توہین عدالت چئیر مین نیب کیخلاف2اپریل کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ
صدرکوعدلیہ کیخلاف خط جوڈیشل،سول اورکرمنل توہین عدالت ہے،پوری سپریم کورٹ کا معاملہ ہے، بدنام نہیں کرنے دینگے،چیف جسٹس
بینچ میں چیف جسٹس کی شمولیت پر وکیل کااعتراض مسترد،ایوان صدرنے خط پر انکوائری کیلیے کہا تھا،سینئرجوائنٹ سیکریٹری وزارت قانون فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے بینچ پر اعتراض مستردکرکے چیئرمین نیب کیخلاف فرد جرم عائدکرنیکا فیصلہ کرلیاہے۔
توہین عدالت کے الزام میں ایڈمرل( ر)فصیح بخاری پر2اپریل کوفرد جرم عائدکی جائیگی چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے چیئرمین نیب فصیح بخاری کی طرف سے صدرکوسپریم کورٹ کیخلاف خط کوتوہین آمیز اور عدلیہ کو بدنام کرنیکی کوشش قرار دیتے ہوئے آبزرویشن دی کہ بادی النظر میں خط لکھنے والے نے عدالتی توہین اور فوجداری جرم کا ارتکاب کیا ہے،عدالت نے قرار دیا کہ اہم نوعیت کے مقدمات کی سماعت چیف جسٹس کی ذمے داری ہے ۔آرڈرمیںکہاگیاکہ خط اور اس کی بنیادپر2 رکنی انکوائری کمیشن کاقیام نہایت اہم معاملہ ہے اور اب جبکہ تمام مواد ریکارڈ پر آچکا ہے،بینچ پر ریسپانڈنٹ کا اعتراض مستردکیا جاتا ہے۔
عدالت نے رجسٹرار آفس کوہدایت کی ہے کہ انکوائری کمیشن کے قیام سے متعلق تمام ریکارڈ سربمہر لفافے میںبندرکھاجائے، سماعت شروع ہوئی توچیئرمین نیب کے وکیل نویدرسول نے بنچ پراعتراض کیااورکہاکہ معاملہ کسی اور بینچ کو منتقل کردیا جائے،انھوں نے دلیل دی جو جج معاملہ کانوٹس لے وہ سماعت نہیںکرسکتا،بینچ نے پہلے سے اپنی رائے قائم کی ہوئی ہے اس لیے بہتر یہی ہو گاکہ کوئی اوربینچ اس کیس کو سنے۔
چیف جسٹس نے کہاچیئرمین نیب کاصدرکوخط جوڈیشل،سول اورکریمنل توہین عدالت ہے،یہ ایک جج کی نہیں پوری سپریم کورٹ کی توہین کا معاملہ ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ خط میں10بار سپریم کورٹ کا لفظ استعمال کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے پوری سپریم کورٹ پر تنقیدکی،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کسی ایک جج نے نوٹس نہیں لیا۔ نیب کی طرف سے پیش کیے گئے ریکارڈ پر توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مطلب چیف جسٹس اور 16 جج ہیں، فیصلے چیف جسٹس نہیں بینچ کرتا ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا اب یہ ہوگا کہ بینچ میں اگر جج سائل کی مرضی کے نہیں تو اس پر اعتراض کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا سابق وزیر اعظم گیلانی بھی خود پیش ہوئے،راجا پرویز اشرف نے بھی عدالت پراعتمادکا اظہارکیا، راجا پرویز اشرف نے خود سپریم کورٹ کو خط لکھا،یہاں شخصیت کی بنیاد پر نہیں قانون کے تحت افرادکو بلایا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا اداروں کی تذلیل نہ کریں،جج حلف کے ساتھ بیٹھے ہیں، میں خودکٹہرے میں آنے کو تیار ہوں۔
توہین عدالت کے الزام میں ایڈمرل( ر)فصیح بخاری پر2اپریل کوفرد جرم عائدکی جائیگی چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے چیئرمین نیب فصیح بخاری کی طرف سے صدرکوسپریم کورٹ کیخلاف خط کوتوہین آمیز اور عدلیہ کو بدنام کرنیکی کوشش قرار دیتے ہوئے آبزرویشن دی کہ بادی النظر میں خط لکھنے والے نے عدالتی توہین اور فوجداری جرم کا ارتکاب کیا ہے،عدالت نے قرار دیا کہ اہم نوعیت کے مقدمات کی سماعت چیف جسٹس کی ذمے داری ہے ۔آرڈرمیںکہاگیاکہ خط اور اس کی بنیادپر2 رکنی انکوائری کمیشن کاقیام نہایت اہم معاملہ ہے اور اب جبکہ تمام مواد ریکارڈ پر آچکا ہے،بینچ پر ریسپانڈنٹ کا اعتراض مستردکیا جاتا ہے۔
عدالت نے رجسٹرار آفس کوہدایت کی ہے کہ انکوائری کمیشن کے قیام سے متعلق تمام ریکارڈ سربمہر لفافے میںبندرکھاجائے، سماعت شروع ہوئی توچیئرمین نیب کے وکیل نویدرسول نے بنچ پراعتراض کیااورکہاکہ معاملہ کسی اور بینچ کو منتقل کردیا جائے،انھوں نے دلیل دی جو جج معاملہ کانوٹس لے وہ سماعت نہیںکرسکتا،بینچ نے پہلے سے اپنی رائے قائم کی ہوئی ہے اس لیے بہتر یہی ہو گاکہ کوئی اوربینچ اس کیس کو سنے۔
چیف جسٹس نے کہاچیئرمین نیب کاصدرکوخط جوڈیشل،سول اورکریمنل توہین عدالت ہے،یہ ایک جج کی نہیں پوری سپریم کورٹ کی توہین کا معاملہ ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ خط میں10بار سپریم کورٹ کا لفظ استعمال کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے پوری سپریم کورٹ پر تنقیدکی،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کسی ایک جج نے نوٹس نہیں لیا۔ نیب کی طرف سے پیش کیے گئے ریکارڈ پر توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مطلب چیف جسٹس اور 16 جج ہیں، فیصلے چیف جسٹس نہیں بینچ کرتا ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا اب یہ ہوگا کہ بینچ میں اگر جج سائل کی مرضی کے نہیں تو اس پر اعتراض کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا سابق وزیر اعظم گیلانی بھی خود پیش ہوئے،راجا پرویز اشرف نے بھی عدالت پراعتمادکا اظہارکیا، راجا پرویز اشرف نے خود سپریم کورٹ کو خط لکھا،یہاں شخصیت کی بنیاد پر نہیں قانون کے تحت افرادکو بلایا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا اداروں کی تذلیل نہ کریں،جج حلف کے ساتھ بیٹھے ہیں، میں خودکٹہرے میں آنے کو تیار ہوں۔