تحریک عدل اور ماڈل ٹاؤن
ملک کے وزیراعظم کا کیا اپنے بیٹے کی کمپنی میں ملک کے وزیراعظم رہتے ہوئے ملازمت کرنا درست اور اخلاقی ہے؟
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
جمہوری ملکوں میں سیاسی تحریکیں کوئی نئی بات ہے نہ حیرت انگیز بات، کیونکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہمیشہ اختلافات رہتے ہیں۔ اختلافات اگر زیادہ شدید نوعیت کے اور گمبھیر نہ ہوں تو بات چیت کے ذریعے حل کرلیے جاتے ہیں اور اگر اختلافات شدید اور سنگین نوعیت کے ہوں تو پھر اپوزیشن تحریکیں چلانے پر اتر آتی ہے اور عموماً تحریکوں کے فریق بھی حکومت اور اپوزیشن ہی ہوتے ہیں، لیکن پاکستان چونکہ اپنی ساخت ہی میں عجیب و غریب ملک ہے۔
لہٰذا یہاں سیاسی اختلافات اگر عجیب و غریب ہوں تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ ہم نے پاکستان کی ساخت کو عجیب و غریب اس لیے کہا ہے کہ 1971ء سے پہلے پاکستان کی جو ہیئت ترکیبی تھی وہ عجیب تھی۔ پاکستان دو حصوں یعنی مغربی اور مشرقی پر مشتمل تھا، دونوں حصے ایک دوسرے سے ایک ہزار میل سے زیادہ دوری پر واقع تھے اور سمندری اور فضائی کے علاوہ دونوں حصوں کو ملانے والا کوئی زمینی راستہ نہ تھا، اسی عجیب و غریب صورتحال نے پاکستان کے ٹوٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مغربی پاکستان مشرقی پاکستان سے کم آبادی والا حصہ تھا لیکن یہ بات بڑی دلچسپ تھی کہ کم آبادی والا حصہ زیادہ آبادی والے حصے پر بالادستی رکھتا تھا۔ جب 1971ء میں حالات خراب ہوئے تو مغربی پاکستان کے سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ اگر مشرقی پاکستان علیحدہ ہونا چاہے تو اسے علیحدہ ہونے دیا جائے، لیکن مشرقی پاکستان کی منتخب جماعت عوامی لیگ کو پاکستان کا اقتدار نہ دیا جائے، جو اس کا جمہوری حق تھا۔ اور المیہ یہ تھا کہ یہ سارا کھیل اقتدار پر بلا شرکت غیرے قبضے کا کھیل تھا، اور اس کھیل کے کھلاڑیوں نے اقتدار کی خاطر ملک کو توڑ دیا۔
موجودہ پاکستان ویسے تو ہمیشہ کسی نہ کسی بحران میں مبتلا رہتا ہے لیکن 2017ء میں پیدا ہونے والا بحران اس لیے خطرناک ہے کہ یہ بحران حکومت اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہوگیا ہے اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اس حوالے سے اپنے طرز کی عجیب و غریب تحریک ''تحریک عدل'' چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی ممبر شپ سے نااہل قرار دے دیا ہے اور یہ انتہائی کڑوی گولی میاں صاحب سے نگلی نہیں جارہی ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ میاں صاحب دنیا کو یہ بتارہے ہیں کہ انھیں بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کی وجہ سے نا اہل قرار دیاگیا ہے۔ بادی النظر میں تو بلاشبہ یہ الزام بہت بچگانہ اور عجیب نظر آتا ہے اور سننے والا نواز شریف سے اظہار ہمدردی کیے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ میاں صاحب دعویٰ کررہے ہیں کہ ان پر ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔
اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ میاں صاحب نے 300 ارب روپوں کی منی لانڈرنگ کی ہے۔ اگر اپوزیشن کا یہ الزام درست ہے تو پھر اسے عدالت میں ثابت کرنا چاہیے، ورنہ عوام میاں صاحب کے موقف کو درست ماننے پر مجبور ہوں گے۔ یہ درست ہے کہ میاں صاحب نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی اور تنخواہ نہ لینا کوئی جرم نہیں لیکن اپوزیشن کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ ایک بڑے ملک کے وزیراعظم کا کیا اپنے بیٹے کی کمپنی میں ملک کے وزیراعظم رہتے ہوئے ملازمت کرنا درست اور اخلاقی ہے؟ جب کہ بیٹے پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں اور بیٹے الزامات کی جوابدہی کے لیے تیار نہیں اور اپنی برطانوی شہریت کے حوالے سے لندن میں مقیم ہیں۔ داماد اور بیٹی کے خلاف بھی الزامات زیر سماعت ہیں۔
ہم ان الزامات اور عدالتوں میں زیر سماعت ریفرنسوں کو فی الوقت الگ رکھ کر میاں صاحب کی مبینہ تحریک کا نام خواہ کچھ بھی رکھا جائے، اس حقیقت سے دنیا واقف ہے کہ یہ تحریک اس فیصلے کے خلاف ہے جس میں سپریم کورٹ نے میاں صاحب کو وزارت عظمیٰ اور رکن قومی اسمبلی سے نا اہل قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو میاں صاحب نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ اپنے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے حکمران طبقہ صرف عدالت ہی کو نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کو بھی اس سازش میں شریک بتارہا ہے۔
یہ بات عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ عدلیہ اور فوج کس طرح ایک فرد واحد کے خلاف سازش کرسکتی ہے؟ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ پاناما لیکس نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے جو ہزاروں افراد کی فہرست دنیا کے سامنے پیش کی ہے اس میں میاں صاحب کے خاندان کو ملوث بتایا جارہا ہے۔ پاناما لیکس ایک مستند دستاویز کہی جاتی ہے، جس میں شامل اشرافیہ ٹیکس بچانے اور منی لانڈرنگ میں ملوث کہلارہی ہے۔
اس لیکس میں پاکستان ہی کے 435 افراد شامل ہیں بلکہ دنیا کے ہزاروں اشرافیائی طبقے کے لوگ شامل ہیں اور اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے اعلیٰ عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں سے اختلاف کیا جاتا ہے لیکن اس حوالے سے کوئی شخص اعلیٰ عدلیہ کے خلاف انتہائی توہین آمیز مہم چلاتا دکھائی نہیں دیتا، لیکن ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ اس مسئلے کو عدالتی فورم میں اٹھانے کے بجائے گلی محلے میں اٹھایا جارہا ہے۔
فرض کرلیا جاتا ہے کہ تحریک عدل درست ہے تو معترضین سب سے پہلے یہ سوال کررہے ہیں کہ انصاف کا اگر مطالبہ کیا جارہا ہے تو وہ ہمہ گیر ہو، اگر انصاف کا مطالبہ کسی ایک شخص یا اشخاص کے حوالے سے کیا جاتا ہے تو دنیا اسے خودغرضی کا نام دے گی۔
سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کیا ایک شخص کو نااہل قرار دینا بڑی ناانصافی ہے یا 14 بے گناہ کارکنوں کو قتل کرنا اور 100 سے زیادہ کارکنوں پر اندھادھند گولیاں چلوانا بڑی ناانصافی ہے۔ اگر 14 کارکنوں کا بہیمانہ قتل اور سو سے زیادہ بے گناہ افراد کو گولیاں مار کر شدید زخمی کرنا زیادہ بڑی ناانصافی ہے تو پھر میاں صاحب کی تحریک عدل کا پہلا مطالبہ ماڈل ٹاؤن کے قتل عام کے ملزمان کے خلاف کارروائی ہونا چاہیے، کیونکہ ایک شخص کی نااہلی کے مقابلے میں خواہ وہ ریاست کے کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز رہا ہو 14 بے گناہ افراد کا قتل عام اور سو سے زیادہ بے گناہ افراد پر اندھا دھند گولیاں چلاکر انھیں شدید زخمی کرنا زیادہ بڑا ظلم اور نا انصافی ہے۔
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے، میاں صاحب کا تعلق ملک کے سب سے بڑے صوبے سے ہے، 1971ء میں ہم نے آبادی کے حوالے سے سب سے بڑے صوبے کے ساتھ زیادتی کرکے ملک کو توڑ دیا اور اب تک اس غلطی پر پچھتا رہے ہیں، ماضی کے اس تلخ تجربے کی روشنی میں اقتدار کو ملکی سالمیت پر ترجیح دینا غلطی نہیں بلکہ ایسا جرم ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ کاش ہمارے حکمران اس المناک صورتحال کو غیر جانبداری کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے۔
لہٰذا یہاں سیاسی اختلافات اگر عجیب و غریب ہوں تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ ہم نے پاکستان کی ساخت کو عجیب و غریب اس لیے کہا ہے کہ 1971ء سے پہلے پاکستان کی جو ہیئت ترکیبی تھی وہ عجیب تھی۔ پاکستان دو حصوں یعنی مغربی اور مشرقی پر مشتمل تھا، دونوں حصے ایک دوسرے سے ایک ہزار میل سے زیادہ دوری پر واقع تھے اور سمندری اور فضائی کے علاوہ دونوں حصوں کو ملانے والا کوئی زمینی راستہ نہ تھا، اسی عجیب و غریب صورتحال نے پاکستان کے ٹوٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مغربی پاکستان مشرقی پاکستان سے کم آبادی والا حصہ تھا لیکن یہ بات بڑی دلچسپ تھی کہ کم آبادی والا حصہ زیادہ آبادی والے حصے پر بالادستی رکھتا تھا۔ جب 1971ء میں حالات خراب ہوئے تو مغربی پاکستان کے سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ اگر مشرقی پاکستان علیحدہ ہونا چاہے تو اسے علیحدہ ہونے دیا جائے، لیکن مشرقی پاکستان کی منتخب جماعت عوامی لیگ کو پاکستان کا اقتدار نہ دیا جائے، جو اس کا جمہوری حق تھا۔ اور المیہ یہ تھا کہ یہ سارا کھیل اقتدار پر بلا شرکت غیرے قبضے کا کھیل تھا، اور اس کھیل کے کھلاڑیوں نے اقتدار کی خاطر ملک کو توڑ دیا۔
موجودہ پاکستان ویسے تو ہمیشہ کسی نہ کسی بحران میں مبتلا رہتا ہے لیکن 2017ء میں پیدا ہونے والا بحران اس لیے خطرناک ہے کہ یہ بحران حکومت اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہوگیا ہے اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اس حوالے سے اپنے طرز کی عجیب و غریب تحریک ''تحریک عدل'' چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی ممبر شپ سے نااہل قرار دے دیا ہے اور یہ انتہائی کڑوی گولی میاں صاحب سے نگلی نہیں جارہی ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ میاں صاحب دنیا کو یہ بتارہے ہیں کہ انھیں بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کی وجہ سے نا اہل قرار دیاگیا ہے۔ بادی النظر میں تو بلاشبہ یہ الزام بہت بچگانہ اور عجیب نظر آتا ہے اور سننے والا نواز شریف سے اظہار ہمدردی کیے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ میاں صاحب دعویٰ کررہے ہیں کہ ان پر ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔
اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ میاں صاحب نے 300 ارب روپوں کی منی لانڈرنگ کی ہے۔ اگر اپوزیشن کا یہ الزام درست ہے تو پھر اسے عدالت میں ثابت کرنا چاہیے، ورنہ عوام میاں صاحب کے موقف کو درست ماننے پر مجبور ہوں گے۔ یہ درست ہے کہ میاں صاحب نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی اور تنخواہ نہ لینا کوئی جرم نہیں لیکن اپوزیشن کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ ایک بڑے ملک کے وزیراعظم کا کیا اپنے بیٹے کی کمپنی میں ملک کے وزیراعظم رہتے ہوئے ملازمت کرنا درست اور اخلاقی ہے؟ جب کہ بیٹے پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں اور بیٹے الزامات کی جوابدہی کے لیے تیار نہیں اور اپنی برطانوی شہریت کے حوالے سے لندن میں مقیم ہیں۔ داماد اور بیٹی کے خلاف بھی الزامات زیر سماعت ہیں۔
ہم ان الزامات اور عدالتوں میں زیر سماعت ریفرنسوں کو فی الوقت الگ رکھ کر میاں صاحب کی مبینہ تحریک کا نام خواہ کچھ بھی رکھا جائے، اس حقیقت سے دنیا واقف ہے کہ یہ تحریک اس فیصلے کے خلاف ہے جس میں سپریم کورٹ نے میاں صاحب کو وزارت عظمیٰ اور رکن قومی اسمبلی سے نا اہل قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو میاں صاحب نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ اپنے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے حکمران طبقہ صرف عدالت ہی کو نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کو بھی اس سازش میں شریک بتارہا ہے۔
یہ بات عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ عدلیہ اور فوج کس طرح ایک فرد واحد کے خلاف سازش کرسکتی ہے؟ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ پاناما لیکس نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے جو ہزاروں افراد کی فہرست دنیا کے سامنے پیش کی ہے اس میں میاں صاحب کے خاندان کو ملوث بتایا جارہا ہے۔ پاناما لیکس ایک مستند دستاویز کہی جاتی ہے، جس میں شامل اشرافیہ ٹیکس بچانے اور منی لانڈرنگ میں ملوث کہلارہی ہے۔
اس لیکس میں پاکستان ہی کے 435 افراد شامل ہیں بلکہ دنیا کے ہزاروں اشرافیائی طبقے کے لوگ شامل ہیں اور اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے اعلیٰ عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں سے اختلاف کیا جاتا ہے لیکن اس حوالے سے کوئی شخص اعلیٰ عدلیہ کے خلاف انتہائی توہین آمیز مہم چلاتا دکھائی نہیں دیتا، لیکن ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ اس مسئلے کو عدالتی فورم میں اٹھانے کے بجائے گلی محلے میں اٹھایا جارہا ہے۔
فرض کرلیا جاتا ہے کہ تحریک عدل درست ہے تو معترضین سب سے پہلے یہ سوال کررہے ہیں کہ انصاف کا اگر مطالبہ کیا جارہا ہے تو وہ ہمہ گیر ہو، اگر انصاف کا مطالبہ کسی ایک شخص یا اشخاص کے حوالے سے کیا جاتا ہے تو دنیا اسے خودغرضی کا نام دے گی۔
سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کیا ایک شخص کو نااہل قرار دینا بڑی ناانصافی ہے یا 14 بے گناہ کارکنوں کو قتل کرنا اور 100 سے زیادہ کارکنوں پر اندھادھند گولیاں چلوانا بڑی ناانصافی ہے۔ اگر 14 کارکنوں کا بہیمانہ قتل اور سو سے زیادہ بے گناہ افراد کو گولیاں مار کر شدید زخمی کرنا زیادہ بڑی ناانصافی ہے تو پھر میاں صاحب کی تحریک عدل کا پہلا مطالبہ ماڈل ٹاؤن کے قتل عام کے ملزمان کے خلاف کارروائی ہونا چاہیے، کیونکہ ایک شخص کی نااہلی کے مقابلے میں خواہ وہ ریاست کے کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز رہا ہو 14 بے گناہ افراد کا قتل عام اور سو سے زیادہ بے گناہ افراد پر اندھا دھند گولیاں چلاکر انھیں شدید زخمی کرنا زیادہ بڑا ظلم اور نا انصافی ہے۔
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے، میاں صاحب کا تعلق ملک کے سب سے بڑے صوبے سے ہے، 1971ء میں ہم نے آبادی کے حوالے سے سب سے بڑے صوبے کے ساتھ زیادتی کرکے ملک کو توڑ دیا اور اب تک اس غلطی پر پچھتا رہے ہیں، ماضی کے اس تلخ تجربے کی روشنی میں اقتدار کو ملکی سالمیت پر ترجیح دینا غلطی نہیں بلکہ ایسا جرم ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ کاش ہمارے حکمران اس المناک صورتحال کو غیر جانبداری کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے۔