ہانگ کانگ کے ساتھ دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کا معاہدہ موثر
ایف بی آرسے نوٹیفکیشن جاری،کالے دھن کا سراغ لگانے کیلیے معلومات کا تبادلہ ہو سکے گا۔
اس معاہدے کے تحت جو بھی ادائیگیاں ہوں گی ان سے ایٹ سورس ٹیکس ودہولڈ ہوگا۔ فوٹو : فائل
پاکستان اور ہانگ کانگ کی ٹیکس اتھارٹیز ایک دوسرے کے باشندوں پر دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے حوالے سے سہولتیں فراہم کریں گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ہانگ کانگ کے ساتھ طے دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے اور کالے دھن کا سراغ لگانے کے لیے معلومات کے تبادلے پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن 08(I)/2018 جاری کردیا ہے جس کے مطابق پاکستان اور چین کے اسپیشل ایڈمنسٹریٹو ریجن ہانگ کانگ کے درمیان 17 فروری 2017 کو مالیاتی و دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس میں طے پایا تھا کہ دونوں ممالک اپنے مروجہ قوانین کے مطابق پروسیجر مکمل کرنے کے بعد نوٹیفکیشن جاری کریں گے تاکہ اس معاہدے پر عملدرآمد ہوسکے جس کے پیش نظر ایف بی آر کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، اس معاہدے کے تحت جو بھی ادائیگیاں ہوں گی ان سے ایٹ سورس ٹیکس ودہولڈ ہوگا۔
معاہدے کا اطلاق دونوں ممالک کی جانب سے آمدنی پر عائد کردہ ٹیکسوں اور مجموعی آمدنی پر یا مخصوص آمدنی پر عائد ٹیکس پر ہوگا، اسی طرح یہ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد پر عائد ٹیکسوں کے ساتھ منافع اور گین پر عائد ٹیکسوں پر بھی لاگو ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق معاہدے کا اطلاق ہانگ کانگ میں منافع، تنخواہوں اورپراپرٹی پر ٹیکس کی صورت میں ہوگا جبکہ پاکستان میں انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی صورت میں ہوگا۔
معاہدے کے تحت پاکستان اور ہانگ کانگ کے طلبا کو اپنے تعلیمی اخراجات کیلیے ملنے والی پیمنٹ، انٹرن شپ کے اخراجات پر بھی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا تاہم طلبایا انٹرن شپ کرنیوالے لوگوں کو وظیفے کیلیے مقرر کردہ حد سے زیادہ ترسیلات زر آئیں گی تو اس صورت میں ٹیکس لاگو ہوگا اور معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار اور فارمولے کے مطابق پاکستان اور ہانگ کانگ کی ٹیکس اتھارٹیز ایک دوسرے کے باشندوں پر دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے حوالے سے سہولتیں فراہم کریں گی اور طے کردہ طریقہ کار کے مطابق کریڈٹ دیا جائیگا۔
علاوہ ازیں نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک کی اتھارٹیز ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی کریں گی مگر انھیں خفیہ رکھا جائیگا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ہانگ کانگ کے ساتھ طے دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے اور کالے دھن کا سراغ لگانے کے لیے معلومات کے تبادلے پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن 08(I)/2018 جاری کردیا ہے جس کے مطابق پاکستان اور چین کے اسپیشل ایڈمنسٹریٹو ریجن ہانگ کانگ کے درمیان 17 فروری 2017 کو مالیاتی و دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس میں طے پایا تھا کہ دونوں ممالک اپنے مروجہ قوانین کے مطابق پروسیجر مکمل کرنے کے بعد نوٹیفکیشن جاری کریں گے تاکہ اس معاہدے پر عملدرآمد ہوسکے جس کے پیش نظر ایف بی آر کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، اس معاہدے کے تحت جو بھی ادائیگیاں ہوں گی ان سے ایٹ سورس ٹیکس ودہولڈ ہوگا۔
معاہدے کا اطلاق دونوں ممالک کی جانب سے آمدنی پر عائد کردہ ٹیکسوں اور مجموعی آمدنی پر یا مخصوص آمدنی پر عائد ٹیکس پر ہوگا، اسی طرح یہ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد پر عائد ٹیکسوں کے ساتھ منافع اور گین پر عائد ٹیکسوں پر بھی لاگو ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق معاہدے کا اطلاق ہانگ کانگ میں منافع، تنخواہوں اورپراپرٹی پر ٹیکس کی صورت میں ہوگا جبکہ پاکستان میں انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی صورت میں ہوگا۔
معاہدے کے تحت پاکستان اور ہانگ کانگ کے طلبا کو اپنے تعلیمی اخراجات کیلیے ملنے والی پیمنٹ، انٹرن شپ کے اخراجات پر بھی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا تاہم طلبایا انٹرن شپ کرنیوالے لوگوں کو وظیفے کیلیے مقرر کردہ حد سے زیادہ ترسیلات زر آئیں گی تو اس صورت میں ٹیکس لاگو ہوگا اور معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار اور فارمولے کے مطابق پاکستان اور ہانگ کانگ کی ٹیکس اتھارٹیز ایک دوسرے کے باشندوں پر دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے حوالے سے سہولتیں فراہم کریں گی اور طے کردہ طریقہ کار کے مطابق کریڈٹ دیا جائیگا۔
علاوہ ازیں نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک کی اتھارٹیز ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی کریں گی مگر انھیں خفیہ رکھا جائیگا۔