زرعی اصلاحات کا متنازعہ مسئلہ

زرعی اصلاحات کا شمار ملک کے اہم قومی مسائل میں ہوتا رہا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

KARACHI:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے لینڈ ریفارمز بل کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تین بار پہلے زمین کے بٹوارے ہوچکے ہیں، مزید بٹواروں کی گنجائش نہیں ہے ۔ وزارت قانون نے بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے پہلے سے فیصلے موجود ہیں، اب لینڈ ریفارمز کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

رکن قومی اسمبلی ایس اے اقبال قادری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 253 کے مطابق پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ وہ ملک کے کسی صوبے میں لینڈ ریفارمزکرسکتی ہے اور اس کے اعداد وشمار کے مطابق نہری رقبہ فی خاندان 36 ایکڑ اور بارانی علاقہ فی خاندان 154 ایکڑ ہونا چاہیے، اور جو لوگ ہزاروں لاکھوں ایکڑ زمین کے مالک ہیں ان سے زمین لے کر کسانوں میں تقسیم کردینی چاہیے۔ چیف لینڈ کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے کوششیں کی گئیں تین صوبوں سے تجاویز آگئی ہیں جب کہ صوبہ بلوچستان نے اس حوالے سے اپنی تجاویز جمع نہیں کرائیں اگر تجاویز آجائیں تو پھر بل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ وزارت قانون کے نمایندے نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی موجودگی میں لینڈ ریفارمز کی ضرورت نہیں ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ایوب اور بھٹو دور میں لینڈ ریفارمز کی گئیں لیکن متعلقہ حلقوں کی جانب سے ہمیشہ یہ اعتراض کیا گیا کہ ان لینڈ ریفارمز پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کیا گیا اور اب بھی جاگیرداروں اور وڈیروں کے پاس لاکھوں ایکڑ زمین موجود ہے، اس حوالے سے ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج بھی کیا جاتا رہا اور کسان کانفرنسیں کرکے اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ 2005 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جو کانفرنس منعقد کی گئی تھی اس میں ہم ذاتی طور پر شریک تھے، اس کانفرنس میں چاروں صوبوں کے نمایندے موجود تھے اور سب کا مطالبہ تھا کہ زرعی اصلاحات کی جائیں۔

عوامی ورکرز پارٹی کے سربراہ اور ملک کے معروف قانون دان عابد حسین منٹو نے بھی سپریم کورٹ میں پٹیشن پیش کی تھی اور عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کا جائزہ لے کر اس اہم قومی مسئلے پر نظر ثانی کرے۔ زرعی اصلاحات کی آواز بازگشت آج بھی پورے ملک میں سنائی دیتی ہے۔ ایوب خان کی زرعی اصلاحات کے حوالے سے یہ تاثر عام ہے کہ ایوب خان ان زرعی اصلاحات میں مخلص نہ تھے۔

مرحوم نے یہ زرعی اصلاحات جاگیرداروں کو بلیک میل کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ ان کے مشیروں نے انھیں بتایا تھا کہ ان کے اقتدار کے لیے پاکستان کا جاگیردار طبقہ ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایوب خان کی زرعی اصلاحات سے جاگیردار طبقہ بہت خوفزدہ ہوگیا اور اس نے ایوب خان کی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے مسلم لیگ کے دو ٹکڑے کردیے اور ایک ٹکڑا کنونشن لیگ ایوب خان کی خدمت میں پیش کردیا تھا جس کے صلے میں ایوب خان کی حکومت کے ان حامیوں کو زمینیں واپس کردی گئی تھیں۔


ایوب خان کے بعد بھٹو نے بھی زرعی اصلاحات نافذ کی تھیں لیکن کہا جاتا رہا کہ بیوروکریسی کی مدد سے ان زرعی اصلاحات کو ناکام بنادیا گیا۔ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی اعتراض اٹھائے گئے تھے اور ہشت نگر تحریک اس کی ایک کڑی تھی جس کی قیادت مزدور کسان پارٹی کے رہنما میجر اسحق مرحوم کر رہے تھے۔

زرعی اصلاحات کا شمار ملک کے اہم قومی مسائل میں ہوتا رہا ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد آزاد ہونے والے ملکوں نے جس میں بھارت جیسا ملک بھی شامل تھا بلاتاخیر زرعی اصلاحات نافذ کرکے اپنے ملکوں سے جاگیردارانہ نظام ختم کردیا لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ایوب خان کے دور تک زرعی اصلاحات نافذ نہ ہوئیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 1947 میں تقسیم کے وقت مغربی پاکستان کے حصے میں جو علاقے آئے وہ قبائلی اور جاگیردارانہ علاقے تھے جن میں سندھ اور پنجاب صف اول میں تھے۔

تحریک پاکستان کے دور میں جب جاگیرداروں نے یہ محسوس کرلیا کہ ہندوستان کی تقسیم اب یقینی نظر آرہی ہے تو انھوں نے اپنی جاگیریں بچانے کی خاطر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی اور اپنی عیاریوں سے مسلم لیگ کی صف اول میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس چالاکی کے ذریعے جاگیردار طبقہ دو فائدے اٹھانے میں کامیاب ہوگیا ایک یہ کہ اس نے اپنی لاکھوں ایکڑ زمینیں بچا لیں دوسرے وہ سیاست اور اقتدار پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

اگر جاگیردار طبقہ طاقتور نہ ہوتا تو پاکستان میں دیگر نوآزاد ملکوں کی طرح فوری زرعی اصلاحات نافذ کردی جاتیں لیکن پاکستان کے طاقتور جاگیردار طبقے نے پاکستان میں اس وقت تک زرعی اصلاحات نافذ نہ ہونے دیں جب تک ایک فوجی آمر ایوب خان نے اپنے اقتداری مفادات کی خاطر زرعی اصلاحات نافذ نہ کیں۔ لیکن اس چالاک طبقے نے کنونشن لیگ کی رشوت دے کر ایوب خان کو نہ صرف رام کیا بلکہ اپنی مرضی کے مطابق ایوب خان سے سہولتیں حاصل کیں۔

پاکستان کا جاگیردار طبقہ ایوب خان سے مراعات لینے کے بعد آہستہ آہستہ بھٹو حکومت میں بھی اپنے پیر پھیلاتا رہا۔ بھٹو صاحب نے پیپلز پارٹی کی بنیاد معراج محمد خان، جے اے رحیم جیسے ترقی پسند لوگوں کے ساتھ مل کر رکھی۔ بھٹو کا یہ فیصلہ اس طبقے کو سخت ناگوار تھا، سو انھوں نے بھٹو کے کان بھرنے شروع کردیے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترقی پسند دوست پیپلز پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ پیپلز پارٹی سے ترقی پسند رہنماؤں کو نکالنے کا مقصد یہی تھا کہ پیپلز پارٹی پر قبضہ کرلیا جائے، سو وڈیرہ شاہی پیپلز پارٹی پر قابض ہوگئی اور بھٹو کی زرعی اصلاحات کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ آج بھی سندھ اور جنوبی پنجاب میں بڑے جاگیردار موجود ہیں اور خود آج کے سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ جاگیردار اور وڈیرے اب بھی لاکھوں ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔

زرعی اصلاحات کے حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بل مسترد کردیا ہے اور وزارت قانون کے اکابرین کا کہنا ہے کہ تین بار زرعی اصلاحات کے بعد زمین اتنی تقسیم ہوگئی ہے کہ اب تقسیم کی گنجائش نہیں ہے۔ جب کہ صورتحال یہ ہے کہ اسمبلی میں ایک خاتون رکن نے کہا تھا کہ میری زمین اتنی بڑی ہے کہ اس میں دو ریلوے اسٹیشن آتے ہیں، ملک کے ایک ممتاز سیاستدان بار بار کہہ رہے ہیں کہ بعض سیاستدان اب بھی لاکھوں ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ اس متنازعہ اور اہم قومی مسئلے کا حل نکالنے کے لیے سپریم کورٹ عابد حسن منٹو کی درخواست کی سماعت کی تاریخ مقرر کردے اور پوری چھان بین کے بعد اس قومی اہمیت کے مسئلے کا قومی مفاد کے مطابق فیصلہ کرے۔
Load Next Story