پاک امریکا تعلقات میں بہتری کی ضرورت

امریکا نے پاکستان کو 15سال میں احمقانہ طور پر33 ارب ڈالر امداد دی,امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا نے پاکستان کو 15سال میں احمقانہ طور پر33 ارب ڈالر امداد دی,امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، فوٹو: فائل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے ایسی فوج کا چیف ہوں جس کے جوان اس ملک کے لیے ہروقت اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، میں ان قوتوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں جو ملک کے باہر سے پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہیں، آپ دیکھ لیں ہمارے پاس ایسے والدین اور ایسے بچے موجود ہیں، ان کی موجودگی میں کوئی بھی اس ملک کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے شمالی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا' پاک افغان سرحد میں حال ہی میں تیار کیے گئے قلعوں اور نصب کی گئی باڑ کا جائزہ لیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مختلف ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے وقار پر سمجھوتا نہیں کرے گا اور امریکی صدر کے بیان پر قومی رد عمل خوش آیند ہے، امریکا کو دیکھنا چاہیے کہ ہمارے درمیان غلط فہمیوں سے افغانستان سمیت خطے کے امن پر منفی اثر پڑسکتا ہے جب کہ بھارت سے درپیش مسائل کے حل کے بغیر خطے میں امن مشکل ہے، امریکا نے اگر کوئی ایکشن لیا تو اس کا جواب قومی اور عوامی امنگوں کے مطابق دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا اب بھی دوست ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے جب کہ ہم امریکا سے تعاون کر رہے اور کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ایچ آر مک ماسٹر نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان بعض دہشت گرد گروہوں کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک جزو کے طور پر استعمال کر رہا ہے جب کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے کہا ہے کہ پاکستان سے نئے مطالبات کا اعلان 24سے 48 گھنٹوں میں کیاجائے گا۔ امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مک ماسٹر نے کہا کہ پاکستان بدستور دہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہا ہے اور اس نے اپنی حدود میں دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی نہیں کی۔انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان سے متعلق حالیہ ٹویٹ پاکستان کے اس رویے کے بارے صدر کی مایوسی کا اظہار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دھمکیوں سے اپنے نئے سال کاآغاز کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا نے پاکستان کو 15سال میں احمقانہ طور پر33 ارب ڈالر امداد دی جب کہ پاکستان نے اس امداد کے بدلے ہمیں جھوٹ اوردھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا، اس نے ہماری قیادت کو بے وقوف سمجھا' امریکا جن دہشت گردوں کا افغانستان میں تعاقب کرتا ہے، انھیں پکڑنے میں پاکستان نہ ہونے کے برابر مدد کرتا ہے، بلکہ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتاہے، لیکن اب ایسا نہیں چلے گا۔


پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر امریکی سفیر کو دفتر خاجہ طلب کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔ امریکی صدر کے پاکستان مخالف ٹویٹ نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ملکی سلامتی کے حوالے سے کوئی مناسب لائحہ عمل طے کیا جائے۔ اس سلسلے میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں امریکی صدر کے بیان پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان امریکی صدر کے غیرذمے دارانہ الزامات کے باوجود جلد بازی میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گا' پاکستان کو افغانستان میں مشترکہ ناکامی کا ذمے دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکی صدر پاکستان سے 33ارب ڈالر کا حساب مانگ رہے ہیں اگر بات حساب کتاب تک پہنچی تو یہ بہت دور تک چلی جائے گی۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ میں 70ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا اور اس سلسلے میں اس کی معیشت اور اقتصادیات کو پہنچنے والا نقصان 33ارب ڈالر سے کئی گنا زیادہ ہے۔ امریکا نے جو امداد دی وہ افغانستان جنگ کے لیے دی' اس نے پاکستان پر کوئی احسان نہیں کیا' اس نے جو امداد دی پاکستان نے اس سے بڑھ کر اس سے تعاون کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکا کی جانب سے خرچ کیے گئے ایک کھرب ڈالر کا نتیجہ سب کو معلوم ہے۔ امریکا پاکستان کو دی جانے والی امداد کا ذکر کر رہا ہے وہ افغانستان میں خرچ کی گئی اس سے کئی گنا زائد رقم کا بھی ذکر کرے کہ اس کے بدلے میں افغان حکومت نے اسے کیا دیا۔

افغان حکومت اربوں ڈالر امریکی امداد لینے کے باوجود آج بھی اس قابل نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے شانہ بشانہ شریک ہو سکے جب کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں اور آج بھی وہ دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کر رہا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کا اعتراف امریکا عالمی سطح پر کر چکا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ رویے کے باوجود جلد بازی کے بجائے صبر و تحمل اور دانشمندی سے کام لیتے ہوئے مناسب اور قابل قبول حل تلاش کیا جائے۔ اس سلسلے میں ماہرین کی متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں' ایک گروپ کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جب کہ دوسرے گروپ کی رائے ہے کہ پاکستان امریکا کے معاملات جلد بہتر ہو جائیں گے۔
Load Next Story