بلوچستان میں جاری گیم ۔ سب کے لیے پیغام

مولانا فضل الرحمٰن کے لیے بھی یہ مشکل ہے کہ وہ اس موقع پر بلوچستان میں ن لیگ کی مدد کریں

msuherwardy@gmail.com

بلوچستان میں جاری گیم کوئی بے وقت کی راگنی نہیں ہے۔ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی کہ نہیں۔ اسی سوال کے جواب میں پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام کا مستقبل بھی پنہاں ہے۔ اگر تحریک عد م اعتماد ناکام ہو گئی تو نظام چلتا رہے گا۔ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو نظام کا بستر گول ہو سکتا ہے۔ بہر حال بلوچستان میں جو بھی ہو رہا ہے اس کے اثرات پورے ملک میں نظر آئیں گے۔ ن لیگ کے اندر جو ٹوٹ پھوٹ بلوچستان میں نظر آرہی ہے وہ پہلی قسط ہے۔ اگر نواز شریف نے حالات کی نزاکت کا اندازہ نہیں لگایا تو معاملات بلوچستان سے باہر آجائیں گے۔

یہ کہناغلط نہ ہو گا کہ نواز شریف کی محمود خان اچکزئی سے بے پناہ محبت نے ہی ان کے لیے مسائل پیدا کر دئے ہیں۔ اچکزئی کی محبت نے ان کے اپنے ارکان کو سوتیلے ہونے کی feelingدے دی ہے۔ بغاوت تو ن لیگ کے اندر ہوئی ہے اور اس کی ایک ہی وجہ سامنے آرہی ہے کہ ن لیگ اچکزئی کے ہاتھوں میں یرغمال ہو گئی ہے۔ بے شک اچکزئی نے کوئٹہ میں نواز شریف کا ایک بڑا جلسہ کروایا ہے۔ لیکن اس ایک جلسہ کے عوض اچکزئی صاحب جو کچھ لے رہے ہیں، وہ بہت زیادہ ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ سارے فنڈز ہی اچکزئی کی جماعت لے اڑی ہے اور ن لیگ کے اپنے ارکان کو کچھ نہیں مل رہا ہے۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے کے مصداق ن لیگ کی حکومت کو آگ لگ گئی ہے ن لیگ کے ارکان سے ہی۔ روزانہ استعفے آرہے ہیں۔ ارکان وزارتوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ کچھ استعفیٰ دے رہے ہیں اور کچھ کو نواب زہری نکال رہے ہیں۔لیکن استعفوں کی رفتار بتا رہی ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ معاملات نواب زہری کے کنٹرول سے باہر ہو رہے ہیں۔ ان کے بچنے کا ایک ہی اقدام ہے کہ اگر ان کو بیرونی مدد سے بچالیا جائے۔ورنہ سکرپٹ تو ایسا لگ رہا ہے کہ ان کا جانا ٹھہر رہا ہے۔

بلوچستان کی ن لیگ میں یہ بغاوت نئی نہیں ہے۔ سینیٹ کے گزشتہ انتخابات کے موقع پر جب پورے ملک میں ن لیگ کا طوطی بول رہا تھا تب بھی بلوچستان ن لیگ میں بغاوت نمایاں تھی۔ جان جمالی نے تب ہی بغاوت کر دی تھی۔ ن لیگ کے ٹکٹ کی بغاوت ہو گئی تھی۔ اس لیے یہ کوئی نئی بات نئی نہیں ہے۔اس کے بیج پرانے ہیں۔ اس لیے اگر دوست اس میں سے سکرپٹ ڈھونڈ رہے ہیں تو ایسا نہیں ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ انتخابات قریب آنے سے لوگوں کا صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا ہے۔ جن کو فنڈز نہیں مل رہے انھوں نے انتخابات میں جانا ہے۔ اس لیے شائد غلطی ثناء اللہ زہری سے بھی ہوئی ہے۔ وہ حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں کر سکے ہیں۔

صورتحال دلچسپ ہے۔ ابھی تک کسی کے پاس بھی ووٹ پورے نہیں ہیں۔ کوئی بھی اکثریت ثابت کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آرہا۔ اگر جناب زہری کے پاس ووٹ پورے نہیں ہیں تو ان کے مخالفین بھی ابھی تک ووٹ پورے نہیں کر سکے ہیں۔ن لیگ میں کتنی بغاوت ہے یہ بھی ابھی واضع نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو اگلی حکومت مولانا فضل الرحمٰن کی مرضی سے ہی بنے گی لیکن وزارت اعلیٰ کے لیے تھوتانی کا نام سامنے آرہا ہے۔ لیکن ووٹ ان کے پاس بھی پورے نہیں ہیں۔

ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی کے پاس ووٹ پورے نہ ہوں، تو پھر کیا ہو گا۔ پھر اسمبلی کا بستر گول ہو سکتا ہے۔ صرف اسی صورت میں نظام کو خطرہ ہے۔ اگر اس موقع پر بلوچستان اسمبلی ٹوٹ جاتی ہے تو پھر سینیٹ کے انتخابات خطرے میں پڑ جائیں گے۔ پھر سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ وہ درست ہو جائیں گے۔


لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کس کو ہو گا، اور نقصان کس کو ہوگا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ملک میں موجود سیاسی قوتیں کسی بھی طرح نظام کا بوریا بستر گول کرنا چاہتی ہیں۔ تا ہم یہ عجب بات ہے کہ صرف نواز شریف کے حوالے سے ہی ایسے خدشات ہیں کہ وہ نظام کا بوریا بستر گول کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن سے مدد کی درخواست بھی یہ ظاہر کر رہی ہے ن لیگ اپنے اندر کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ کسی بیرونی مدد سے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے لیے بھی یہ مشکل ہے کہ وہ اس موقع پر بلوچستان میں ن لیگ کی مدد کریں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کی اچکزئی مخالف سیاست ختم ہو جائے گی۔ اس لیے ان کے لیے اس موقع پر ن لیگ کی مدد ممکن نظر نہیں آرہی۔ شائد مولانا فضل الرحمٰن چاہتے ہوئے بھی ن لیگ کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

یہ درست ہے کہ بلوچستان کے مخصوص حالات کی وجہ سے وہاں فوج کا کافی عمل دخل ہے۔ بلوچستان میں کسی بھی تبدیلی میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے فوج کیا چاہ رہی ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ اس سب سے لاتعلق ہیں۔ جو بھی ہو رہا ہے اس پر نہ صرف ان کی نظر ہے بلکہ اگر سکرپٹ نے کامیاب ہوناہے تو ان کے آشیر باد بھی ضروری ہے۔ بلوچستان میں جب بھی کوئی تبدیلی آئی ہے وہ بغیر کسی شارے کے نہیں آئی ہے۔ اشارے سب سے پہلے بلوچستان میں ہی نظر آتے ہیں۔ اور محسوس کیے جاتے ہیں۔

نواز شریف جو سیاست کر رہے ہیں، وہ بلوچستان کے حوالے سے شائد بالکل قابل قبول نہیں ہے۔ بلوچستان کے مخصوص حالات اس کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ دشمن بلوچستان میں ایک گندا کھیل کھیل رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی بلوچستان کے حوالے سے ایک گریٹ گیم کھیلی جا رہی ہے۔ لندن اور یورپ میں بلوچستان کے حوالے سے منفی پراپیگنڈا جاری ہے۔ جو پاکستان کی سا لمیت کے لیے بہت خطرناک ہے۔اس وقت بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ اس سب کو اس سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔

کیا بلوچستان ن لیگ میں ہونے والی بغاوت صرف اور صرف بلوچستان تک محدود رہے گی، ممکن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ آگ پھیلے گی۔ ن لیگ نے اگر اس کو بلوچستان کے اندر کنٹرول نہیں کیا تو پھر یہ بغاوت بلوچستان سے باہر بھی آئے گی۔ لیکن لیگ کے لیے سب سے اہم پنجاب ہے۔ اور پنجاب میں ابھی تک بغاوت سامنے نہیں آرہی۔ تا ہم دیکھنے والے پنجاب میں بھی بغاوت دیکھ رہے ہیں۔ لوگ ناراض ہیں۔ لیکن خاموش ہیں۔ جیسے بلوچستان میں بھی ناراضی کے حوالے سے خاموش تھے۔

بلوچستان میں پیش کی جانیو الی تحریک عدم اعتماد پاکستان کا آئندہ سیاسی منظر نامہ بھی طے کرے گی۔ اس کی کامیابی میں ن لیگ کے لیے منفی پیغام ہو گا۔ اور اس کی ناکامی میں ن لیگ کے لیے ایک مثبت پیغام ہو گا۔ اسی لیے شاہد خاقان عباسی مولانا فضل الرحمٰن کے گھر گئے ہیں کیونکہ یہ ن لیگ کی زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
Load Next Story