پانی کا بحران حل کرنے کیلیے مفادات سے بالاتر پالیسی کی ضرورت
کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا اب حکومت کے بس میں نہیں رہا
کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا اب حکومت کے بس میں نہیں رہا ۔ فوٹو: فائل
یہ بات ہم کافی تسلسل سے سن رہے ہیں کہ اگلی جنگیں پانی کے مسئلہ پر ہوں گی اور یہ جنگیں زیادہ خون ریز اس وجہ سے ہوں گی کہ پانی انسانوں اور حیوانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس لیے وہ زیادہ شدت سے جنگ کرے گا اور اس جنگ کا انجام زیادہ بھیانک ہو گا۔
آبی وسائل کے وفاقی وزیر جاوید علی شاہ نے تسلیم کیا ہے پانی کی قلت ہمارے ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا حل ڈیمز کی تعمیر میں ہے لیکن ستر سال میں پہلی مرتبہ موجودہ حکومت واٹر پالیسی دینے جا رہی ہے اور یہ کیس مشترکہ مفادات کی کونسل کو بھیج دیا ہے تاکہ تمام صوبوں کی رائے لی جائے۔
آبی وسائل کے وزیر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا اب حکومت کے بس میں نہیں رہا کیونکہ مس ہینڈلنگ سے یہ معاملہ خراب ہو چکا ہے جس میں ہمارے ازلی دشمن کی سازشوں کا بھی عمل دخل بدرجہ اتم موجود ہے۔ آبی وسائل کے وزیر نے بتایا اس وقت ملک میں 9 آبی منصوبے زیر تکمیل ہیں جن میں دیامیربھاشا اور منڈا ڈیمز بہت جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے پروگرام ''میٹ دی ایڈیٹرز'' میں کیا۔
جاوید علی شاہ نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سیاسی ایشو بن چکا ہے جس پر اتفاق رائے حاصل کرنا ضروری ہے مگر ہمیں سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے، جہاں بے یقینی کی کیفیت ہو وہاں کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ بہرحال معاملات جیسے بھی ہوں' پاکستان کو غربت اور پسماندگی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے آبی وسائل کو منصوبہ بندی سے استعمال کرنے اور آبی ذخائر تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے' پاکستان میں پانی کا بحران خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے اور اس مسئلے پر کسی بھی گروہ کو سیاست نہیں کرنی چاہیے' اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اپنی ترجیحات کی سمت درست رکھنی چاہیے اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پانی کے بحران کو حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
آبی وسائل کے وفاقی وزیر جاوید علی شاہ نے تسلیم کیا ہے پانی کی قلت ہمارے ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا حل ڈیمز کی تعمیر میں ہے لیکن ستر سال میں پہلی مرتبہ موجودہ حکومت واٹر پالیسی دینے جا رہی ہے اور یہ کیس مشترکہ مفادات کی کونسل کو بھیج دیا ہے تاکہ تمام صوبوں کی رائے لی جائے۔
آبی وسائل کے وزیر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا اب حکومت کے بس میں نہیں رہا کیونکہ مس ہینڈلنگ سے یہ معاملہ خراب ہو چکا ہے جس میں ہمارے ازلی دشمن کی سازشوں کا بھی عمل دخل بدرجہ اتم موجود ہے۔ آبی وسائل کے وزیر نے بتایا اس وقت ملک میں 9 آبی منصوبے زیر تکمیل ہیں جن میں دیامیربھاشا اور منڈا ڈیمز بہت جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے پروگرام ''میٹ دی ایڈیٹرز'' میں کیا۔
جاوید علی شاہ نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سیاسی ایشو بن چکا ہے جس پر اتفاق رائے حاصل کرنا ضروری ہے مگر ہمیں سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے، جہاں بے یقینی کی کیفیت ہو وہاں کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ بہرحال معاملات جیسے بھی ہوں' پاکستان کو غربت اور پسماندگی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے آبی وسائل کو منصوبہ بندی سے استعمال کرنے اور آبی ذخائر تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے' پاکستان میں پانی کا بحران خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے اور اس مسئلے پر کسی بھی گروہ کو سیاست نہیں کرنی چاہیے' اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اپنی ترجیحات کی سمت درست رکھنی چاہیے اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پانی کے بحران کو حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔