استعفے … مگر کب دیں گے

اسمبلیوں سے استعفے یوں سمجھئے کہ جیسے کوئی شیر خوار بچہ اپنے منہ سے خود ہی دودھ کی بوتل ہٹائے.

barq@email.com

زندہ باد پایندہ باد بلکہ گویندہ باد ۔۔۔۔ آخرکار اے این پی نے قربانی کی ایک مثال قائم کر ہی دی اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ خود بھی قربانی دینے کا جذبہ رکھتی ہے، ''لوڈ شیڈنگ'' کے سلسلے میں آپ نے ''استعفوں'' کا اعلان تو سن لیا ہو گا ۔کیا بات ہے، کیا بات ہے کیا بات ۔۔۔۔؟

ادائے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

آ کے کہدے کوئی اس ''سہرے'' سے بڑھ کر ''سہرا'' ۔ آپ نے تو صرف یہ اعلان سن لیا ہے لیکن ذرا جا کر ''ستاروں'' سے پوچھیے، سیاروں میں پتہ لگایئے، کہکشاؤں میں معلوم کیجیے کہ اس اعلان نے کیا بگ بینگ مارا ہے۔

سب سے پہلے تو جب یہ اعلان ہوا تو ایک قیامت برپا ہوئی، پانی پانی ہوا، سورج سورج بن گیا اور ہوا ہوا ہو کر رہ گئی، جانوروں نے رسے تڑائے، انسانوں کے دل دھک دھک کرنے لگے اور نباتات و جمادات تھرا کر رہ گئے۔ بقول اجمل خٹک

سہ د غم خبر دے واؤریدو خٹکہ
چہ لمبے شوے د خیبر نہ تر اٹکہ

یعنی اے خٹک یہ تم نے کیسی غم کی خبر سنی کہ خیبر سے لے کر اٹک تک آگ ہی آگ بھڑک اٹھی، اس کے بعد سنا ہے اوزون کا پہلا شگاف بھی دگنا ہو گیا اور اس سے چار گنا زیادہ ایک اور شگاف اس میں پڑ گیا۔ اوزون سے نکل کر جب اس اعلان نے ٹیک آف کر لیا تو پہلا نشانہ چاند ہوا۔

بے چارے کے چہرے کا داغ اور بھی سیاہ پڑ گیا بلکہ پورے چاند میں جیسے لوڈ شیڈنگ ہو گئی ہو، سورج کے خاندان کے سیارے تو تھر تھر کانپنے لگے لیکن خود سورج کا حال اس سے بھی ابتر ہو گیا، ایک لمبی سانس لے کر اس نے اتنی حرارت خارج کر دی کہ پٹرولیم گیس بن کر رہ گیا اور گیس ہوا ہو گئی اور ہوا نہ جانے کہاں چلی گئی کہ بے چارے پنکھوں کو بھی نہیں مل رہی ہے۔

مجھ کو بے رنگ نہ کر دیں کہیں یہ رنگ اتنے
زرد موسم ہے ہوا سرخ فضا نیلی ہے

سنا ہے پہلے آسمان میں جب یہ خبر پہنچی تو ایک بھگدڑ سی مچ گئی، پہلے آسمان کا ہر باسی دوسرے آسمان پر بھاگنے کی سعی کرنے لگا جب کہ دوسرے آسمان والے پہلے ہی تیسرے آسمان کے بارے میں سوچ رہے ہیں جہاں کے باسی پانچویں آسمان پر منتقل ہو چکے تھے کیونکہ چھٹے آسمان والے کب کے ساتویں آسمان پر نقل مکانی کر چکے تھے۔


اس کے بعد کا معلوم نہیں ہے لیکن اتنا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شاید وہاں اس ''دن'' کے بارے میں سوچا جا رہا ہے جس کا وعدہ ہے اور جو لوح ازل میں لکھا ہے، کیونکہ یہ کوئی معمولی اعلان نہیں تھا، اسمبلیوں سے استعفیٰ، ہو ہو ہو ۔۔۔۔ آسمان ٹوٹ کیوں نہیں پڑتا، زمین پھٹ کیوں نہیں گئی، اتنی بڑی قربانی بلکہ قربانیاں؟ اسمبلیوں سے استعفے یوں سمجھئے کہ جیسے کوئی شیر خوار بچہ اپنے منہ سے خود ہی دودھ کی بوتل ہٹائے اور دور پھینک دے اور دودھ بھی وہ جو بے حد شیریں اور لذیز ہو اور زندگی میں پہلی مرتبہ ملا ہو، عام لوگ یقیناً انگشت بدندان اور سر بہ گریباں ہوں گے کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ اور وہ بھی اے این پی والے۔

جو نہ جانے کتنی قربانیاں دے کر یہاں تک پہنچے ہیں، جان و مال کی قربانیاں تو بہت سے لوگ دیتے ہیں لیکن عقائد و نظریات کی قربانی کوئی ان سے سیکھے اور آج یہ متاع عزیز لٹانے کا اعلان کر رہے ہیں، اس سے بڑی بات نہ کبھی تاریخ میں ہوئی ہے اور نہ جغرافیے میں دیکھی گئی ہے البتہ سیاست کی اور بات ہے یہاں اس سے بھی بڑے بڑے عجوبے ملتے ہیں، ہم تو اے این پی والوں کی اس عظیم قربانی پر عش عش ہی کریں گے جب تک غش نہ آ جائے۔

لیکن کچھ بدنیت لوگ ایسے بھی ہیں جو اس سے طرح طرح کے معنی نکال رہے ہیں اور پہنا رہے ہیں ایسے ہی ایک دل جلے نے کہا، شاید ان لوگوں نے اپنے برتن بھانڈے سب بھر لیے ہیں، دوسرے نے کہا عوام تو بے وقوف تھے ہی لیکن یہ لیڈر بھی ہو گئے بھلا ایسی باتوں سے بھی کوئی بہلتا ہے، تیسرے نے تو باقاعدہ مومن خان مومن کو سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے ،

عمر ساری تو کٹی ''عشق بتاں'' میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

ایک نے تو پشتو کا وہ مشہور و معروف لطیفہ سنا دیا جس میں ایک شخص کسی عزیز کی شادی میں سب کچھ ہڑپنے کے بعد اس فکر میں تھا کہ کسی طرح آخری مرحلے کے خرچے سے بچا جائے چنانچہ جب شادی والے نے کہا کہ بھئی لوگوں کو کھانا کھلا دیا تو یہ حضرت اٹھ گئے ۔۔۔

اچھا اب ہم ''لوگ'' ہو گئے اور روٹھ کر چلے گئے، ایک اور نے بھی ایک گھسا پٹا لطیفہ سنایا، ایک شخص کے بارے میں مشہور تھا کہ بڑا پیٹو ہے اور پرائے گھر میں بہت کھاتا ہے چنانچہ ایک شخص کے ہاں مہمان ہوا تو دیکھا کہ دستر خوان پر پچاس روٹیوں کا ڈھیر لگا ہے، سمجھ گیا چنانچہ ناراض ہوتے ہوئے بولا ۔۔۔

کیا تم لوگوں نے مجھے جانور سمجھ رکھا ہے جو اتنی روٹیاں رکھی ہیں، اٹھاؤ کم کرو اس میں سے ۔۔۔ اور پھر ڈھیر میں سے دو روٹیاں اٹھا کر نوکر کو پکڑا دیں میں کوئی بلا ہوں کیا؟ اور یہ تو عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ شاید پاکستان سے دبئی خیبر سے کراچی اور تھائی لینڈ بنکاک سے یورپ امریکا تک جتنے برتن بھانڈے اپنے پاس تھے سارے بھر چکے ہیں اور نئے برتن بھانڈے لینے کے لیے ''وقت'' چاہیے کیونکہ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے اور یہ تو سب کہہ رہے ہیں کہ اب اس میں ''وت مار'' کی کیا بات ہے۔

اگر دینا ہے تو استعفے دے ڈالیں کیونکہ لوڈ شیڈنگ جاری و ساری ہے، ایک نے تو ہمیں ہمارا ہی لطیفہ سنا دیا۔ اس بیوی کا جو یہ کہہ کر میکے گئی تھی کہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گی لیکن جب شوہر نے کافی عرصے تک خیر خبر نہ لی تو ایک دن آ کر دروازے پر کھڑی ہو گئی اور جب مویشی گھر جا رہے تھے تو یہ بھی ایک گائے کی دم پکڑ کر ساتھ چلی گئی۔ شوہر نے دیکھتے ہی کہا، تم پھر آگئی۔

بیوی نے کہا، میں کہاں آ رہی تھی، وہ تو یہ گائے مجھے پکڑ کر گھر لائی ہے، لیکن سب سے زبردست لطیفہ چشم گل چشم عرف قہر خداوندی نے سنایا ۔۔۔ بولا ۔۔۔ ایک ہندو سیٹھ گاؤں گاؤں جا کر کپڑے بیچتا تھا۔ کئی بار ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹنے کے بعد اس نے اپنے لیے ایک محافظ رکھ لیا جو اس کے ساتھ پھرتا تھا ۔ ایک مرتبہ وہ دشت و بیابان میں دوپہر کو سائے تلے آرام کر رہے تھے کہ ڈاکو آ گئے۔ اس وقت سیٹھ کا محافظ سویا ہوا تھا۔

ڈاکوؤں نے سیٹھ سے سب کچھ چھین لیا ،جاتے سمے انھیں دل لگی سوجھی چنانچہ سوئے ہوئے محافظ کی جیب سے ڈبیہ نکالی، اس کی ناک میں بہت ساری نسوار ڈالی ،محافظ چھینک مار کر اٹھا اور پھر اس نے ڈاکوؤں کو مار مار کر بھگا دیا۔ سیٹھ کا سارا سامان بھی اس سے چھین لیا۔

شہر واپس آکر سیٹھ نے محافظ کا حساب کر کے نوکری سے نکال دیا تو وہ بولا ،کیوں میرا قصور کیا ہے، ڈاکوؤں سے میں نے تمہارا مال تو بچا لیا ۔۔۔ سیٹھ بولا ۔۔۔ بچا تو لیا لیکن ایسا کون کرے گا کہ پہلے تمہاری جیب سے نسوار کی ڈبیہ نکالے پھر ناک میں نسوار ڈالے اور پھر تم جاگو ۔۔۔ لوڈ شیڈنگ کل پرسوں سے تو نہیں ہے لیکن ان کی ناک میں نسوار اب پڑی جب دن گنے جا چکے ہیں۔
Load Next Story