رعشے کے 2 مریضوں کے دماغ میں آج ڈیوائس لگائی جائیگی

دماغ میں مخصوص کیمیکلز کی کمی سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے، پروفیسر ستار ہاشم

چین سے آئے طبی ماہرین پہلی بار اس تکنیک کے ذریعے علاج کی نگرانی کریں گے۔ فوٹو؛ ایکسپریس

نیورو اسپائنل کینسر اینڈ کیئر انسٹیٹیوٹ میں ہاتھوں میں کپکپاہٹ کے 2 مریضوںکے دماغ میں آج ڈیوائس لگائی جائے گی جب کہ چین سے آئے ہوئے طبی ماہرین پہلی بار اس تکنیک کے ذریعے علاج کی نگرانی کریں گے۔

نیورو سرجن پروفیسر ستار ہاشم، ڈاکٹر شوکت علی اور ویسٹ چائنا اسپتال و یونیورسٹی کے پروفیسر وی وانگ نے مقامی ہوٹل میں سمپوزیم اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دماغ میں بننے والے مخصوص کیمیکلزکی کمی سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے، رعشے کی دوائیاں مسلسل استعمال کرنے سے بھی ہاتھ کپکپاہٹ شروع ہوجاتی ہے۔


پروفیسر وی وانگ نے بتایا کہ دماغ کے اندر لگائے جانے والے پیس میکر محفوظ ہے، دنیا بھر میں دماغ کے اندر پیس میکرلگانے کی کامیابی کی شرح 85 فیصد ہے، چین میں ایک لاکھ سے زائد رعشے کے مریضوں کے دماغ میں ڈیوائیس لگا کر اس مرض پر قابو پایاگیا ہے۔

پروفیسرستارہاشم نے کہاکہ رعشے کامرض لاحق ہونے سے انسان کی زندگی مفلوج ہوجاتی ہے اوروہ کام کرنے سے قاصرہوجاتاہے ،دماغ میں لگائے جانے والے پیس میکرکی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے مانیٹرنگ کی جاتی ہے دماغ میں پیس میکر جبکہ میں اس کی بیٹری کوکالربون میں نصب کیا جاتا ہے جس کاکنٹرول مریض اوراس کے معالج کے پاس ہوتاہے جب کہ اس نئی تیکنیک سے ڈپریشن، شیزو فرینا سمیت دیگر نفیسیاتی امراض کو بھی کنٹرول کیا جاسکے گا۔
Load Next Story