یاد صدیقی اور اسرار حسین کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

شعرا کا بچھڑجانا ادبی نقصان ہے،خلاکسی صورت پر نہیں ہوسکتا،احمد شاہ

آرٹس کونسل میں یاد صدیقی اور اسرار حسین کے تعزیتی ریفرنس سے احمد شاہ خطاب کررہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

یادصدیقی کا ہم سے بچھڑ جانا ادب کا بڑانقصان ہے وہ ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ عظیم انسان بھی تھے۔

آرٹس کونسل میں معروف شاعریادصدیقی اوراسرارحسین کی یادمیں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احمد شاہ نے کہا کہ یاد صدیقی کے اشعار میں زمانے کے دکھ واضح دکھائی دیتے ہیں ۔


جبکہ اسرارحسین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اپنی نظموں میں اکثرمعاشرے کے مسائل بیان کرنے کی کوشش کرتے تھے ان دونوں شعرا کا خلاکسی صورت بھی پر نہیں کیا جاسکتا۔



اس موقع پر معروف شاعر صابرظفر کا کہنا تھا کہ یادصدیقی اور اسرارحسین میرے دیرینہ دوست تھے، مرحوم یاد صدیقی کے صاحبزادے ذیشان صدیقی نے کہا کہ یادصدیقی ہر رشتے میں خود کو دل میں اتارنے کا ہنرجانتے تھے اوریہی وجہ ہے کہ آج کی تقریب میں لوگوں کی اتنی بڑیتعداد موجود ہے،مرحوم اسرارحسین کے بھائی زیب اذکار حسین نے کہا کہ اسرارکے چلے جانے سے ایسا لگتا ہے کہ میرے جسم سے جان چلی گئی ہو،مرحوم یادصدیقی اور اسرارحسین کی شاعری اور شخصیت پر شہنازنور،عمیرعلی انجم،فاضل جمیلی ،انجم رضوی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
Load Next Story