تاجر برادری جرات سے کام لے
کراچی میں ہونے والے غیرانسانی اور بہیمانہ واقعات کی دردانگیزی سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے
آج شہر قائد کو دنیا قاتلوں، بھتہ خوروں، پرچی مافیا اور ٹارگٹ کلرز کا محفوظ قلعہ سمجھتی ہے، فوٹو این این آئی
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ تاجروں کی حفاظت کے لیے متحدہ تحفظ بزنس کمیونٹی فورم بنائے جس کے ایک لاکھ کارکن تاجروں، صنعتکاروں اور دکانداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حاضر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو جناح گراؤنڈ عزیز آباد میں ایم کیو ایم کے زیر اہتمام افطار ڈنر کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھتہ مافیا، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی مسلسل دردناک وارداتوں نے نہ صرف منی پاکستان بلکہ ملک کے ہر محب وطن شخص کو غمزدہ کر دیا ہے۔ آج شہر قائد کو دنیا قاتلوں، بھتہ خوروں، پرچی مافیا اور ٹارگٹ کلرز کا محفوظ قلعہ سمجھتی ہے جہاں کسی کی جان محفوظ نہیں، صرف 15دنوں میں 80 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں' ہر طرف خوف و ہراس کی کیفیت ہے۔
الطاف حسین نے صحیح وقت پر موجودہ سماجی مسائل اور امن و امان کی مخدوش صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے صائب اپیل کی ہے' کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور یہاں ملک بھر کے لاکھوں محنت کش آکر رچ بس چکے ہیں، حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ کراچی میں ہونے والے غیرانسانی اور بہیمانہ واقعات کی دردانگیزی سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمے داریوں کا ادراک کریں،
صرف امن قائم کرنے کے دعوے نہ کریں بلکہ مجرم عناصر، پیشہ ور قاتلوں اور بھتہ خوروں کو چاہے وہ کسی روپ اور کسی کی سرپرستی میں ہوں قانون کی گرفت میں لا کرانتہائی عبرت ناک سزا دلوائیں۔ الطاف حسین نے مزید کہا کہ بھتہ مافیا اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں پر ان کی صدر مملکت، آئی ایس آئی کے سربراہان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے بات ہوئی لیکن جب سانحہ شیرشاہ کے ذمے داروں کو گرفتار کر کے صبح رہا کر دیا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ نہ دے سکیں تو شہر میں امن و امان کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ جرائم پیشہ گروہ اور بھتہ خور تاجروں اور صنعتکاروں کے گھروں پر دستی بموں سے حملے کر رہے ہیں۔ لوگ مارکیٹوں میں خریداری کے لیے جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ منی پاکستان کو بے رحم مجرمانہ گروہوں' نادیدہ اور نامعلوم مسلح افراد کی باہمی کشیدگی، پولیس اور رینجرز کی ناکامی اور اسٹریٹ کرمنلز کی محلوں اور بازاروں میں وارداتوں کے باعث شدید سماجی اور معاشی ابتری کے ساتھ ساتھ امن و امان کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تاجر برادری کو بھتہ خوروں کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے ۔ ہمت کرنی چاہیے تاکہ قانون شکن عناصر کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھتہ مافیا، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی مسلسل دردناک وارداتوں نے نہ صرف منی پاکستان بلکہ ملک کے ہر محب وطن شخص کو غمزدہ کر دیا ہے۔ آج شہر قائد کو دنیا قاتلوں، بھتہ خوروں، پرچی مافیا اور ٹارگٹ کلرز کا محفوظ قلعہ سمجھتی ہے جہاں کسی کی جان محفوظ نہیں، صرف 15دنوں میں 80 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں' ہر طرف خوف و ہراس کی کیفیت ہے۔
الطاف حسین نے صحیح وقت پر موجودہ سماجی مسائل اور امن و امان کی مخدوش صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے صائب اپیل کی ہے' کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور یہاں ملک بھر کے لاکھوں محنت کش آکر رچ بس چکے ہیں، حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ کراچی میں ہونے والے غیرانسانی اور بہیمانہ واقعات کی دردانگیزی سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمے داریوں کا ادراک کریں،
صرف امن قائم کرنے کے دعوے نہ کریں بلکہ مجرم عناصر، پیشہ ور قاتلوں اور بھتہ خوروں کو چاہے وہ کسی روپ اور کسی کی سرپرستی میں ہوں قانون کی گرفت میں لا کرانتہائی عبرت ناک سزا دلوائیں۔ الطاف حسین نے مزید کہا کہ بھتہ مافیا اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں پر ان کی صدر مملکت، آئی ایس آئی کے سربراہان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے بات ہوئی لیکن جب سانحہ شیرشاہ کے ذمے داروں کو گرفتار کر کے صبح رہا کر دیا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ نہ دے سکیں تو شہر میں امن و امان کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ جرائم پیشہ گروہ اور بھتہ خور تاجروں اور صنعتکاروں کے گھروں پر دستی بموں سے حملے کر رہے ہیں۔ لوگ مارکیٹوں میں خریداری کے لیے جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ منی پاکستان کو بے رحم مجرمانہ گروہوں' نادیدہ اور نامعلوم مسلح افراد کی باہمی کشیدگی، پولیس اور رینجرز کی ناکامی اور اسٹریٹ کرمنلز کی محلوں اور بازاروں میں وارداتوں کے باعث شدید سماجی اور معاشی ابتری کے ساتھ ساتھ امن و امان کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تاجر برادری کو بھتہ خوروں کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے ۔ ہمت کرنی چاہیے تاکہ قانون شکن عناصر کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔