دوسری عظیم جست
مشن کا ایک بڑا بڑا مقصد مریخ کے مشہور گڑھے ’’گیل‘‘ میں واقع 5 کلومیٹر اونچے پہاڑ پر تحقیق کرنا بھی ہے۔
نظام شمسی میں مریخ ہماری زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اور اسی وجہ سے نسل انسانی کے لیے کشش اور اسرار کا باعث رہا ہے، اے ایف پی
آج سے 43 برس قبل جب پہلے انسان نے چاند پر قدم رکھا تھا تو اسے عظیم جست کا نام دیا گیا' آج نصف صدی سے کچھ کم عرصہ گزرنے کے بعد ویسا ہی ایک اور کارنامہ کر دکھایا گیا ہے یعنی امریکا کی جدید ترین موبائل لیبارٹری 'کیوراسٹی' خلا میں 570 ملین کلومیٹر کا طویل سفر 8ماہ میں طے کرتے ہوئے نظام شمسی کے سرخ سیارے مریخ پر کامیابی کے ساتھ اتر گئی ہے۔
اس مشن کو درست طور پر خلائی تاریخ کا ایک انتہائی جرأتمندانہ مشن قرار دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں نظام شمسی اور اس پوری کائنات کے کئی سربستہ رازوں سے پردہ اٹھنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک ٹن وزنی روبوٹک گاڑی سیارے پر اپنے دو سالہ قیام کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ آیا مریخ پر کبھی زندگی کے آثار موجود تھے یا نہیں۔
اس مشن کا ایک بڑا بڑا مقصد مریخ کے مشہور گڑھے ''گیل'' میں واقع 5 کلومیٹر اونچے پہاڑ پر تحقیق کرنا بھی ہے۔ پروگرام کے مطابق یہ جدید ترین گاڑی اس پہاڑ پر چڑھ کر نمونے جمع کرے گی اور ان چٹانوں کا جائزہ لے گی جو اربوں سال سے وہاں موجود ہیں۔ نظام شمسی میں مریخ ہماری زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اور اسی وجہ سے نسل انسانی کے لیے کشش اور اسرار کا باعث رہا ہے۔
پُرانے زمانے کے سائنسدان اور خلائی امور کے ماہرین بھی اس کھوج میں رہے کہ مریخ پر زندگی کے آثار موجود ہیں یا نہیں۔ یہ ایک بڑا پُرانا سوال ہے جس کا جواب نسل انسانی کے ہر دور میں تلاش کیا جاتا رہا کہ زمین کے علاوہ بھی کسی سیارے پر زندگی موجود ہے یا نہیں۔ اس تلاش کے پس منظر میں غالباً یہ سوچ کارفرما ہے کہ اس وسیع و عریض کائنات کے کسی کونے میں کوئی اور ذی روح بھی موجود ہے' حضرت انسان اکیلا تو نہیں ہے۔
چونکہ ہماری فوری رسائی اپنے قریبی سیاروں تک ممکن ہو سکتی تھی اس لیے سب سے پہلے انھیں کو کھنگالنے کی منصوبہ بندی کی گئی اور چاند پر قدم رکھنے کے تقریباً نصف صدی بعد ہم اس قابل ہو سکے ہیں کہ مریخ کے حوالے سے ایک مشن کی تکمیل کر سکیں۔ امریکا اور دیگر بڑے ممالک کی باقی پالیسیاں جو بھی ہوں نئی دریافتوں اور عظیم جست جیسے مشنوں کے سلسلے میں ان کی کاوشیں سراہے جانے کے قابل ہیں اور نسل انسانی کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
مریخ مشن کے کامیاب ہونے کی صورت میں توقع کی جا سکے گی کہ خلائی تحقیق کا عمل زیادہ تیزی سے آگے بڑھے گا اور انسان ایک روز اس قابل ہو جائے گا کہ چاند کی طرح مریخ اور نظام شمسی کے دوسرے سیاروں اور اس سے آگے نکل کر کہکشائوں کے سربستہ راز آشکار کر دے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اگلے وقتوں میں کائنات میں کسی اور مخلوق کے موجود ہونے کا پتہ چلا سکیں' یوں ان کا یہ خوف کم اور پھر ختم ہو جائے گا کہ وہ انسانی سوچ سے بھی زیادہ وسیع اس کائنات میں تنہا نہیں ہیں۔
اس مشن کو درست طور پر خلائی تاریخ کا ایک انتہائی جرأتمندانہ مشن قرار دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں نظام شمسی اور اس پوری کائنات کے کئی سربستہ رازوں سے پردہ اٹھنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک ٹن وزنی روبوٹک گاڑی سیارے پر اپنے دو سالہ قیام کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ آیا مریخ پر کبھی زندگی کے آثار موجود تھے یا نہیں۔
اس مشن کا ایک بڑا بڑا مقصد مریخ کے مشہور گڑھے ''گیل'' میں واقع 5 کلومیٹر اونچے پہاڑ پر تحقیق کرنا بھی ہے۔ پروگرام کے مطابق یہ جدید ترین گاڑی اس پہاڑ پر چڑھ کر نمونے جمع کرے گی اور ان چٹانوں کا جائزہ لے گی جو اربوں سال سے وہاں موجود ہیں۔ نظام شمسی میں مریخ ہماری زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اور اسی وجہ سے نسل انسانی کے لیے کشش اور اسرار کا باعث رہا ہے۔
پُرانے زمانے کے سائنسدان اور خلائی امور کے ماہرین بھی اس کھوج میں رہے کہ مریخ پر زندگی کے آثار موجود ہیں یا نہیں۔ یہ ایک بڑا پُرانا سوال ہے جس کا جواب نسل انسانی کے ہر دور میں تلاش کیا جاتا رہا کہ زمین کے علاوہ بھی کسی سیارے پر زندگی موجود ہے یا نہیں۔ اس تلاش کے پس منظر میں غالباً یہ سوچ کارفرما ہے کہ اس وسیع و عریض کائنات کے کسی کونے میں کوئی اور ذی روح بھی موجود ہے' حضرت انسان اکیلا تو نہیں ہے۔
چونکہ ہماری فوری رسائی اپنے قریبی سیاروں تک ممکن ہو سکتی تھی اس لیے سب سے پہلے انھیں کو کھنگالنے کی منصوبہ بندی کی گئی اور چاند پر قدم رکھنے کے تقریباً نصف صدی بعد ہم اس قابل ہو سکے ہیں کہ مریخ کے حوالے سے ایک مشن کی تکمیل کر سکیں۔ امریکا اور دیگر بڑے ممالک کی باقی پالیسیاں جو بھی ہوں نئی دریافتوں اور عظیم جست جیسے مشنوں کے سلسلے میں ان کی کاوشیں سراہے جانے کے قابل ہیں اور نسل انسانی کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
مریخ مشن کے کامیاب ہونے کی صورت میں توقع کی جا سکے گی کہ خلائی تحقیق کا عمل زیادہ تیزی سے آگے بڑھے گا اور انسان ایک روز اس قابل ہو جائے گا کہ چاند کی طرح مریخ اور نظام شمسی کے دوسرے سیاروں اور اس سے آگے نکل کر کہکشائوں کے سربستہ راز آشکار کر دے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اگلے وقتوں میں کائنات میں کسی اور مخلوق کے موجود ہونے کا پتہ چلا سکیں' یوں ان کا یہ خوف کم اور پھر ختم ہو جائے گا کہ وہ انسانی سوچ سے بھی زیادہ وسیع اس کائنات میں تنہا نہیں ہیں۔