کسٹمزری بیٹ ودیگرریفنڈز کے چیکس باؤنس ہونے کا انکشاف
چیک بائونس ہوناایف بی آرکے مالی بحران کی زد میں ہونے کی عکاسی ہے،ذرائع
چیئرمین پی ایچ ایم اے کاممبرکسٹمزکوخط،زیروریٹنگ برقرار،معاملے کانوٹس لینے کامطالبہ۔ فوٹو: فائل
ایف بی آر کے جاری کردہ کسٹمز ری بیٹ ودیگر ریفنڈزکے چیکس بائونس ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس سے قابل ریفنڈ ٹیکسز وڈیوٹی ادا کرنے والے تاجر، صنعت کار اور برآمدکنندگان میں ایف بی آرپر بھی اعتماد مجروح ہوگیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ برآمدی شعبے سے تعلق رکھنے والی مختلف نمائندہ تنظیموں کو انکے اراکین کی جانب سے ریفنڈ کے چیکس بائونس کی شکایات موصول ہو رہی ہیں جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وفاقی وزارت خزانہ کے ماتحت قومی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو بھی زبردست مالی بحران کی زد میں ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک برآمدکنندہ رکن نے شکایت کی ہے کہ محکمہ کسٹمز کے ایک کلکٹر کی جانب سے 4 فروری 2013 کو کسٹمز ریبیٹ کی مد میں ایک چیک جاری کیا گیا تھا لیکن متعلقہ بینک میں جمع کرانے کی صورت میں حکومتی ادارے کا یہ چیک بائونس ہوگیا جو نہ صرف متعلقہ برآمدکنندہ بلکہ پوری انڈسٹری کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
اس ضمن میں پی ایچ ایم اے کے چیئرمین جاوید بلوانی کی جانب سے ممبرکسٹمز ایف بی آر ریاض خان کو ہنگامی بنیادوں پر ایک خط بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں سرکاری چیک بائونس ہونے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برآمدکنندگان ایف بی آر اور اس کے ماتحت محکموں کے جاری کردہ چیکوں پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے انہیں گارنٹیڈ تصور کرتے تھے اور کاروباری سرگرمیوں کے دوران سرکاری چیکوں کی ضمانت پر ادائیگیوں کے دیگر چیکس جاری کرتے تھے لیکن ری بیٹ اور ریفنڈ کے چیکس بائونس ہونے کے اس نئے رحجان کے سبب ان میں مایوسی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ انہی سرکاری چیکوں کے عوض انہوں نے متعدد کاروباری چیکس کا اجرا کیا تھا جو بائونس ہوگئے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے ماتحت محکموں کے چیکس بائونس ہونے کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آر کے پاس فنڈ کا بحران ہے اور اس بحران کی موجودگی میں متعلقہ حکام کس طرح برآمدکنندگان کے اربوں روپے مالیت کے پھنسے ہوئے سیلزٹیکس، فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی اورکسٹمز ریفنڈز کریں گے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ حقائق کے باوجود ایف بی آر پانچ زیروریٹڈ سیکٹر کو دوبارہ ریفنڈ کے نظام میں دھکیلنا چاہتا ہے جو ان شعبوں کے مستقبل کو مزیدخطرے سے دوچار کردے گا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایف بی آر مزکورہ پانچ زیروریٹڈ شعبوں کے لیے 'نوپیمنٹ نوریفنڈ ریجیم' کو برقرار رکھتے ہوئے 28 فروری2013 کے جاری کردہ ایس آراو154 کو فی الفور منسوخ کرنے کے احکام جاری کرے اور ساتھ ہی کسٹمز ری بیٹ ودیگر ریفنڈز کے چیکس بائونس ہونے کی شکایات کا ازالہ کرے۔
ذرائع نے بتایا کہ برآمدی شعبے سے تعلق رکھنے والی مختلف نمائندہ تنظیموں کو انکے اراکین کی جانب سے ریفنڈ کے چیکس بائونس کی شکایات موصول ہو رہی ہیں جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وفاقی وزارت خزانہ کے ماتحت قومی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو بھی زبردست مالی بحران کی زد میں ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک برآمدکنندہ رکن نے شکایت کی ہے کہ محکمہ کسٹمز کے ایک کلکٹر کی جانب سے 4 فروری 2013 کو کسٹمز ریبیٹ کی مد میں ایک چیک جاری کیا گیا تھا لیکن متعلقہ بینک میں جمع کرانے کی صورت میں حکومتی ادارے کا یہ چیک بائونس ہوگیا جو نہ صرف متعلقہ برآمدکنندہ بلکہ پوری انڈسٹری کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
اس ضمن میں پی ایچ ایم اے کے چیئرمین جاوید بلوانی کی جانب سے ممبرکسٹمز ایف بی آر ریاض خان کو ہنگامی بنیادوں پر ایک خط بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں سرکاری چیک بائونس ہونے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برآمدکنندگان ایف بی آر اور اس کے ماتحت محکموں کے جاری کردہ چیکوں پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے انہیں گارنٹیڈ تصور کرتے تھے اور کاروباری سرگرمیوں کے دوران سرکاری چیکوں کی ضمانت پر ادائیگیوں کے دیگر چیکس جاری کرتے تھے لیکن ری بیٹ اور ریفنڈ کے چیکس بائونس ہونے کے اس نئے رحجان کے سبب ان میں مایوسی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ انہی سرکاری چیکوں کے عوض انہوں نے متعدد کاروباری چیکس کا اجرا کیا تھا جو بائونس ہوگئے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے ماتحت محکموں کے چیکس بائونس ہونے کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آر کے پاس فنڈ کا بحران ہے اور اس بحران کی موجودگی میں متعلقہ حکام کس طرح برآمدکنندگان کے اربوں روپے مالیت کے پھنسے ہوئے سیلزٹیکس، فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی اورکسٹمز ریفنڈز کریں گے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ حقائق کے باوجود ایف بی آر پانچ زیروریٹڈ سیکٹر کو دوبارہ ریفنڈ کے نظام میں دھکیلنا چاہتا ہے جو ان شعبوں کے مستقبل کو مزیدخطرے سے دوچار کردے گا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایف بی آر مزکورہ پانچ زیروریٹڈ شعبوں کے لیے 'نوپیمنٹ نوریفنڈ ریجیم' کو برقرار رکھتے ہوئے 28 فروری2013 کے جاری کردہ ایس آراو154 کو فی الفور منسوخ کرنے کے احکام جاری کرے اور ساتھ ہی کسٹمز ری بیٹ ودیگر ریفنڈز کے چیکس بائونس ہونے کی شکایات کا ازالہ کرے۔