اصغر خان ایک بے داغ سیاست دان کی رحلت
اصغر خان نے پیشہ ورانہ کردار کی بدولت پاک فضائیہ کوخطے اور دنیا کی طاقتور فضائی قوت بنادیا
اصغر خان نے پیشہ ورانہ کردار کی بدولت پاک فضائیہ کوخطے اور دنیا کی طاقتور فضائی قوت بنادیا۔ فوٹو: فائل
پاک فضائیہ کے سابق سربراہ اور ملک کے ممتاز سیاستدان اصغر خان انتقال کرگئے، ان کی عمر 96 سال تھی، وہ کافی عرصہ سے علیل تھے۔ ان کی موت سے ملک ایک محب وطن، بے داغ اپوزیشن لیڈر، صاحب نظر اور دور اندیش سیاست دان سے محروم ہوگیا۔ ان کی نماز جنازہ آج بروز ہفتہ ان کے آبائی علاقہ نواں شہر ایبٹ آباد میں ادا کی جائیگی اور وہیں انھیں سپرد خاک کیا جائیگا۔ وہ 1921ء میں جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے، ابتدا میں برٹش انڈین آرمی جوائن کی، جنگ عظیم دوم کے دوران منجھے ہوئے فائٹر پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ایئر چیف مارشل اصغر خان پاک فضائیہ کے پہلے کمانڈر انچیف تھے، انھوں نے 35 برس کی عمر میں فضائیہ کی کمان سنبھالی اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں موثر انتظامی اقدامات اور پیشہ ورانہ کردار کی بدولت ایک نوزائیدہ فضائیہ کوخطے اور دنیا کی طاقتور فضائی قوت بنادیا، بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے انکی رحلت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، جنرل باجوہ نے پاک فضائیہ کی مضبوط بنیاد رکھنے اور اسے جدید سہولتوں سے لیس کرنے کے تاریخی کردار پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
ایئر چیف مارشل سہیل امان نے اپنے پیغام میں مرحوم کی خدمات، مثالی انتظامی اور قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کی تعمیر اور تشکیل میں ان کا کردار کلیدی تھا۔ مرحوم پی آئی اے کے سربراہ کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ وہ تحریک استقلال کے بانی رہے، ان کی سیاسی جماعت بعد میں پی ٹی آئی میں ضم ہوئی، عمران خان نے مرحوم کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیاہے۔
اصغر خان کا شمار بلاشبہ ملکی سیاسی تاریخ کے ان اصول پسند رہنماؤں میں کیا جائیگا جو شرافت، شائستگی ، رواداری اور جمہوریت سے وفاداری بشرط استواری کے نہ صرف قائل تھے بلکہ انھوں نے 1970ء کے الیکشن اور1977ء کے بعد پیدا شدہ پُرآشوب سیاسی حالات میں اپنا سیاسی کیریئر بھی ایک نڈر، بے باک اور اصول پسند سیاست دان کی حیثیت سے یاد رکھا، ان کی سیاسی جدوجہد ایوبی آمریت کی آخری دہائی سے ابھری جب انھوں نے بھٹو کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں پی این اے کی سیاسی تحریک میں بھی وہ ہراول دستے میں شریک رہے۔اصغر خان نے اس وقت ملکی سیاست میں تہلکہ مچا دیا جب آئی جے آئی کے قیام اور سیاست دانوں میں14 کروڑ روپے کی خطیر رقوم کی تقسیم کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور 8 نومبر 2012ء کو سپریم کورٹ نے اس کیس کا تفصیلی فیصلہ سنادیا۔مرحوم ملکی سیاست میں شرافت کا پیکر تھے۔
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
ایئر چیف مارشل اصغر خان پاک فضائیہ کے پہلے کمانڈر انچیف تھے، انھوں نے 35 برس کی عمر میں فضائیہ کی کمان سنبھالی اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں موثر انتظامی اقدامات اور پیشہ ورانہ کردار کی بدولت ایک نوزائیدہ فضائیہ کوخطے اور دنیا کی طاقتور فضائی قوت بنادیا، بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے انکی رحلت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، جنرل باجوہ نے پاک فضائیہ کی مضبوط بنیاد رکھنے اور اسے جدید سہولتوں سے لیس کرنے کے تاریخی کردار پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
ایئر چیف مارشل سہیل امان نے اپنے پیغام میں مرحوم کی خدمات، مثالی انتظامی اور قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کی تعمیر اور تشکیل میں ان کا کردار کلیدی تھا۔ مرحوم پی آئی اے کے سربراہ کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ وہ تحریک استقلال کے بانی رہے، ان کی سیاسی جماعت بعد میں پی ٹی آئی میں ضم ہوئی، عمران خان نے مرحوم کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیاہے۔
اصغر خان کا شمار بلاشبہ ملکی سیاسی تاریخ کے ان اصول پسند رہنماؤں میں کیا جائیگا جو شرافت، شائستگی ، رواداری اور جمہوریت سے وفاداری بشرط استواری کے نہ صرف قائل تھے بلکہ انھوں نے 1970ء کے الیکشن اور1977ء کے بعد پیدا شدہ پُرآشوب سیاسی حالات میں اپنا سیاسی کیریئر بھی ایک نڈر، بے باک اور اصول پسند سیاست دان کی حیثیت سے یاد رکھا، ان کی سیاسی جدوجہد ایوبی آمریت کی آخری دہائی سے ابھری جب انھوں نے بھٹو کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں پی این اے کی سیاسی تحریک میں بھی وہ ہراول دستے میں شریک رہے۔اصغر خان نے اس وقت ملکی سیاست میں تہلکہ مچا دیا جب آئی جے آئی کے قیام اور سیاست دانوں میں14 کروڑ روپے کی خطیر رقوم کی تقسیم کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور 8 نومبر 2012ء کو سپریم کورٹ نے اس کیس کا تفصیلی فیصلہ سنادیا۔مرحوم ملکی سیاست میں شرافت کا پیکر تھے۔
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے