلف محکموں میں گریڈایک سے گریڈ 16 تک مختلف اسامیوں پر بھرتی ہونے والے12 ہزار سے زائد ملازمین کو تا حال 6 ماہ گزر جانے کے باوجود تنخواہیں نہیں مل سکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے پولیس، تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، خوراک، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ٹرانسپورٹ سمیت مختلف محکموں میں2012 سے لیکر19 جنوری2013 تک گریڈ ایک سے16 تک کی اسامیوں پر26 ہزار سے زائد ملازمین کو بھرتی کیا ، سب سے زیادہ بھرتیاں محکمہ تعلیم میں کی گئی ہیں۔
ان بھرتی ہونے والے ملازمین کو مختلف اسامیوں پر جوائننگ تو دے دی گئی تاہم ان ملازمین میں سے بڑی تعداد گذشتہ 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہے، ان ملازمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد بار اے جی سندھ میں تنخواہوں کے حصول کے لیے بل جمع کرائے تاہم ان بلز کو یہ کہہ کر واپس کردیا گیا کہ اب تک متعلقہ محکموں نے بھرتی ہونے والے ملازمین کی تصدیق شدہ فہرست انھیں نہیں بھیجی ہے۔
جس کی وجہ سے ان کو تنخواہیں جاری نہیں کی جاسکتی ہیں، اے جی سندھ کے ذرائع نے بتایا کہ محکمہ تعلیم، صحت سمیت مختلف محکموں نے گذشتہ 3 روز قبل بھرتی ہونے والے ملازمین کی تصدیق شدہ فہرست انھیں ارسال کی ہے، اس فہرست میں گذشتہ ایک سال کے دوران جن ملازمین کو بھرتی کیا گیا ہے، ان ملازمین کی تفصیلات موجود ہیں۔
اے جی سندھ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جن ملازمین کی تنخواہوں کے بل روک دیے گئے تھے، اب ان بھرتی ہونے ملازمین کے کوائف کی تصدیق متعلقہ فہرست جاری کی جارہی ہے اور کلیئرنس ہوتے ہی ان ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں بقایا جات ادا کردیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے پولیس، تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، خوراک، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ٹرانسپورٹ سمیت مختلف محکموں میں2012 سے لیکر19 جنوری2013 تک گریڈ ایک سے16 تک کی اسامیوں پر26 ہزار سے زائد ملازمین کو بھرتی کیا ، سب سے زیادہ بھرتیاں محکمہ تعلیم میں کی گئی ہیں۔
ان بھرتی ہونے والے ملازمین کو مختلف اسامیوں پر جوائننگ تو دے دی گئی تاہم ان ملازمین میں سے بڑی تعداد گذشتہ 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہے، ان ملازمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد بار اے جی سندھ میں تنخواہوں کے حصول کے لیے بل جمع کرائے تاہم ان بلز کو یہ کہہ کر واپس کردیا گیا کہ اب تک متعلقہ محکموں نے بھرتی ہونے والے ملازمین کی تصدیق شدہ فہرست انھیں نہیں بھیجی ہے۔
جس کی وجہ سے ان کو تنخواہیں جاری نہیں کی جاسکتی ہیں، اے جی سندھ کے ذرائع نے بتایا کہ محکمہ تعلیم، صحت سمیت مختلف محکموں نے گذشتہ 3 روز قبل بھرتی ہونے والے ملازمین کی تصدیق شدہ فہرست انھیں ارسال کی ہے، اس فہرست میں گذشتہ ایک سال کے دوران جن ملازمین کو بھرتی کیا گیا ہے، ان ملازمین کی تفصیلات موجود ہیں۔
اے جی سندھ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جن ملازمین کی تنخواہوں کے بل روک دیے گئے تھے، اب ان بھرتی ہونے ملازمین کے کوائف کی تصدیق متعلقہ فہرست جاری کی جارہی ہے اور کلیئرنس ہوتے ہی ان ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں بقایا جات ادا کردیے جائیں گے۔