عرب لیگ کا القدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا عندیہ
عربوں میں ایک محاورہ مشہور ہے کہ عرب صرف عدم اتفاق پر ہی متفق ہوتے ہیں
عربوں میں ایک محاورہ مشہور ہے کہ عرب صرف عدم اتفاق پر ہی متفق ہوتے ہیں۔ فوٹو:فائل
امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے متنازعہ اعلان کے بعد دنیا بھر میں ایک انتشار کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور مسلم امہ میں تشویش اور بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔
اردن نے کہا ہے کہ عرب لیگ کو فلسطین کی علیحدہ ریاست کو تسلیم کر لینا چاہیے جس کا صدر مقام مشرقی یروشلم ہو کیونکہ امریکا کی طرف سے القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد یہ ناگزیر ہے کہ عالم عرب بھی اس حوالے سے عملی اقدامات کرے کیونکہ محض زبانی جمع خرچ سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
واضح رہے گزشتہ روز اردن کے دارالحکومت عمان میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اردنی وزیر خارجہ ایمن صفاتی نے مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد بیان پڑھ کر سنایا۔ عرب لیگ کے سربراہ احمد عبدالغیث نے عمان میں یروشلم کی حیثیت کے بارے میں بات چیت کی۔ مذاکرات میں مصر' سعودی عرب' مراکش اور فلسطینی اتھارٹی کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی جب کہ یو اے ای کی طرف سے وزیر مملکت برائے امور خارجہ شامل ہوئے۔
عرب وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ انھیں القدس شریف کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے کے لیے دنیا بھر میں سیاسی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی ممالک کی طرف سے اس حوالے میں صرف زبانی کلامی مذمت پر اکتفا کیا جا رہا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ طریقہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکا۔ عربوں میں ایک محاورہ مشہور ہے کہ عرب صرف عدم اتفاق پر ہی متفق ہوتے ہیں۔
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرقی یروشلم کو فلسطینی اتھارٹی کا دارالحکومت بنانے کے اعلان میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے ورنہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ عبدالغیث نے مزید کہا کہ اس ماہ کے اواخر میں یروشلم پر بات چیت کے لیے عرب لیگ کا ایک اضافی اجلاس منعقد کرایا جائے گا۔
واضح رہے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے متنازعہ اعلان سے عالم عرب اور مسلم ممالک میں شدید ردعمل ظاہر ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم نہیں کیا۔
واضح رہے اسرائیل نے 1976ء میں مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر بزور طاقت قبضہ کر لیا تھا جو مسلسل اس کے قبضے میں ہے۔ عمان میں اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوئم نے بھی عرب سفارتی حکام سے ملاقات کی اور اس موضوع پر بات چیت کی۔ٹرمپ کے دل آزاری کرنے والے بیان کے حوالے سے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عرب لیگ یا مسلم امہ کی طرف سے محض زبانی احتجاج کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی خوشنودی کے لیے اپنی پیشرفت جاری رکھیں گے اور جو چاہیں گے کر گزریں گے۔
اردن نے کہا ہے کہ عرب لیگ کو فلسطین کی علیحدہ ریاست کو تسلیم کر لینا چاہیے جس کا صدر مقام مشرقی یروشلم ہو کیونکہ امریکا کی طرف سے القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد یہ ناگزیر ہے کہ عالم عرب بھی اس حوالے سے عملی اقدامات کرے کیونکہ محض زبانی جمع خرچ سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
واضح رہے گزشتہ روز اردن کے دارالحکومت عمان میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اردنی وزیر خارجہ ایمن صفاتی نے مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد بیان پڑھ کر سنایا۔ عرب لیگ کے سربراہ احمد عبدالغیث نے عمان میں یروشلم کی حیثیت کے بارے میں بات چیت کی۔ مذاکرات میں مصر' سعودی عرب' مراکش اور فلسطینی اتھارٹی کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی جب کہ یو اے ای کی طرف سے وزیر مملکت برائے امور خارجہ شامل ہوئے۔
عرب وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ انھیں القدس شریف کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے کے لیے دنیا بھر میں سیاسی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی ممالک کی طرف سے اس حوالے میں صرف زبانی کلامی مذمت پر اکتفا کیا جا رہا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ طریقہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکا۔ عربوں میں ایک محاورہ مشہور ہے کہ عرب صرف عدم اتفاق پر ہی متفق ہوتے ہیں۔
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرقی یروشلم کو فلسطینی اتھارٹی کا دارالحکومت بنانے کے اعلان میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے ورنہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ عبدالغیث نے مزید کہا کہ اس ماہ کے اواخر میں یروشلم پر بات چیت کے لیے عرب لیگ کا ایک اضافی اجلاس منعقد کرایا جائے گا۔
واضح رہے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے متنازعہ اعلان سے عالم عرب اور مسلم ممالک میں شدید ردعمل ظاہر ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم نہیں کیا۔
واضح رہے اسرائیل نے 1976ء میں مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر بزور طاقت قبضہ کر لیا تھا جو مسلسل اس کے قبضے میں ہے۔ عمان میں اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوئم نے بھی عرب سفارتی حکام سے ملاقات کی اور اس موضوع پر بات چیت کی۔ٹرمپ کے دل آزاری کرنے والے بیان کے حوالے سے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عرب لیگ یا مسلم امہ کی طرف سے محض زبانی احتجاج کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی خوشنودی کے لیے اپنی پیشرفت جاری رکھیں گے اور جو چاہیں گے کر گزریں گے۔