سیٹ ایڈجسٹمنٹ رہنما توڑنے پر ق لیگ نے پی پی سے مذاکرات معطل کر دیے
منظور وٹو سے نہیں ملوں گا، پرویزالٰہی ، ہمارے ارکان کو پی پی میں شامل کیا جارہا ہے
منظور وٹو سے نہیں ملوں گا، پرویزالٰہی ، ہمارے ارکان کو پی پی میں شامل کیا جارہا ہے، ق لیگ ،صدر نے چوہدری برادران کواسلام آباد بلالیا فوٹو: فائل
لاہور:
ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلیے مذاکرات ایک بار پھرتعطل کا شکار ہوگئے ہیں اورچوہدری پرویزالٰہی نے پی پی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
تحفظات دور ہونے تک سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلیے مزید مذاکرات نہیں کیے جائیں گے، اس صورتحال پر صدر زرداری نے چوہدری برادران کو ملاقات کیلیے لاہور سے اسلام آباد بلالیا۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی صدر سے ملاقات بدھ کو متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق طے شدہ شیڈول کے مطابق (ق) لیگ اور پی پی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلیے بنائی گئی کمیٹی کے درمیان مذاکرات منگل کو ہونے تھے تاہم کئی دنوں سے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو اوردیگر رہنماؤں کی طرف سے (ق) لیگ کے 3 اہم رہنماؤں خواجا شیراز، بہادر خان سیہڑ اور رانا آصف توصیف کو (ق) لیگ کے بجائے پیپلزپارٹی کا ٹکٹ دینے کیلیے مذاکرات کی اطلاع پر چوہدری برادران نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور اس صورتحال سے ایوان صدر کو بھی آگاہ کیا گیا۔
منگل کو میاں منظور وٹو نے چوہدری پرویز الٰہی اور راجا بشارت سے ملاقات کرنی تھی لیکن انھیں آگاہ کیا گیا کہ ق لیگ کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، پی پی سے مزید مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق منگل کو گورنر ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے مذاکرات کا ایک دور منعقد ہوا۔
پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ، منظور وٹو، نذرمحمدگوندل، (ق) لیگ کے راجا بشارت، چوہدری ظہیر الدین اور طارق بشیرچیمہ موجود تھے۔ تاہم اجلاس کے آغاز میں ہی ق لیگ کے رہنماؤں نے پنجاب اور سندھ سے ق لیگ کے اراکین اسمبلی کو پیپلز پارٹی میں شامل کرنے پرشدید احتجاج اور ناراضی کا اظہارکیا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ (ق) لیگ کے ساتھ اتحاد برقرار رہے گا اور ان کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی ڈیڈ لاک نہیں ق لیگ ہمیں دوسری جماعتوں سے رابطے نہ کرنے کیلیے پابند نہیں کر سکتی۔
ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلیے مذاکرات ایک بار پھرتعطل کا شکار ہوگئے ہیں اورچوہدری پرویزالٰہی نے پی پی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
تحفظات دور ہونے تک سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلیے مزید مذاکرات نہیں کیے جائیں گے، اس صورتحال پر صدر زرداری نے چوہدری برادران کو ملاقات کیلیے لاہور سے اسلام آباد بلالیا۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی صدر سے ملاقات بدھ کو متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق طے شدہ شیڈول کے مطابق (ق) لیگ اور پی پی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلیے بنائی گئی کمیٹی کے درمیان مذاکرات منگل کو ہونے تھے تاہم کئی دنوں سے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو اوردیگر رہنماؤں کی طرف سے (ق) لیگ کے 3 اہم رہنماؤں خواجا شیراز، بہادر خان سیہڑ اور رانا آصف توصیف کو (ق) لیگ کے بجائے پیپلزپارٹی کا ٹکٹ دینے کیلیے مذاکرات کی اطلاع پر چوہدری برادران نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور اس صورتحال سے ایوان صدر کو بھی آگاہ کیا گیا۔
منگل کو میاں منظور وٹو نے چوہدری پرویز الٰہی اور راجا بشارت سے ملاقات کرنی تھی لیکن انھیں آگاہ کیا گیا کہ ق لیگ کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، پی پی سے مزید مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق منگل کو گورنر ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے مذاکرات کا ایک دور منعقد ہوا۔
پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ، منظور وٹو، نذرمحمدگوندل، (ق) لیگ کے راجا بشارت، چوہدری ظہیر الدین اور طارق بشیرچیمہ موجود تھے۔ تاہم اجلاس کے آغاز میں ہی ق لیگ کے رہنماؤں نے پنجاب اور سندھ سے ق لیگ کے اراکین اسمبلی کو پیپلز پارٹی میں شامل کرنے پرشدید احتجاج اور ناراضی کا اظہارکیا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ (ق) لیگ کے ساتھ اتحاد برقرار رہے گا اور ان کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی ڈیڈ لاک نہیں ق لیگ ہمیں دوسری جماعتوں سے رابطے نہ کرنے کیلیے پابند نہیں کر سکتی۔