گنے کے کاشتکاروں کے مسائل اور احتجاجی مظاہرے

بااثر افراد کی شوگر ملیں ہونے اور کاشتکاروں کو فروخت کے لیے پابند کرنا ہی مسئلے کی ابتدا بنا ہے

بااثر افراد کی شوگر ملیں ہونے اور کاشتکاروں کو فروخت کے لیے پابند کرنا ہی مسئلے کی ابتدا بنا ہے۔فوٹو: فائل

سندھ میں گنے کے کاشتکاروں کے مسائل پر احتجاج کا دائرہ کار بڑھتا جا رہا ہے لیکن حکومتی بے حسی و بے پرواہی عروج پر ہے، حقیقت تو یہی ہے کہ گنے کے بحران کی شدت بڑھنے کے باوجود اس کے حل کے لیے حکومتی سطح پر صائب کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ لاحاصل بلیم گیم اور بیان بازی کے ذریعے معاملہ کو نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کس قدر شرمناک صورتحال ہے کہ ان پڑھ محنت کش کسانوں کا استحصال ریاستی سطح پر کیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس میں کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرکے ملک میں معاشی استحکام قائم کیا جا سکتا ہے۔


اس حقیقت سے کون ناواقف ہے کہ پاکستان میں زرعی پالیسیاں مفادات کی نذر ہو چکی ہیں۔ گنا کاشتکاروں کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ براہ راست مارکیٹ میں اپنی فصل فروخت نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں جہاں کرپشن نے دیگر اداروں کا دامن پکڑا ہوا ہے وہیں زراعت بھی اس سے محفوظ نہیں۔ بااثر افراد کی شوگر ملیں ہونے اور کاشتکاروں کو فروخت کے لیے پابند کرنا ہی مسئلے کی ابتدا بنا ہے، اس پر مستزاد فصل پر آنے والی لاگت اور حکومت کی جانب سے سبسڈی نہ ہونے کے باعث کاشتکار ویسے ہی مالی بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ صوبائی حکومت کا وفاق پر سبسڈی نہ دینے کا الزام غلط ہے، صائب تو یہ ہوتا کہ وفاقی و صوبائی حکومت دونوں کاشتکاروں کو ریلیف فراہم کرتیں جب کہ ہو اس کے برعکس رہا ہے۔ اور اب کاشتکاروں سے اظہار یکجہتی کے لیے مختلف سیاسی و سماجی تنظیمیں بھی سامنے آگئی ہیں۔

گزشتہ روز کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالی گئی لیکن پولیس کی جانب سے شرکا کو وزیراعلیٰ ہاؤس جانے سے روکنے اور احتجاج پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اندھا دھند لاٹھی چارج، شیلنگ اور واٹر کینن کے استعمال سے میٹروپول کا علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ یہ طرز عمل کسی طور مناسب نہیں۔ پرامن احتجاج عوام کا جمہوری حق ہے۔ صائب ہو گا کہ حکومت گنا کاشتکاروں کے مسائل سے پہلوتہی برتنے کے بجائے راست حل کی جانب پیش قدمی کرے۔
Load Next Story