انتخابات کی تیاری اور جلسوں کا انعقاد

ایک قومی جماعت بننے کے لیے ملک کے ہر حصے میں مقبولیت حاصل کرنا ضروری ہے

ایک قومی جماعت بننے کے لیے ملک کے ہر حصے میں مقبولیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ فوٹو: فائل

ملک میں عام انتخابات کے دن قریب آنے کے ساتھ ہی تمام سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ملک بھر میں رائے عامہ کی ہمواری اور اپنا سیاسی منشور پیش کرنے کے لیے عوامی جلسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی ایک عرصہ بعد باقاعدہ فعال ہوتے ہوئے عوام سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ اتوار کی شب اے پی ایم ایل سندھ ساؤتھ ریجن (کراچی) کے تحت لیاقت آباد نمبر 10 فلائی اوور پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملکی سیاست میں تبدیلی ضروری ہے، قومیتوں کے بجائے پاکستانیت کی سیاست کرنا ہوگی، ہندوستان پاکستان کے خلاف سازشیں کررہا ہے لیکن وہ سمجھ لے کہ ہماری فوج اور دفاع بہت مضبوط ہے۔

واضح رہے کہ لیاقت نمبر 10کے فلائی اوور پر گزشتہ اتوار پی ایس پی اور اس سے پیشتر ایم کیو ایم پاکستان بھی کامیاب جلسوں کا انعقاد کرچکی ہیں۔ ایک عرصہ بعد آل پاکستان مسلم لیگ بھی کراچی کی سیاست میں فعال ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اے پی ایم ایل 21 جنوری کو راولپنڈی اور 25 جنوری کو ملتان میں جلسہ کرے گی۔ عوامی رابطہ مہم اور جلسوں کا انعقاد سیاسی پارٹیوں کا جمہوری حق ہے، یہی وہ صائب طریقہ ہے جو سیاسی جماعتوں کو عوام کے سامنے پیش کرتا ہے تاکہ سیاستدان اپنی گزشتہ کارکردگی اور آیندہ لائحہ عمل کی بنیاد پر ووٹ کی مانگ کرسکیں۔


اکیسویں صدی میں عوام باشعور ہوچکے ہیں، آزاد میڈیا اور سوشل ویب سائٹس کے ذریعے اب اصل حقائق عوام تک باآسانی پہنچ جاتے ہیں، ایسے میں راست ہوگا کہ سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات اور علاقائی سیاست سے بالاتر ہوکر ملکی مفادات کے زیر تابع رہتے ہوئے اپنی انتخابی اسٹرٹیجی مرتب کریں۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ سیاسی جماعتیں بہتر وژن اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کی عدالت میں پیش ہوں۔ عوام کے ووٹ ہی ایوان بالا میں سیاستدانوں کو پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، ایسے میں بلند بانگ دعوؤں اور لایعنی نعروں کی سیاست کے بجائے حقیقی کارکردگی دکھائی جائے۔

گزشتہ دنوں ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور حکمران جماعت نون لیگ نے بھی مختلف شہروں میں کامیاب جلسوں کا انعقاد کرکے اپنی اپنی مقبولیت کا اظہار کیا۔ ایک قومی جماعت بننے کے لیے ملک کے ہر حصے میں مقبولیت حاصل کرنا ضروری ہے، صائب ہوگا کہ ہر سیاسی جماعت اپنے مخصوص حلقوں سے نکل کر پورے پاکستان کی نمایندگی کرے۔ جمہوری سیٹ اپ کا مکمل ہوتا دوسرا دور ظاہر کررہا ہے کہ اب ملک میں حقیقی معنوں میں جمہوریت مستحکم ہورہی ہے۔ سیاستدانوں کو اسی طرح مدبرانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی استحکام کے لیے سرگرم رہنا چاہیے۔
Load Next Story