کاش ہم شیخ چلی ہوتے
ہمارے ہاں وادی سون میں پہاڑ کی اترائی اور ریگستان کے کنارے پر سخت گرمی پڑتی ہے
Abdulqhasan@hotmail.com
ISLAMABAD:
جرائم پیشہ اور کرپٹ لوگوں کی پانچ سالہ حکومت ابھی تک اپنے رنگ دکھا رہی ہے اور نہ جانے کب تک دکھاتی رہے گی۔ قوم پر ایک بڑا ہی مشکل وقت آنے والا ہے، مال ختم، تنخواہیں روکی جا رہی ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ انسانی برداشت سے باہر ہو چلی ہے، بازار میں چھوٹی موٹی اشیائے خوردنی کی گرانی بھوکا رہنے پر مجبور کر رہی ہے بچوں کا دودھ بھی نایاب یعنی بہت مہنگا ہو رہا ہے، اسکولوں کی فیسیں ہزاروں میں بڑھا دی گئی ہیں، اس بار گرمی کے کپڑوں کی تلاش شروع کی تو یہ طے ہوا کہ اہل خانہ اگر کچھ ساتھ دیں تو نئے کپڑوں کی جگہ پرانے کپڑوں کی فوری دھلائی سے ان کی کمی پوری کی جائے۔
یہی سمجھیں گے کہ ہم بھی جماعت اسلامی کے کوئی لیڈر ہیں جو ایک دو جوڑوں میں گزر بسر کر لیتے ہیں اور ہم اسی لیڈری کے زعم میں خوش ہو جائیں اصلی نہ سہی جعلی لیڈری ہی سہی۔ دو وقت روکھی سوکھی کھا کر اگر زندہ رہ سکتے ہیں تو تین وقت کھانا کیا ضروری ہے۔ آنے والی گرمیوں میں جو آ بھی چکی ہیں اگر بجلی کا پنکھا نہ ہو تو ہاتھ کا پنکھا بھی کام چلا لیتا ہے۔ خود اس شہر لاہور میں 1935ء کے بعد بجلی آئی تھی اس سے پہلے لاہوری دستی پنکھوں پر گرمیاں گزار رہے تھے۔ رات کھلے صحن یا چھت پر اور دن کسی ہوا دار کمرے یا کھلے چھپر کے نیچے۔ رفتہ رفتہ گرمی کے عادی ہو جائیں گے۔
ہمارے ہاں وادی سون میں پہاڑ کی اترائی اور ریگستان کے کنارے پر سخت گرمی پڑتی ہے جہاں یہ دونوں ملتے ہیں یعنی پہاڑ اور ریگستان جسے تھل کہا جاتا ہے۔ ایک طرف دن بھر کی دھوپ سے گرم پہاڑ اور دوسری طرف ریت کا گرم سمندر لیکن یہاں لوگ اگرچہ رات کا زیادہ تر حصہ جاگ کر گزارتے تھے اور دودھ کی نمکین پتلی لسی پیتے رہتے لیکن وہ اس علاقے میں سب سے زیادہ صحت مند لوگ تھے۔ قدرت کے عجیب تماشے ہیں اس گرم پہاڑ کے اوپر کی طرف دو تین میل کے فاصلے پر وادی سون شروع ہوتی ہے جہاں کبھی گرم لو نہیں چلتی اور سائے میں موسم قابل برداشت اور لاہوریوں کے لیے تو قابل رشک لیکن ہم بات لاہور کی کریں گے۔
مشہور تھا کہ دریائے راوی کی وجہ سے لاہور کی راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں لیکن وہ راوی جو اپنے لاہور کی راتوں کو ٹھنڈا رکھتا تھا اب وہ خود ماضی کا نوحہ بن چکا ہے۔ پطرس بخاری نے ایک لاہوری دوست کو امریکا سے خط لکھا کہ کیا راوی اب بھی مغلوںکی یاد میں آہیں بھرتا ہے لیکن اب نہ بخاری صاحب زندہ ہیں نہ ان کا راوی زندہ ہے اور نہ ہی اس کے مغل جو کبھی تلواریں لے کر وسطی ایشیاء کے مرغزاروں سے یہاں آئے اور پھر یہیں بس گئے البتہ اپنے متروکہ وطن کی یاد میں باغات لگواتے رہے۔
لوڈشیڈنگ کے فزوں تر ہونے کی اطلاعات ہیں اس کا دورانیہ بہت بڑھتا جا رہا ہے بس جاتی ہے آتی نہیں۔ نئی گرمیاں خوفناک ہوں گی کیونکہ بجلی نہیں ہو گی نہ پنکھا نہ اے سی۔ انسانی بدن بے چین رہیں گے اور ہمارے جیسے قلمی مزدوروں کا ذہن گرمی کی وجہ سے پگھل کر مسلسل گھبراہٹ کے عالم میں رہے گا۔ ہماری ''تخلیقی'' سرگرمیوں یعنی سیاستدانوں کو گالی گلوچ میں خلل پڑتا رہے گا یعنی آپ قارئین کرام ہماری بے کیف تحریروں کی زد میں رہیں گے اور ہم آپ کو اپنی بور گرمی زدہ تحریروں کی مار دیتے رہیں گے۔ یہ زمانہ چونکہ الیکشن اور الیکشن کے بعد کے ہنگاموں کا ہو گا اس لیے آپ اخبار پڑھنے پر مجبور ہوں گے اورہم آپ کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھائیں گے۔
ٹی وی بھی لمحہ بہ لمحہ خبروں کے نام پر تبصرے سناتا ہے لیکن جب لوڈشیڈنگ ہو گی تو اس کی بادشاہی بھی ختم ہو گی۔ یہ سب کچھ تو ہو گا مگر الیکشن ہو گا اپنے تمام تر روایتی ہنگاموں کے ساتھ، تقریریں نعرے ڈھول ڈھمکے ناچ گانے وہ بھی زندہ اور کیمرے کی آنکھ میں محفوظ، اس طرح الیکشن کی بارات چڑھے گی اور خدا جانے کہاں جا کر کس کے گھر اترے گی۔ 'کہیں تو ہو گا شب سست موج کا ساحل'۔ کچھ بھی ہو ہماری زندگی اور اس کی بقا اسی الیکشن میں ہے۔
خوشی کی بات ہے کہ فوج جو کبھی یونہی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے مارشل لاء لگا دیا کرتی تھی اب وہ اس کے قومی نقصانات کو سمجھ کر اس سے باز آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ورنہ گزشتہ پانچ سالہ حکومت کا ہر دن کسی مارشل لاء کا متقاضی رہا بلکہ لوگ تو فوج سے ناراض ہو چلے تھے کہ وہ اسے ان سویلین حاکموں سے کیوں نہیں بچاتی اور کس انتظار میں ہے لیکن ہماری فوج کوئی بے وقوف فوج نہیں اس نے خوب سوچ سمجھ کر طے کیا کہ اس کا اقتدار سے دور رہنا ہی اس کے اور قوم کے لیے بہتر ہے اب خدا کرے فوج کا یہ فیصلہ بہتر ہی ثابت ہو ،فوج کے اس فیصلے کو درست یا غلط آنے والے الیکشن ثابت کریں گے کہ ان کے نتیجے میں کون لوگ اقتدار میں آتے ہیں اور ان کے دلوں میں ملک کی محبت اور ایمان کی کوئی رتی دکھائی دیتی ہے یا نہیں۔
اگر ہمارے نئے منتخب حکمرانوں نے اپنا قومی فرض ادا نہ کیا یا اس میں سستی برتی تو پھر ان کے ٹھکانے تو دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں مگر یہ اٹھارہ کروڑ پاکستانی کہاں جائیں گے۔ لطیفہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں کے بیرون ملک بیش قیمت ٹھکانے جس رقم سے خریدے گئے وہ سب پاکستانی عوام کی ہے لیکن کسی عوام کو وہاں قدم رکھنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی انھیں بیچ کر اپنی رقم وصول کرنے کی۔یہ سب باتیں تو کتابوں کی باتیں ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مثلاً کون نہیں جانتا کہ ہماری پانچ سالہ حکومت کے بڑے لوگوں کے اصل ٹھکانے ملک سے باہر ہیں۔ ہماری پارٹی کے سربراہ جناب بلاول زرداری تو رہتے ہی باہر ہیں۔
ہمارے بعض لیڈر ایسے بھی ہیں جو کسی دہری شہریت کی پابندی کے بھی حامل نہیں بلکہ پوری دنیا ان کا گھر ہے۔وہ عالمی شہریت رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ کہیں بھی اجنبی نہیں ہیں سچ ہے کہ پیسہ بولتا ہے۔ میں ایک بار ایسے ملک میں گیا جہاں کی زبان کا مجھے قطعاً کچھ پتہ نہیں تھا لیکن میری جیب بھری ہوئی تھی جو میری ترجمان تھی۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی ایسا جاندار ادارہ ہو جو ان لوگوں کو ملک کے اندر پابند کر دے اور ان سے حساب کتاب کر لے۔
بہر کیف یہ سب شیخ چلی والی باتیں ہیں لیکن کبھی کبھار یہ محسوس ہوتا ہے کہ خود فریبی کے امام شیخ چلی بالکل درست تھے۔ ایک خوش فہم ہر فکر سے آزاد ایک بے تکان زندگی کے مالک جن کی دولت ان کی حقیقت پسندانہ سوچ تھی۔ ہم عقلمند لوگ آج بھی ان کی کسی بات کو یاد کر کے اس کا سہارا لیتے ہیں اور ہنس لیتے ہیں لیکن یہ لطیفے نہیں زندگی کے حقائق ہیں کاش ہم سب شیخ چلی ہوتے۔
جرائم پیشہ اور کرپٹ لوگوں کی پانچ سالہ حکومت ابھی تک اپنے رنگ دکھا رہی ہے اور نہ جانے کب تک دکھاتی رہے گی۔ قوم پر ایک بڑا ہی مشکل وقت آنے والا ہے، مال ختم، تنخواہیں روکی جا رہی ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ انسانی برداشت سے باہر ہو چلی ہے، بازار میں چھوٹی موٹی اشیائے خوردنی کی گرانی بھوکا رہنے پر مجبور کر رہی ہے بچوں کا دودھ بھی نایاب یعنی بہت مہنگا ہو رہا ہے، اسکولوں کی فیسیں ہزاروں میں بڑھا دی گئی ہیں، اس بار گرمی کے کپڑوں کی تلاش شروع کی تو یہ طے ہوا کہ اہل خانہ اگر کچھ ساتھ دیں تو نئے کپڑوں کی جگہ پرانے کپڑوں کی فوری دھلائی سے ان کی کمی پوری کی جائے۔
یہی سمجھیں گے کہ ہم بھی جماعت اسلامی کے کوئی لیڈر ہیں جو ایک دو جوڑوں میں گزر بسر کر لیتے ہیں اور ہم اسی لیڈری کے زعم میں خوش ہو جائیں اصلی نہ سہی جعلی لیڈری ہی سہی۔ دو وقت روکھی سوکھی کھا کر اگر زندہ رہ سکتے ہیں تو تین وقت کھانا کیا ضروری ہے۔ آنے والی گرمیوں میں جو آ بھی چکی ہیں اگر بجلی کا پنکھا نہ ہو تو ہاتھ کا پنکھا بھی کام چلا لیتا ہے۔ خود اس شہر لاہور میں 1935ء کے بعد بجلی آئی تھی اس سے پہلے لاہوری دستی پنکھوں پر گرمیاں گزار رہے تھے۔ رات کھلے صحن یا چھت پر اور دن کسی ہوا دار کمرے یا کھلے چھپر کے نیچے۔ رفتہ رفتہ گرمی کے عادی ہو جائیں گے۔
ہمارے ہاں وادی سون میں پہاڑ کی اترائی اور ریگستان کے کنارے پر سخت گرمی پڑتی ہے جہاں یہ دونوں ملتے ہیں یعنی پہاڑ اور ریگستان جسے تھل کہا جاتا ہے۔ ایک طرف دن بھر کی دھوپ سے گرم پہاڑ اور دوسری طرف ریت کا گرم سمندر لیکن یہاں لوگ اگرچہ رات کا زیادہ تر حصہ جاگ کر گزارتے تھے اور دودھ کی نمکین پتلی لسی پیتے رہتے لیکن وہ اس علاقے میں سب سے زیادہ صحت مند لوگ تھے۔ قدرت کے عجیب تماشے ہیں اس گرم پہاڑ کے اوپر کی طرف دو تین میل کے فاصلے پر وادی سون شروع ہوتی ہے جہاں کبھی گرم لو نہیں چلتی اور سائے میں موسم قابل برداشت اور لاہوریوں کے لیے تو قابل رشک لیکن ہم بات لاہور کی کریں گے۔
مشہور تھا کہ دریائے راوی کی وجہ سے لاہور کی راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں لیکن وہ راوی جو اپنے لاہور کی راتوں کو ٹھنڈا رکھتا تھا اب وہ خود ماضی کا نوحہ بن چکا ہے۔ پطرس بخاری نے ایک لاہوری دوست کو امریکا سے خط لکھا کہ کیا راوی اب بھی مغلوںکی یاد میں آہیں بھرتا ہے لیکن اب نہ بخاری صاحب زندہ ہیں نہ ان کا راوی زندہ ہے اور نہ ہی اس کے مغل جو کبھی تلواریں لے کر وسطی ایشیاء کے مرغزاروں سے یہاں آئے اور پھر یہیں بس گئے البتہ اپنے متروکہ وطن کی یاد میں باغات لگواتے رہے۔
لوڈشیڈنگ کے فزوں تر ہونے کی اطلاعات ہیں اس کا دورانیہ بہت بڑھتا جا رہا ہے بس جاتی ہے آتی نہیں۔ نئی گرمیاں خوفناک ہوں گی کیونکہ بجلی نہیں ہو گی نہ پنکھا نہ اے سی۔ انسانی بدن بے چین رہیں گے اور ہمارے جیسے قلمی مزدوروں کا ذہن گرمی کی وجہ سے پگھل کر مسلسل گھبراہٹ کے عالم میں رہے گا۔ ہماری ''تخلیقی'' سرگرمیوں یعنی سیاستدانوں کو گالی گلوچ میں خلل پڑتا رہے گا یعنی آپ قارئین کرام ہماری بے کیف تحریروں کی زد میں رہیں گے اور ہم آپ کو اپنی بور گرمی زدہ تحریروں کی مار دیتے رہیں گے۔ یہ زمانہ چونکہ الیکشن اور الیکشن کے بعد کے ہنگاموں کا ہو گا اس لیے آپ اخبار پڑھنے پر مجبور ہوں گے اورہم آپ کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھائیں گے۔
ٹی وی بھی لمحہ بہ لمحہ خبروں کے نام پر تبصرے سناتا ہے لیکن جب لوڈشیڈنگ ہو گی تو اس کی بادشاہی بھی ختم ہو گی۔ یہ سب کچھ تو ہو گا مگر الیکشن ہو گا اپنے تمام تر روایتی ہنگاموں کے ساتھ، تقریریں نعرے ڈھول ڈھمکے ناچ گانے وہ بھی زندہ اور کیمرے کی آنکھ میں محفوظ، اس طرح الیکشن کی بارات چڑھے گی اور خدا جانے کہاں جا کر کس کے گھر اترے گی۔ 'کہیں تو ہو گا شب سست موج کا ساحل'۔ کچھ بھی ہو ہماری زندگی اور اس کی بقا اسی الیکشن میں ہے۔
خوشی کی بات ہے کہ فوج جو کبھی یونہی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے مارشل لاء لگا دیا کرتی تھی اب وہ اس کے قومی نقصانات کو سمجھ کر اس سے باز آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ورنہ گزشتہ پانچ سالہ حکومت کا ہر دن کسی مارشل لاء کا متقاضی رہا بلکہ لوگ تو فوج سے ناراض ہو چلے تھے کہ وہ اسے ان سویلین حاکموں سے کیوں نہیں بچاتی اور کس انتظار میں ہے لیکن ہماری فوج کوئی بے وقوف فوج نہیں اس نے خوب سوچ سمجھ کر طے کیا کہ اس کا اقتدار سے دور رہنا ہی اس کے اور قوم کے لیے بہتر ہے اب خدا کرے فوج کا یہ فیصلہ بہتر ہی ثابت ہو ،فوج کے اس فیصلے کو درست یا غلط آنے والے الیکشن ثابت کریں گے کہ ان کے نتیجے میں کون لوگ اقتدار میں آتے ہیں اور ان کے دلوں میں ملک کی محبت اور ایمان کی کوئی رتی دکھائی دیتی ہے یا نہیں۔
اگر ہمارے نئے منتخب حکمرانوں نے اپنا قومی فرض ادا نہ کیا یا اس میں سستی برتی تو پھر ان کے ٹھکانے تو دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں مگر یہ اٹھارہ کروڑ پاکستانی کہاں جائیں گے۔ لطیفہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں کے بیرون ملک بیش قیمت ٹھکانے جس رقم سے خریدے گئے وہ سب پاکستانی عوام کی ہے لیکن کسی عوام کو وہاں قدم رکھنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی انھیں بیچ کر اپنی رقم وصول کرنے کی۔یہ سب باتیں تو کتابوں کی باتیں ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مثلاً کون نہیں جانتا کہ ہماری پانچ سالہ حکومت کے بڑے لوگوں کے اصل ٹھکانے ملک سے باہر ہیں۔ ہماری پارٹی کے سربراہ جناب بلاول زرداری تو رہتے ہی باہر ہیں۔
ہمارے بعض لیڈر ایسے بھی ہیں جو کسی دہری شہریت کی پابندی کے بھی حامل نہیں بلکہ پوری دنیا ان کا گھر ہے۔وہ عالمی شہریت رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ کہیں بھی اجنبی نہیں ہیں سچ ہے کہ پیسہ بولتا ہے۔ میں ایک بار ایسے ملک میں گیا جہاں کی زبان کا مجھے قطعاً کچھ پتہ نہیں تھا لیکن میری جیب بھری ہوئی تھی جو میری ترجمان تھی۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی ایسا جاندار ادارہ ہو جو ان لوگوں کو ملک کے اندر پابند کر دے اور ان سے حساب کتاب کر لے۔
بہر کیف یہ سب شیخ چلی والی باتیں ہیں لیکن کبھی کبھار یہ محسوس ہوتا ہے کہ خود فریبی کے امام شیخ چلی بالکل درست تھے۔ ایک خوش فہم ہر فکر سے آزاد ایک بے تکان زندگی کے مالک جن کی دولت ان کی حقیقت پسندانہ سوچ تھی۔ ہم عقلمند لوگ آج بھی ان کی کسی بات کو یاد کر کے اس کا سہارا لیتے ہیں اور ہنس لیتے ہیں لیکن یہ لطیفے نہیں زندگی کے حقائق ہیں کاش ہم سب شیخ چلی ہوتے۔