فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں
دنیا میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ سے کرۂ ارض پر انسان اور حیوانی حیات کے لیے خطرہ پیدا ہو رہا ہے
دنیا میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ سے کرۂ ارض پر انسان اور حیوانی حیات کے لیے خطرہ پیدا ہو رہا ہے ۔ فوٹو : فائل
ماہرین ماحولیات اور فضائی آلودگی کے خلاف جدوجہد کرنے والے دانشوروں کا کہنا ہے کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ سے کرۂ ارض پر انسان اور حیوانی حیات کے لیے خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ جو ترقی یافتہ ممالک ماحولیات اور فضائی آلودگی کا واویلا مچا رہے ہیں وہی سب سے زیادہ اس کا سبب بن رہے ہیں۔
ناروے کی ایک عدالت نے ماحولیاتی گروپوں کی طرف سے ناروے حکومت کے خلاف دائر پٹیشن خارج کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے آرکٹیک کے یخ بستہ علاقے سے تیل کی تلاش کے لیے لائسنس جاری کر دیے جس کی وجہ سے عالمگیر حدت میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے، پٹیشن میں یہ کہا گیا کہ ناروے کا تیل بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ فضائی آلودگی کے سبب موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔
سال 2017ء میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں 7ویں درجے پر رکھا گیا ہے جہاں فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی اور بیماریوں کو جنم دے رہا ہے، وہیں درختوں کا تیزی سے کٹاؤ اور بڑی بڑی عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کو مہمیز کر رہی ہیں۔ سیوریج کا گندہ پانی اور دیگر گندگی سمندر میں پھینکنے سے جو آلودگی پیدا ہو رہی ہے وہ آبی مخلوقات کی زندگی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلیوں کے مظاہر کہیں خشک سالی، سیلاب تو کہیں شدید گرمی اور پانی کی کمی کی صورت میں انسانی مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔ فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے ترقی یافتہ ممالک جو اقدامات کر چکے ہیں ہمارے ارباب اختیار ابھی اس کے بارے میں سوچ بچار کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
ہمارے ہاں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بات اجلاس، سیمینارز اور بیانات سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اگر معاملات یونہی چلتے رہے ، باتوں اور بیانات سے مسائل حل کرنے کی روش قائم رہی تو وہ دن دور نہیں جب یہاں فضائی آلودگی خطرناک صورت حال اختیار کر جائے گی۔ بہتر ہے کہ ارباب اختیار فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ناروے کی ایک عدالت نے ماحولیاتی گروپوں کی طرف سے ناروے حکومت کے خلاف دائر پٹیشن خارج کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے آرکٹیک کے یخ بستہ علاقے سے تیل کی تلاش کے لیے لائسنس جاری کر دیے جس کی وجہ سے عالمگیر حدت میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے، پٹیشن میں یہ کہا گیا کہ ناروے کا تیل بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ فضائی آلودگی کے سبب موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔
سال 2017ء میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں 7ویں درجے پر رکھا گیا ہے جہاں فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی اور بیماریوں کو جنم دے رہا ہے، وہیں درختوں کا تیزی سے کٹاؤ اور بڑی بڑی عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کو مہمیز کر رہی ہیں۔ سیوریج کا گندہ پانی اور دیگر گندگی سمندر میں پھینکنے سے جو آلودگی پیدا ہو رہی ہے وہ آبی مخلوقات کی زندگی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلیوں کے مظاہر کہیں خشک سالی، سیلاب تو کہیں شدید گرمی اور پانی کی کمی کی صورت میں انسانی مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔ فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے ترقی یافتہ ممالک جو اقدامات کر چکے ہیں ہمارے ارباب اختیار ابھی اس کے بارے میں سوچ بچار کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
ہمارے ہاں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بات اجلاس، سیمینارز اور بیانات سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اگر معاملات یونہی چلتے رہے ، باتوں اور بیانات سے مسائل حل کرنے کی روش قائم رہی تو وہ دن دور نہیں جب یہاں فضائی آلودگی خطرناک صورت حال اختیار کر جائے گی۔ بہتر ہے کہ ارباب اختیار فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔