برآمدی صنعتوں کی مقامی سپلائیز اور بنولہ آئل پر سیلز ٹیکس عائد روئی و پھٹی کو استثنیٰ
کاٹن سیڈآئل کی سپلائی پر2فیصد،ٹیکسٹائل سمیت زیروریٹڈاشیا کی مقامی فروخت پر5فیصدسیلزٹیکس لیاجائیگا
صنعتی خام مال بھی مستثنیٰ،رجسٹرڈمینوفیکچررز کوٹیکس شدہ ان پٹ اور ایکسپورٹرز کوریفنڈملے گا،مقامی سپلائی پرسہولت نہیں دی جائیگی، نوٹیفکیشنز جاری۔ فوٹو: عیسیٰ ملک/فائل
وفاقی حکومت نے کاٹن سیڈ آئل کی سپلائی پر 2 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا ہے تاہم خام اور جننگ شدہ روئی کی درآمد اور سپلائی کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیدیا ہے۔
جبکہ ٹیکسٹائل اور لیدر سمیت پانچ زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ اشیا کی مقامی مارکیٹ میں رجسٹرڈ و ان رجسٹرڈ پروچون فروشوں(ریٹیلرز) یا براہ راست صارفین کو فروخت پر5فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا البتہ رجسٹرڈ مینوفیکچررز کی طرف سے دوسرے صنعت کاروں و رجسٹرڈ و ان رجسٹرڈ لوگوں کی فیبرکس سمیت دیگر اشیا کی پراسیسنگ پر سیلز ٹیکس کی شرح 5فیصد سے کم کرکے 2فیصد کردی گئی ہے۔
اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے گزشتہ روز3 نوٹیفکیشنز جاری کردیے گئے جن کے تحت ایف بی آر نے سال 2008 اور2011 میں جاری کردہ ایس آراوز نمبر551(I)/2008 اور 1125(I)/2011 میںترامیم کردی ہیں، اس کے علاوہ تیسرے نوٹیفکیشن نمبر 213(I)/2013 کے تحت کاٹن سیڈ آئل کی سپلائی پر 2فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ پہلے ترمیمی ایس آر او نمبر 220(I)/2013 کے تحت خام روئی اور جننگ شدہ روئی کی درآمد اور سپلائی کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیدیا ہے۔
اس کے علاوہ ایف بی آر کے جاری کردہ تیسرے ترمیمی ایس آراو نمبر221(I)/2013 کے تحت ٹیکسٹائل، لیدر،کارپٹ، اسپورٹس سمیت 5 زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ اشیا کی مقامی مارکیٹ میں رجسٹرڈ اور ان رجسٹرڈ پروچون فروشوں و صارفین کو فروخت پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
مذکورہ ترمیمی ایس آر او کے ذریعے انڈسٹریل ان پٹ کے طور پر استعمال ہونے والے خام مال کی سپلائی کو 5 فیصد سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیدیا گیا ہے اور اس کے لیے یہ شرط بھی ختم کردی گئی ہے کہ یہ زیرو ریٹنگ کی سہولت صرف رجسٹرڈ لوگوں کو ملے گی، اب رجسٹرڈ اور ان رجسٹرڈ دونوں کو انڈسٹریل خام مال زیرو سیلز ٹیکس پر سپلائی ہوسکے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایسے رجسٹرڈ مینوفیکچررز جو ایسا خام مال استعمال کریں گے جس پر سیلز ٹیکس ادا کیا گیا ہوگا تو وہ اسکی ایڈجسٹمنٹ لے سکیں گے تاہم زیرو ریٹڈ اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر ریفنڈ کلیم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی لیکن برآمد کنندگان اپنی برآمدات پر یہ ریفنڈ کلیم کرسکیں گے۔
جبکہ ٹیکسٹائل اور لیدر سمیت پانچ زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ اشیا کی مقامی مارکیٹ میں رجسٹرڈ و ان رجسٹرڈ پروچون فروشوں(ریٹیلرز) یا براہ راست صارفین کو فروخت پر5فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا البتہ رجسٹرڈ مینوفیکچررز کی طرف سے دوسرے صنعت کاروں و رجسٹرڈ و ان رجسٹرڈ لوگوں کی فیبرکس سمیت دیگر اشیا کی پراسیسنگ پر سیلز ٹیکس کی شرح 5فیصد سے کم کرکے 2فیصد کردی گئی ہے۔
اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے گزشتہ روز3 نوٹیفکیشنز جاری کردیے گئے جن کے تحت ایف بی آر نے سال 2008 اور2011 میں جاری کردہ ایس آراوز نمبر551(I)/2008 اور 1125(I)/2011 میںترامیم کردی ہیں، اس کے علاوہ تیسرے نوٹیفکیشن نمبر 213(I)/2013 کے تحت کاٹن سیڈ آئل کی سپلائی پر 2فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ پہلے ترمیمی ایس آر او نمبر 220(I)/2013 کے تحت خام روئی اور جننگ شدہ روئی کی درآمد اور سپلائی کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیدیا ہے۔
اس کے علاوہ ایف بی آر کے جاری کردہ تیسرے ترمیمی ایس آراو نمبر221(I)/2013 کے تحت ٹیکسٹائل، لیدر،کارپٹ، اسپورٹس سمیت 5 زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ اشیا کی مقامی مارکیٹ میں رجسٹرڈ اور ان رجسٹرڈ پروچون فروشوں و صارفین کو فروخت پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
مذکورہ ترمیمی ایس آر او کے ذریعے انڈسٹریل ان پٹ کے طور پر استعمال ہونے والے خام مال کی سپلائی کو 5 فیصد سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیدیا گیا ہے اور اس کے لیے یہ شرط بھی ختم کردی گئی ہے کہ یہ زیرو ریٹنگ کی سہولت صرف رجسٹرڈ لوگوں کو ملے گی، اب رجسٹرڈ اور ان رجسٹرڈ دونوں کو انڈسٹریل خام مال زیرو سیلز ٹیکس پر سپلائی ہوسکے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایسے رجسٹرڈ مینوفیکچررز جو ایسا خام مال استعمال کریں گے جس پر سیلز ٹیکس ادا کیا گیا ہوگا تو وہ اسکی ایڈجسٹمنٹ لے سکیں گے تاہم زیرو ریٹڈ اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر ریفنڈ کلیم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی لیکن برآمد کنندگان اپنی برآمدات پر یہ ریفنڈ کلیم کرسکیں گے۔