صوبائی ہائر ایجوکیشن ایکٹ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

عدالت نے سرکاری وکلا کو آئندہ سماعت پر دلائل کیلیے تیاری کرکے آنے اور متعلقہ حکام کو جواب داخل کرنیکی ہدایت کردی

بچوں کی گمشدگی سے متعلق صوبے بھر کے اضلاع کی رپورٹ پیش کی جائے، سندھ ہائی کورٹ کی پولیس کو ہدایت فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے صوبائی اسمبلی میں منظور کردہ سندھ ہائرایجوکیشن ایکٹ 2013کے خلاف ڈاکٹر عطا الرحمن اور سابق رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کی جانب سے دائر درخواست پراٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو 29مارچ کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

عدالت نے دونوں سرکاری وکلا آئندہ سماعت پر دلائل کیلیے تیاری کرکے آنے اور متعلقہ حکام کا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے، درخواست میں وفاقی وزارت بین الصوبائی رابطہ، وزارت قانون،وزارت تعلیم،سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اوردیگرکو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیاہے کہ اعلیٰ تعلیم خصوصی طور پر وفاق کے دائرہ کار میں آتی ہے اور کوئی صوبائی حکومت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی،اس ایکٹ کا مقصد ارکان پارلیمنٹ کی ڈگری کی تصدیق کے عمل کو پیچیدہ بناناہے۔

ایچ ای سی کو ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور 18رکنی کمیشن کی سربراہی کیلیے وفاقی وزیر کے مساوی عہدہ رمقرر کیا گیا تھا،کمیشن کی نگرانی وزیر اعظم کو سونپی گئی اور کنٹرولنگ اتھارٹی بھی وزیراعظم کو ٹھہرایاگیا تھا،کمیشن کی تشکیل وفاقی ہے۔




جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے،کمیشن میں سیکریٹری تعلیم،سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی اور ممتاز ماہرین تعلیم بھی شامل ہوتے ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ صوبائی ہائرایجوکیشن کمیشن کے قیام کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے اس اہم ادارے کو صوبائی حکومت کے ماتحت کردیا جائے گا ۔

جس کی قانون میں گنجائش نہیں،اعلیٰ تعلیمی کمیشن صوبائی حکومتوں کومنتقل نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ کمیشن کے کثیرالجہتی مقاصد ہیں جن کا تعلق قومی پالیسی و منصوبہ بندی،قومی صنعتی پیداوار،ٹیکنیکل ریسرچ اور سائنسی علوم کی ترویج اور ایجادات سے ہے، سپریم کورٹ بھی قراردے چکی ہے کہ ایچ ای سی ایک وفاقی ادارہ ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے مجوزہ صوبائی ہائرایجوکیشن کمیشن کے قیام کے خلاف درخواست کے حتمی فیصلے تک حکم امتناعی جاری کیاجائے۔

پاک چائنا فاؤنڈیشن کے ندیم شیخ ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں ایک مقامی اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ایچ ای سی کی تشکیل نو کا بل منظور کیا ہے جس کے تحت ادارے کی خود مختاری ختم اور چیئر مین کی مدت ملازمت کم ہوجائیگی،تشکیل نو سے ہزاروں قابل اور اہل طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ جعلی ڈگری والوں کے خلاف کارروائی پر انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے آئی جی سندھ سے گمشدہ بچوں کے مقدمات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع سے لاپتہ ہونے والے بچوں کے تمام مقدمات سے متعلق ہر تھانے کی رپورٹ پیش کی جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کتنے بچوں کو بازیاب کرایا گیا اور تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی،فاضل بینچ نے سی پی ایل سی کو بھی نوٹس جاری کردیے، فاضل بنچ نے این جی او کی جانب سے بچوں کی گمشدگی کے مقدمات درج نہ کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی، عدالت نے آبزروکیاکہ صرف ضلع ملیر سے لاپتہ ہونے والے بچوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی ہے۔
Load Next Story