157 جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ تیر کا نشان کس کو ملے گا فیصلہ25مارچ تک موخر
ن لیگ شیر،تحریک انصاف بلا، ق لیگ سائیکل، متحدہ پتنگ، اے پی ایم ایل کو عقاب، جے یوآئی ف کتاب،اے این پی کو لالٹین مل گیا
بھٹوکاجانشین ذوالفقارجونیئرہے،پی پی (ش ب)،حقیقی کارکن ہیں،ناہیدخان،اصل وارث ہم ہیں،بدر،الیکشن کمیشن نے ریکارڈمانگ لیا فوٹو: ایکسپریس/فائل
الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کوانتخابی نشانات الاٹ کر دیے،فیصلہ چیف الیکشن کمشنرجسٹس (ر)فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں منعقدہ خصوصی اجلاس میں کیاگیا۔
230رجسٹرسیاسی جماعتوںمیں سے157جماعتیں انتخابی نشان حاصل کرنے کیلیے اہل قرار دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن شیر،مسلم لیگ ق سائیکل ،اے این پی لالٹین، ایم کیو ایم پتنگ،جے یو ائی ف کتاب،تحریک انصاف بلا،تحریک تحفظ پاکستان میزائل،مسلم لیگ فنگشنل کوپھول،شہیدبھٹوگروپ کومکا،نیشنل پیپلزپارٹی ٹریکٹر،پاک مسلم الائنس مچھلی، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی چھتری، پاکستان غریب پارٹی کرسی، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی درخت ،بی این پی عوامی اونٹ،تعمیر پاکستان پارٹی کوہتھوڑا اور پاکستان اتحاد تحریک کوتتلی کا نشان الاٹ کیا گیا۔
جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق ملکیت پر تنازع طے نہ ہوسکا،پیپلزپارٹی کانام اور انتخابی نشان کون استعمال کریگا اس کا فیصلہ25 مارچ کو ہوگا۔ منگل کوچیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے3 گروپوں ناہید خان، جہانگیربدر اور غنوی بھٹو کی طرف سے حق ملکیت اور رجسٹریشن کے تنازع پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ 25 مارچ تک موخر کر دیاگیا، پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی غنوی بھٹو کی طرف سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام حسین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کیساتھ ہمارا خاندانی تعلق ہے اور پیپلز پارٹی ہماری وراثت ہے۔
بھٹو خاندان کے تمام ورثاء غنوی بھٹو کے گھر میں پرورش پا رہے ہیں اور پارٹی ان کے خاندان کی پارٹی ہے، ذوالفقار علی بھٹو سینئر کاپوتا ذوالفقار علی بھٹو جونیئر پاکستان پیپلز پارٹی کاحقیقی وارث ہے، لہٰذاپیپلز پارٹی کا نام اور انتخابی نشان تلوار ہمیں الاٹ کیا جائے،جہانگیر بدرنے کہاکہ موجودہ پیپلز پارٹی کے اصل وارث ہم ہیں،2002ء میں ہماری پارٹی رجسٹرڈ نہیں تھی اس لیے ہمیں پی پی پی پارلیمنٹرینزکے نام سے پارٹی رجسٹرڈکروانی پڑی، ناہیدخان نے کہا کہ ہم ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کے حقیقی کارکن ہیں۔
ہمیں تلوارکانشان دیا جائے، سماعت کے بعد چیف الیکشن کمشنرجسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے حوالے سے فیصلہ25 مارچ کو کیا جائیگا ۔ منگل کو الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق کراچی کی ووٹر فہرستوںکی اسکروٹنی کے بعد معلوم ہوگاکہ پرانی اور نئی فہرستوں میں کیا تضاد ہے۔
230رجسٹرسیاسی جماعتوںمیں سے157جماعتیں انتخابی نشان حاصل کرنے کیلیے اہل قرار دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن شیر،مسلم لیگ ق سائیکل ،اے این پی لالٹین، ایم کیو ایم پتنگ،جے یو ائی ف کتاب،تحریک انصاف بلا،تحریک تحفظ پاکستان میزائل،مسلم لیگ فنگشنل کوپھول،شہیدبھٹوگروپ کومکا،نیشنل پیپلزپارٹی ٹریکٹر،پاک مسلم الائنس مچھلی، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی چھتری، پاکستان غریب پارٹی کرسی، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی درخت ،بی این پی عوامی اونٹ،تعمیر پاکستان پارٹی کوہتھوڑا اور پاکستان اتحاد تحریک کوتتلی کا نشان الاٹ کیا گیا۔
جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق ملکیت پر تنازع طے نہ ہوسکا،پیپلزپارٹی کانام اور انتخابی نشان کون استعمال کریگا اس کا فیصلہ25 مارچ کو ہوگا۔ منگل کوچیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے3 گروپوں ناہید خان، جہانگیربدر اور غنوی بھٹو کی طرف سے حق ملکیت اور رجسٹریشن کے تنازع پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ 25 مارچ تک موخر کر دیاگیا، پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی غنوی بھٹو کی طرف سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام حسین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کیساتھ ہمارا خاندانی تعلق ہے اور پیپلز پارٹی ہماری وراثت ہے۔
بھٹو خاندان کے تمام ورثاء غنوی بھٹو کے گھر میں پرورش پا رہے ہیں اور پارٹی ان کے خاندان کی پارٹی ہے، ذوالفقار علی بھٹو سینئر کاپوتا ذوالفقار علی بھٹو جونیئر پاکستان پیپلز پارٹی کاحقیقی وارث ہے، لہٰذاپیپلز پارٹی کا نام اور انتخابی نشان تلوار ہمیں الاٹ کیا جائے،جہانگیر بدرنے کہاکہ موجودہ پیپلز پارٹی کے اصل وارث ہم ہیں،2002ء میں ہماری پارٹی رجسٹرڈ نہیں تھی اس لیے ہمیں پی پی پی پارلیمنٹرینزکے نام سے پارٹی رجسٹرڈکروانی پڑی، ناہیدخان نے کہا کہ ہم ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کے حقیقی کارکن ہیں۔
ہمیں تلوارکانشان دیا جائے، سماعت کے بعد چیف الیکشن کمشنرجسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے حوالے سے فیصلہ25 مارچ کو کیا جائیگا ۔ منگل کو الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق کراچی کی ووٹر فہرستوںکی اسکروٹنی کے بعد معلوم ہوگاکہ پرانی اور نئی فہرستوں میں کیا تضاد ہے۔