کچھ مدارس کے بارے میں
محدود دنیا وی اغراض رکھنے والے نہ صرف مدارس کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں
barq@email.com
DAMASCUS:
آج کل جسے دیکھو مدارس کے موضوع پر قلم اور زبان کی جو لانیاں دکھا رہا ہے، اس میں شک نہیں کہ ملک میں دینی مدارس کی بے پناہ تعداد اور ان سے نکلنے والے طالب علموں کے روزگار کا مسٔلہ ایک بہت بڑا مسٔلہ ہے اور مستقبل میں بیروزگاروں کی یہ بے پناہ تعداد اور بھی گمبھیر ہونے والی ہے کیونکہ ان مدارس میں سے اکثر صرف '' چندے '' بٹورنے کے لیے وجود میں آجاتے ہیں جن کو اپنے فائدے کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا کہ ان لاتعداد طالب علموں کا کیا بنے گا جو وہ ہر سال معاشرے کو دے رہے ہیں کیونکہ صرف علم سے نہ تو پیٹ بھرتا ہے اور نہ تن ڈھانپا جا سکتا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مدارس ایک محترم ذریعہ علم و تعلم ہے اور ان سے فارغ التحصیل ہونے والے ہر لحاظ سے محترم ہوتے ہیں کہ ان کو انبیاء کی نیابت اور عوام کی رہنمائی کی سعادت حاصل ہوتی ہے لیکن انسان کتنا ہی عالم و فاضل اور لاق و فائق کیوں نہ ہو ایک انسان بھی تو ہوتا ہے اور انسان کے ساتھ دنیا کی کچھ ضرورتیں بھی وابستہ ہوتی ہیں جب کہ دینی علم کتنا ہی زیادہ نہ ہو ذریعہ معاش ہر گز نہیں۔بلکہ مسلمانوں کے معاشرے میں پرانے زمانوں ہی سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ دینی لوگوں کو عام انسان سے بھی کم ایک کمی کمین اور خیر و خیرات پر پلنے والا فرد سمجھا جاتا ہے جس '' ملا '' کو ہم آج کوستے ہیں بلکہ اکثر شاعرو صورت گر و افسانہ نویس اس کا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں۔
اس کے بارے کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اپنے اس رہبر و رہنما کو دیا کیا ہے، صرف خیرات یہ بجائے خود ایک بڑا موضوع ہے، اس لیے کسی دن اس پر تفصیل سے بات کریں گے ۔ ملا نے د نیا سے لیا کیا ؟ اور اسے دنیا نے دیا کیا ؟ بہر حال معاشرے میں اس بچارے کے لیے کوئی گنجائش ہے تو چند گنتی کی پوسٹیں اور مساجد کی نگہبانی لیکن مدارس کی ہر دل عزیزی نے ہمیشہ کی طرح اس میں بھی کالی بھیڑوں اور چندہ خوروں کی بھر مار کر دی ہے ۔
محدود دنیا وی اغراض رکھنے والے نہ صرف مدارس کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ نو جوانوں کی ایک بڑی تعداد کو بیروزگاری میں بھی دھکیل رہے ہیں۔ چندہ خوروں اور جنت میں '' پراپرٹی ڈیلرنگ کرنے والے یہ نام کے مدرسے کسی بھی لحاظ سے نہ تو معیاری ہوتے ہیں اور نہ ہی ان سے معیاری طالب علم نکلتے ہیں بلکہ آدھی ادھوری نامکمل تعلیم کی وجہ سے معاشرے کو فیض پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچانے کا باعث بن جاتے ہیں۔ اکثر معاملات میں تشدد، نفرتوں اور عداوتوں بلکہ ایک دوسرے کو کافر قراردینے میں لگ جاتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ معیاری مدرسے موجود نہیں ہیں۔ نقلی مال کی بھر مار سے اصل اور نقل کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم نے اکثر ایسے مدارس کے کرتا دھر تاؤ سے کہا بھی ہے کہ ہم سے زیادہ آپ کو، دینی مدارس کو ، اسلام کو، ان نقلی لوگوں کی وجہ سے رسوائیاں اور بدنامیاں مل رہی ہیں تو آپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ جعلی اور نقلی دکانداروں، چندہ بازوں اور دین فروشوں کو اپنے میں سے '' باہر '' کر دیں یا ایسا کچھ کریں کہ معیاری اور غیر معیاری کی شاندہی ہو سکے ۔ لیکن وہ بچارے بھی سیلاب کے آگے بے بس ہیں۔ عوام کا بھی فرض بنتا ہے اور حکومت کا بھی کہ کوئی تدبیر کریں ۔
ہم نے سنا ہے اور کئی بار لکھا بھی ہے کہ دیوبند کے مدرسے میں (پتہ نہیں اب ہے یا نہیں ) دینی علم کے ساتھ ساتھ ہنر سکھانے کا اہتمام بھی ہوتاتھا اور یہ خود مجھے ایک ایسے بزرگ دیوبندی نے بتایا ہے جو اب فوت ہو چکے ہیں اور ہماری مسجد میں امامت کے ساتھ ساتھ پرائمری اسکول میں دینیات کے استاد بھی تھے بلکہ ہم اب فخر کرتے ہیں کہ دین کا جو بھی کچھ ہم نے سیکھا ہے ان ہی سے سیکھا ہے۔ جب وہ ہماری مسجد میں پیش امام بنے تو انھوں نے اپنے تمام مقتدیوں کو جمع کرکے ان سے '' نماز '' میں پڑھا جانے والا سبق سنا ، ان میں بوڑھے نوجوان سب تھے ۔
چونکہ سب نے پرانے زمانے کے نیم ملاؤں یا گھروں میں یہ سبق سیکھ کر یاد کیا تھا اس لیے کسی نے بھی صحیح سبق نہیں پڑھا تب انھوں نے ایک ایک کو دوبارہ '' نماز '' سکھائی ۔ان کا کہنا تھا کہ دیوبند میں ہمیں کوئی نہ کوئی ہنر سکھایا جاتا تھا ۔ وہ تو خوش قسمتی سے مجھے اسکول میں نوکری مل گئی ورنہ بوقت ضرورت میں اس ہنر سے بھی کام لے کر دو وقت کی روٹی کما سکتا ہوں۔پشتو کی کہاوت ہے کہ ہنر سیکھواور پھر اسے طاق میں رکھ دو، ضرورت پڑے تو لے لو ورنہ پڑا رہے ،کوئی نقصان تو اس کا نہیں ہے، اس موضوع پر اتنا ہی کافی ہے اب ہم ایک ایسے مدرسے کی بات کرتے ہیں جو واقعی مدرسہ ہے ۔ ایسے مدرسے اگر ہوں تو معاشرے اور دین کے لیے نعمت ہیں ۔ جامعہ عثمانیہ نام کے اس مدرسے کو ہم نے دور جدید سے ہم آہنگ پایا بلکہ بعض چیزیں دیکھ کر تو ہم حیران رہ گئے۔
ان میں ایک تو '' حدیقۃ القرآن '' یا قرآن گارڈن ہے جس میں وہ تمام پودے اور درخت جمع کیے گئے ہیں جن کا قرآن میں ذکر ہوا ہے ۔لیکن اس سے بھی بڑی عجیب اور قیمتی چیز ''عجائب گھر ہے جس میں قدیم و جدید زمانے کے سارے اسلحہ جات نہ جانے کہاں کہاں سے اکھٹے کرکے جمع کیے گئے ہیں تلواریں ڈھالیں تیر کمان خنجر نیزے اور نہ جانے کیا کیا ۔ جن کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آسانی سے ملنے والی چیزیں نہیں ہیں ، اس کے بعد قرآن کے بے شمار قلمی یا بہت پرانے مطبوعہ نسخے ، بڑے بڑے علماء کی تحریر کے نمونے، قدیم سے قدیم ترین دینی نوشتے سب شامل ہیں اس کے بعد سکوّں اور کرنسیوں کی گیلری ہے جس میں بطور خاص اسلامی حکومتوں کے سکّے اور کرنسیاں ہیں۔ پاکستان کے سارے سکے اور نوٹ بلکہ انگریزی دور کے سکے اور قدیم سلطنتوں کے سکے موجود ہیں۔
ایک گیلری میں دور قدیم سے جدید تک کے لباس جمع کیے گئے ہیں۔ پگڑیاں، ٹوپیاں، عمامے، چادریں غلاف کعبہ کے ٹکڑے اور بہت کچھ ہے۔ ایک گیلری میںبرتن، چکیاں چرخے ، مدانیاں، کاسے، مشروبات پینے کے برتن ، پانی رکھنے کے برتن، کنوؤں سے پانی نکالنے کے ڈولچے اور رسیاں چرخیاں سب سے زیادہ خاصے کی چیزیں دنیا کی مشہور دینی عمارتوں کے ماڈل ہیں جن میں عالم اسلام کی مشہور مساجد کے ہو بہو ماڈل ، مشہور مدرسوں کے ماڈل شامل ہیں جو مدرسے کے طالب علموں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔بہر حال اگر ایسے معیاری مدرسے ہوں تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے بلکہ ان پر فخر کرنے اور خوش ہونے کا موقع ملتا ہے ۔ ہم نے جب طالب علموں کو مختلف عصری ہنر اور فنون سکھانے کی بات کی تو بتایا گیا کہ یہ پروگرام بھی ہے لیکن وسائل آڑے آجاتے ہیں بہر حال یہ بہت ضروری ہے تاکہ ایک '' عالم '' اپنی گردن اونچے کرکے اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے بغیر خود کفیل بھی ہو، پھر ایسے ہی علماء ہوتے ہیں جو کلمہ حق کہنے کی ہمت اور جرأت رکھتے ہیں۔ محتاجی اور کاسہ لیسی کا فطری نتیجہ ہے کہ '' دینے والے '' کی مرضی کا کام کیا جائے کیونکہ دینے والے کائیاں لوگ مفت میں کچھ بھی نہیں ۔
آج کل جسے دیکھو مدارس کے موضوع پر قلم اور زبان کی جو لانیاں دکھا رہا ہے، اس میں شک نہیں کہ ملک میں دینی مدارس کی بے پناہ تعداد اور ان سے نکلنے والے طالب علموں کے روزگار کا مسٔلہ ایک بہت بڑا مسٔلہ ہے اور مستقبل میں بیروزگاروں کی یہ بے پناہ تعداد اور بھی گمبھیر ہونے والی ہے کیونکہ ان مدارس میں سے اکثر صرف '' چندے '' بٹورنے کے لیے وجود میں آجاتے ہیں جن کو اپنے فائدے کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا کہ ان لاتعداد طالب علموں کا کیا بنے گا جو وہ ہر سال معاشرے کو دے رہے ہیں کیونکہ صرف علم سے نہ تو پیٹ بھرتا ہے اور نہ تن ڈھانپا جا سکتا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مدارس ایک محترم ذریعہ علم و تعلم ہے اور ان سے فارغ التحصیل ہونے والے ہر لحاظ سے محترم ہوتے ہیں کہ ان کو انبیاء کی نیابت اور عوام کی رہنمائی کی سعادت حاصل ہوتی ہے لیکن انسان کتنا ہی عالم و فاضل اور لاق و فائق کیوں نہ ہو ایک انسان بھی تو ہوتا ہے اور انسان کے ساتھ دنیا کی کچھ ضرورتیں بھی وابستہ ہوتی ہیں جب کہ دینی علم کتنا ہی زیادہ نہ ہو ذریعہ معاش ہر گز نہیں۔بلکہ مسلمانوں کے معاشرے میں پرانے زمانوں ہی سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ دینی لوگوں کو عام انسان سے بھی کم ایک کمی کمین اور خیر و خیرات پر پلنے والا فرد سمجھا جاتا ہے جس '' ملا '' کو ہم آج کوستے ہیں بلکہ اکثر شاعرو صورت گر و افسانہ نویس اس کا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں۔
اس کے بارے کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ہم نے اپنے اس رہبر و رہنما کو دیا کیا ہے، صرف خیرات یہ بجائے خود ایک بڑا موضوع ہے، اس لیے کسی دن اس پر تفصیل سے بات کریں گے ۔ ملا نے د نیا سے لیا کیا ؟ اور اسے دنیا نے دیا کیا ؟ بہر حال معاشرے میں اس بچارے کے لیے کوئی گنجائش ہے تو چند گنتی کی پوسٹیں اور مساجد کی نگہبانی لیکن مدارس کی ہر دل عزیزی نے ہمیشہ کی طرح اس میں بھی کالی بھیڑوں اور چندہ خوروں کی بھر مار کر دی ہے ۔
محدود دنیا وی اغراض رکھنے والے نہ صرف مدارس کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ نو جوانوں کی ایک بڑی تعداد کو بیروزگاری میں بھی دھکیل رہے ہیں۔ چندہ خوروں اور جنت میں '' پراپرٹی ڈیلرنگ کرنے والے یہ نام کے مدرسے کسی بھی لحاظ سے نہ تو معیاری ہوتے ہیں اور نہ ہی ان سے معیاری طالب علم نکلتے ہیں بلکہ آدھی ادھوری نامکمل تعلیم کی وجہ سے معاشرے کو فیض پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچانے کا باعث بن جاتے ہیں۔ اکثر معاملات میں تشدد، نفرتوں اور عداوتوں بلکہ ایک دوسرے کو کافر قراردینے میں لگ جاتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ معیاری مدرسے موجود نہیں ہیں۔ نقلی مال کی بھر مار سے اصل اور نقل کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم نے اکثر ایسے مدارس کے کرتا دھر تاؤ سے کہا بھی ہے کہ ہم سے زیادہ آپ کو، دینی مدارس کو ، اسلام کو، ان نقلی لوگوں کی وجہ سے رسوائیاں اور بدنامیاں مل رہی ہیں تو آپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ جعلی اور نقلی دکانداروں، چندہ بازوں اور دین فروشوں کو اپنے میں سے '' باہر '' کر دیں یا ایسا کچھ کریں کہ معیاری اور غیر معیاری کی شاندہی ہو سکے ۔ لیکن وہ بچارے بھی سیلاب کے آگے بے بس ہیں۔ عوام کا بھی فرض بنتا ہے اور حکومت کا بھی کہ کوئی تدبیر کریں ۔
ہم نے سنا ہے اور کئی بار لکھا بھی ہے کہ دیوبند کے مدرسے میں (پتہ نہیں اب ہے یا نہیں ) دینی علم کے ساتھ ساتھ ہنر سکھانے کا اہتمام بھی ہوتاتھا اور یہ خود مجھے ایک ایسے بزرگ دیوبندی نے بتایا ہے جو اب فوت ہو چکے ہیں اور ہماری مسجد میں امامت کے ساتھ ساتھ پرائمری اسکول میں دینیات کے استاد بھی تھے بلکہ ہم اب فخر کرتے ہیں کہ دین کا جو بھی کچھ ہم نے سیکھا ہے ان ہی سے سیکھا ہے۔ جب وہ ہماری مسجد میں پیش امام بنے تو انھوں نے اپنے تمام مقتدیوں کو جمع کرکے ان سے '' نماز '' میں پڑھا جانے والا سبق سنا ، ان میں بوڑھے نوجوان سب تھے ۔
چونکہ سب نے پرانے زمانے کے نیم ملاؤں یا گھروں میں یہ سبق سیکھ کر یاد کیا تھا اس لیے کسی نے بھی صحیح سبق نہیں پڑھا تب انھوں نے ایک ایک کو دوبارہ '' نماز '' سکھائی ۔ان کا کہنا تھا کہ دیوبند میں ہمیں کوئی نہ کوئی ہنر سکھایا جاتا تھا ۔ وہ تو خوش قسمتی سے مجھے اسکول میں نوکری مل گئی ورنہ بوقت ضرورت میں اس ہنر سے بھی کام لے کر دو وقت کی روٹی کما سکتا ہوں۔پشتو کی کہاوت ہے کہ ہنر سیکھواور پھر اسے طاق میں رکھ دو، ضرورت پڑے تو لے لو ورنہ پڑا رہے ،کوئی نقصان تو اس کا نہیں ہے، اس موضوع پر اتنا ہی کافی ہے اب ہم ایک ایسے مدرسے کی بات کرتے ہیں جو واقعی مدرسہ ہے ۔ ایسے مدرسے اگر ہوں تو معاشرے اور دین کے لیے نعمت ہیں ۔ جامعہ عثمانیہ نام کے اس مدرسے کو ہم نے دور جدید سے ہم آہنگ پایا بلکہ بعض چیزیں دیکھ کر تو ہم حیران رہ گئے۔
ان میں ایک تو '' حدیقۃ القرآن '' یا قرآن گارڈن ہے جس میں وہ تمام پودے اور درخت جمع کیے گئے ہیں جن کا قرآن میں ذکر ہوا ہے ۔لیکن اس سے بھی بڑی عجیب اور قیمتی چیز ''عجائب گھر ہے جس میں قدیم و جدید زمانے کے سارے اسلحہ جات نہ جانے کہاں کہاں سے اکھٹے کرکے جمع کیے گئے ہیں تلواریں ڈھالیں تیر کمان خنجر نیزے اور نہ جانے کیا کیا ۔ جن کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آسانی سے ملنے والی چیزیں نہیں ہیں ، اس کے بعد قرآن کے بے شمار قلمی یا بہت پرانے مطبوعہ نسخے ، بڑے بڑے علماء کی تحریر کے نمونے، قدیم سے قدیم ترین دینی نوشتے سب شامل ہیں اس کے بعد سکوّں اور کرنسیوں کی گیلری ہے جس میں بطور خاص اسلامی حکومتوں کے سکّے اور کرنسیاں ہیں۔ پاکستان کے سارے سکے اور نوٹ بلکہ انگریزی دور کے سکے اور قدیم سلطنتوں کے سکے موجود ہیں۔
ایک گیلری میں دور قدیم سے جدید تک کے لباس جمع کیے گئے ہیں۔ پگڑیاں، ٹوپیاں، عمامے، چادریں غلاف کعبہ کے ٹکڑے اور بہت کچھ ہے۔ ایک گیلری میںبرتن، چکیاں چرخے ، مدانیاں، کاسے، مشروبات پینے کے برتن ، پانی رکھنے کے برتن، کنوؤں سے پانی نکالنے کے ڈولچے اور رسیاں چرخیاں سب سے زیادہ خاصے کی چیزیں دنیا کی مشہور دینی عمارتوں کے ماڈل ہیں جن میں عالم اسلام کی مشہور مساجد کے ہو بہو ماڈل ، مشہور مدرسوں کے ماڈل شامل ہیں جو مدرسے کے طالب علموں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔بہر حال اگر ایسے معیاری مدرسے ہوں تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے بلکہ ان پر فخر کرنے اور خوش ہونے کا موقع ملتا ہے ۔ ہم نے جب طالب علموں کو مختلف عصری ہنر اور فنون سکھانے کی بات کی تو بتایا گیا کہ یہ پروگرام بھی ہے لیکن وسائل آڑے آجاتے ہیں بہر حال یہ بہت ضروری ہے تاکہ ایک '' عالم '' اپنی گردن اونچے کرکے اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے بغیر خود کفیل بھی ہو، پھر ایسے ہی علماء ہوتے ہیں جو کلمہ حق کہنے کی ہمت اور جرأت رکھتے ہیں۔ محتاجی اور کاسہ لیسی کا فطری نتیجہ ہے کہ '' دینے والے '' کی مرضی کا کام کیا جائے کیونکہ دینے والے کائیاں لوگ مفت میں کچھ بھی نہیں ۔