جمہوریت کے تسلسل کی خواہش

جو سیاستدان جمہوریت کے تسلسل کو ملک کے مستقبل سے جوڑتے ہیں کیا وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ہمارے ملک کے سیاستدان فرماتے ہیں کہ ملک میں جمہوری نظام تسلسل سے جاری رہنا چاہیے اور پارلیمنٹ کی بالادستی برقرار رہنی چاہیے۔ سیاستدانوں کی یہ دونوں خواہشیں جمہوری اصولوں اور جمہوری اقدار کے عین مطابق ہیں ملک کا کوئی ذی شعور شخص جمہوریت کے تسلسل اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی مخالفت نہیں کرسکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ جو سیاستدان جمہوریت کے تسلسل اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں کیا وہ جمہوریت کے مفہوم سے واقف ہوتے ہیں؟

جمہوریت کا ایک عمومی مطلب عوام کی حکومت عوام کے لیے،عوام کے ذریعے بتایا جاتا ہے۔جمہوریت میں انتخابات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور انتخابات کا مقصد عوام کی آزادانہ رائے سے اپنے نمایندے منتخب کرنا ہوتا ہے۔

اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ عوام کی حیثیت ہمارے جمہوری نظام میں سیاسی ہاریوں جیسی ہوتی ہے وہ اپنے اشرافیائی رہنماؤں کی مرضی کے مطابق انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ انتخابات میں ان کی آزاد مرضی کا دخل رسمی ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے سماجی نظام کی متعارف کردہ شخصیت پرستی ہی ہمارے انتخابی نظام میں بنیادی محرک کی حیثیت رکھتی ہے۔

منتخب پرستی جاگیردارانہ نظام کی پھیلائی ہوئی وہ لعنت ہے جس نے جمہوریت کے مفہوم کو ہی آبرو باختہ کرکے رکھ دیا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا میڈیا شخصیت پرستی کی لعنت کو ختم کرنے میں ایک موثر کردار ادا کرنے کے بجائے شخصیت پرستی کو مضبوط و مستحکم کرنے کا کردار ادا کررہا ہے۔

ہمارے ملک میں اکثریت غریب طبقات پر مشتمل ہے جن میں کسانوں اور مزدوروں کا شمار اس لیے اکثریتی طبقات میں ہوتا ہے کہ یہ دونوں طبقات اپنی تعداد کے حوالے سے دیگر طبقات کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ ایک عام اندازے کے مطابق مزدوروں کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ کے لگ بھگ ہے جب کہ کسانوں اور ہاریوں کی تعداد دیہی آبادی کے 60 فی صد حصے سے زیادہ ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سیاستدان جمہوریت کے تسلسل کو ملک کے مستقبل سے جوڑتے ہیں کیا وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ ہماری جمہوریت 2 فی صد سے کم اشرافیہ پر مشتمل ہے یہی طبقہ جمہوریت کا روح رواں اور سرپرست اعلیٰ ہے۔ اشرافیہ خاص طور پر برسر اقتدار اشرافیہ نے جمہوریت کو ایک ایسی انڈسٹری میں بدل کر رکھ دیا ہے جس میں کی جانے والی سرمایہ کاری دوسری صنعتوں کے مقابلے میں بے پناہ منافع بخش ہے، اس انڈسٹری کی اس منافع بخشی نے اشرافیہ کو یہ ترغیب فراہم کی ہے کہ وہ اس انڈسٹری میں بھاری سرمایہ کاری کرے۔


جمہوریت میں سرمایہ کاری کے مختلف طریقے ہیں لیکن اصل سرمایہ کاری انتخابات میں کی جاتی ہے کیونکہ اس سرمایہ کاری کے ذریعے اقتدارکا حصول ممکن ہوجاتا ہے اور اقتدار کا مطلب اربوں کھربوں کی دولت کا حصول ہے آج ملک میں دولت پر قبضوں کی جو داستانیں میڈیا سے عدالتوں تک پھیلی ہوئی ہیں وہ اسی جمہوریت کی عنایت ہیں۔اخبارات میں شایع ہونے والی ایک تین کالمی خبر کے مطابق حکومت نے پچھلے چھ ماہ کے اندر ترقیاتی اخراجات کے نام پر ارکان پارلیمنٹ میں 54 ارب روپے تقسیم کردیے ہیں۔

یہ تقسیم آنے والے 2018ء کے انتخابات میں کامیابی کے حصول کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ 54 ارب کی رقم بلاشبہ ایک بہت بڑی رقم ہوتی ہے لیکن یہ اس بھاری رقم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو ترقیاتی اخراجات کے نام پر انتخابات میں کامیابی کے حصول کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔ اس حقیقت سے اہل علم اچھی طرح واقف ہیں کہ اقتداری اشرافیہ اپنے طبقاتی اور اقتداری مفادات کے لیے جو بھاری یعنی اربوں کی رقم خرچ کرتی ہے وہ عوام کی محنت کی کمائی ہوتی ہے جو ترقیاتی اخراجات کے نام پر حصول اقتدار کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔

یہ حقیقت بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ منتخب ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ترقیاتی کاموں کے نام پر جو کروڑوں کے فنڈز دیے جاتے ہیں ۔اس کا استعمال کس طرح ہوتا ہے اس بے انتہا منافع بخش انڈسٹری میں دولت تو عوام کی ترقی کے نام پر دی جاتی ہے لیکن یہ ایک اوپن سیکریٹ ہے کہ ترقی کے نام پر حاصل کیے جانے والے یہ اربوں روپے اشرافیہ اور اس کے حواری ہڑپ کرجاتے ہیں اور بے چاری 90 فی صد سے زیادہ اکثریت دو وقت کی روٹی کے لیے محتاج رہتی ہے۔ یہ سارا کھیل جمہوریت کے نام پر کھیلاجاتا ہے کیا جمہوریت کے تسلسل کے مخلص خواہش مند جمہوریت کے اس اشرافیائی کھیل سے ناواقف ہیں؟

ترقیاتی کاموں کے نام پر قومی خزانے ہی سے اربوں روپوں کی لوٹ مار نہیں ہوتی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ملکوں سے امداد اور قرضوں کے نام پر جو اربوں روپے حاصل کیے جاتے ہیں وہ کس طرح خرچ کیے جاتے ہیں ان کی مانیٹرنگ کا کوئی قابل اعتماد نظام موجود نہیں۔ جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کو ایک محترم ادارہ سمجھاجاتا ہے کیونکہ پارلیمنٹ میں عوام کے منتخب نمایندے موجود ہوتے ہیں لیکن اشرافیائی جمہوریت میں منتخب ارکان کرپشن میں جس طرح ملوث ہوتے ہیں اس کا اندازہ پسماندہ ملکوں کے منتخب نمایندوں کے کردار سے لگایا جاسکتا ہے۔

جب تک جمہوریت جمہوری اکابرین کی تعریف کے مطابق، عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے کے معیار پر پوری نہیں اترتی اس وقت تک جمہوریت کے تسلسل کی خواہش کا مطلب کرپشن کے تسلسل کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے؟ ہمارا ملک 70 سال سے اشرافیہ کے پنجوں میں جس طرح جکڑا ہوا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے اس ملک اور اس ملک کی جمہوریت کو اشرافیہ کے قبضے سے آزاد کیا جائے، اس وقت تک جمہوریت نہ عوامی ہوسکتی ہے نہ قابل احترام ہوتی ہے۔

ہمارے وہ اکابرین جو جمہوریت کے تسلسل کی مخلصانہ خواہش کا اظہار کررہے ہیں ان کی قومی اور اخلاقی ذمے داری ہے کہ وہ جمہوریت کو حقیقی معنوں میں عوامی جمہوریت بنائیں پھر اس کے تسلسل اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی خواہش کا اظہار کریں تو یہ قوم و ملک اور عوام کے مفادات کے مطابق خواہش ہوگی۔
Load Next Story