مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث سیاسی کارکنوں کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش
متحدہ کے81 ،سنی تحریک38،تحریک طالبان27،گینگ وار17،اے این پی13،امن کمیٹی 6اورتحریک انصاف کے 9کارکن شامل ہیں
نوگوایریازختم کردیے،208ٹارگٹ کلرزاور258بھتہ خورپکڑلیے،رپورٹ،سپریم کورٹ کالارجربینچ آج پیش کردہ پولیس رپورٹ کا جائزہ لے گا فوٹو: فائل
سندھ پولیس نے کراچی میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث سیاسی جماعتوںکے کارکنوں کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کردی۔
آئی جی سندھ غلام شبیرشیخ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایاگیاکہ کراچی میں قتل،غیرقانونی اسلحہ رکھنے اورڈکیتی سمیت دیگر الزامات میں ملوث مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 224سیاسی کارکنوںکوگرفتارکرکے ان کے خلاف 351 مقدمات درج کیے گئے،پولیس کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ میں حیرت انگیزطور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان، جندااﷲ اور لیاری گینگ وار کوبھی سیاسی جماعتوں میں شمار کیاگیاہے ۔پولیس رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے81 کارکن ،سنی تحریک کے 38،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 27، گینگ وارکے 17 اور عوامی نیشل پارٹی کے 13کارکن شامل ہیں ۔
عدالت کو بتایا گیا ہے کہ کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس کافیصلہ آنے کے بعد6اکتوبر 2011 سے 15 مارچ 2013 تک 20 ہزارملزمان کو گرفتار کیاگیاجبکہ ان کے قبضے سے10 ہزار 781 اسلحہ اور 1067.12 کلو گرام دھماکاخیز مواد برآمد کیاگیا،ملک بھرخصوصاً کراچی میں دہشتگردی کی علامت سمجھی جانے والی کالعدم تحریک طالبان کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کے صرف 27 ملزمان کو گرفتارکیاگیاجس میں سب سے زیادہ مقدمات 22 غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں بنائے گئے ہیں جبکہ شہرمیں قتل کے162میں سے صرف9مقدمات ٹی ٹی پی کے کارکنان کے خلاف درج کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں نوگوایریازختم کردیے گئے ہیں،مجموعی طورپر208 ٹارگٹ کلرزاور258بھتہ خوروںکوگرفتارکیا گیا۔ کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس میں عدالت عظمیٰ کی ہدایت کی تعمیل کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے سپریم کورٹ میں پولیس کی کارکردگی سے متعلق ایک مفصل رپورٹ پیش کردی ہے،چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ جمعرات کو کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران مذکورہ رپورٹ کاجائزہ لے گا۔
رپورٹ میں بتایاگیاکہ کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس کافیصلہ آنے کے بعد6اکتوبر2011سے15 مارچ2013کے دوران پولیس نے جرائم پیشہ عناصرکیخلاف کارروائی کرتے ہوئے43533چھاپے مارے،20428 ملزمان کوگرفتارکیااور10781اسلحہ برآمدکیا،ٹارگٹ کلنگ کے 568مقدمات درج ہوئے اور 208ٹارگٹ کلرزکو گرفتارکیاگیاجبکہ240مقدمات کاچالان عدالتوں میں پیش کردیاگیا۔اسی طرح بھتہ خوری کے 338مقدمات درج ہوئے اور268بھتہ خوروں کو گرفتار کیاگیاجبکہ152مقدمات کا چالان متعلقہ عدالتوں میں پیش کردیا گیا۔
زمینوں پر قبضے کے68مقدمات درج ہوئے،79ملزمان کوگرفتار کیا گیا اور19مقدمات کا چالان عدالتوں میں پیش کردیاگیا۔آئی جی سندھ نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خورہ سمیت دیگرالزامات میں ملوث224سیاسی کارکنوں کوبھی گرفتار کیا گیاہے ۔152مقدمات میں ملوث متحدہ قومی موومنٹ کے81 کارکنوں کوگرفتار کیاگیا،ملزمان کیخلاف قتل کے 83، غیرقانونی اسلحہ کے51،پولیس مقابلے کے 5،ہنگامہ آرائی کے 4،ڈکیتی کے 2اوردھماکاخیز مواد کاایک مقدمہ درج ہے ۔55 مقدمات میں ملوث سنی تحریک کے38کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔
جن کے خلاف قتل کے 21،غیر قانونی اسلحہ کے 15،ہنگامہ آرائی کے 8،بھتہ خوری، پولیس مقابلے اورہنگامہ آرائی کے 3,3اورمنشیات کاایک مقدمہ شامل ہے۔32 مقدمات میں ملوث تحریک طالبان پاکستان کے27کارکنوں کوگرفتار کیا گیاجن کے خلاف قتل کے9،غیرقانونی اسلحہ کے 22اورپولیس مقابلے کاایک مقدمہ درج ہے۔18مقدمات میں ملوث گینگ وارکے17کارندے گرفتار ہوئے جن کے خلاف قتل کے4،غیر قانونی اسلحہ کے 10اور دھماکاخیز مواد کے 2مقدمات درج ہیں۔22مقدمات میں ملوث عوامی نیشنل پارٹی کے 13کارکنوں کوگرفتار کیاگیا۔
جن کیخلاف قتل کے 9،پولیس مقابلے کے4اور غیرقانونی اسلحے کے 6مقدمات درج ہیں۔21مقدمات میں ملوث کاالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے14کارکنوں کوگرفتار کیا گیاجن کے خلاف قتل کے16اور غیر قانونی اسلحہ کے 3مقدمات درج ہیں،سیاسی کارکنوں کے جرائم میںملوث ہونے کاکلچراتنافروغ پاگیاہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان بھی جرائم میں ملوث پائے گئے ،12 مقدمات میں ملوث پاکستان تحریک انصاف کے9کارکنوں کوگرفتارکیاگیا جن کے خلاف غیر قانونی اسلحے کے8اور ڈرکیتی کے 3مقدمات درج ہیں،14مقدمات میں ملوث پیپلزامن کمیٹی کے6کارکنوں کوگرفتار کیا گیاجن کیخلاف قتل کے8اور غیر قانونی اسلحہ کے4مقدمات درج ہیں،7مقدمات میں ملوث کالعدم سپاہ محمدکے4کارکنوں کوگرفتار کیاگیاجن کے خلاف قتل کے5اور غیر قانونی اسلحہ کے2مقدمات درج ہیں۔
قتل کے5مقدمات میں ملوث کاالعدم لشکرجھنگوی کے 2کارکنوں کو گرفتار کیاگیا،قتل اورغیر قانونی اسلحے کے مقدمات میں ملوث مہاجر قومی موومنٹ کے 4 کارکنوں کوگرفتار کیا گیا ۔ غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں کاالعدم جنداللہ کے5کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔آئی جی سندھ نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ کراچی میں تمام نو گوایریازختم کردیے گئے ہیں،اس ضمن میں پولیس اور رینجرزنے کنواری کالونی،لیاری، منگھوپیر،لانڈھی،سہراب گوٹھ ،پاک کالونی اور دیگرعلاقوں میں بھرپورکارروائیاں کی ہیں اوراب شہر میں کوئی نو گوایریا نہیں ۔
آئی جی سندھ غلام شبیرشیخ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایاگیاکہ کراچی میں قتل،غیرقانونی اسلحہ رکھنے اورڈکیتی سمیت دیگر الزامات میں ملوث مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 224سیاسی کارکنوںکوگرفتارکرکے ان کے خلاف 351 مقدمات درج کیے گئے،پولیس کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ میں حیرت انگیزطور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان، جندااﷲ اور لیاری گینگ وار کوبھی سیاسی جماعتوں میں شمار کیاگیاہے ۔پولیس رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے81 کارکن ،سنی تحریک کے 38،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 27، گینگ وارکے 17 اور عوامی نیشل پارٹی کے 13کارکن شامل ہیں ۔
عدالت کو بتایا گیا ہے کہ کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس کافیصلہ آنے کے بعد6اکتوبر 2011 سے 15 مارچ 2013 تک 20 ہزارملزمان کو گرفتار کیاگیاجبکہ ان کے قبضے سے10 ہزار 781 اسلحہ اور 1067.12 کلو گرام دھماکاخیز مواد برآمد کیاگیا،ملک بھرخصوصاً کراچی میں دہشتگردی کی علامت سمجھی جانے والی کالعدم تحریک طالبان کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کے صرف 27 ملزمان کو گرفتارکیاگیاجس میں سب سے زیادہ مقدمات 22 غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں بنائے گئے ہیں جبکہ شہرمیں قتل کے162میں سے صرف9مقدمات ٹی ٹی پی کے کارکنان کے خلاف درج کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں نوگوایریازختم کردیے گئے ہیں،مجموعی طورپر208 ٹارگٹ کلرزاور258بھتہ خوروںکوگرفتارکیا گیا۔ کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس میں عدالت عظمیٰ کی ہدایت کی تعمیل کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے سپریم کورٹ میں پولیس کی کارکردگی سے متعلق ایک مفصل رپورٹ پیش کردی ہے،چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ جمعرات کو کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران مذکورہ رپورٹ کاجائزہ لے گا۔
رپورٹ میں بتایاگیاکہ کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس کافیصلہ آنے کے بعد6اکتوبر2011سے15 مارچ2013کے دوران پولیس نے جرائم پیشہ عناصرکیخلاف کارروائی کرتے ہوئے43533چھاپے مارے،20428 ملزمان کوگرفتارکیااور10781اسلحہ برآمدکیا،ٹارگٹ کلنگ کے 568مقدمات درج ہوئے اور 208ٹارگٹ کلرزکو گرفتارکیاگیاجبکہ240مقدمات کاچالان عدالتوں میں پیش کردیاگیا۔اسی طرح بھتہ خوری کے 338مقدمات درج ہوئے اور268بھتہ خوروں کو گرفتار کیاگیاجبکہ152مقدمات کا چالان متعلقہ عدالتوں میں پیش کردیا گیا۔
زمینوں پر قبضے کے68مقدمات درج ہوئے،79ملزمان کوگرفتار کیا گیا اور19مقدمات کا چالان عدالتوں میں پیش کردیاگیا۔آئی جی سندھ نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خورہ سمیت دیگرالزامات میں ملوث224سیاسی کارکنوں کوبھی گرفتار کیا گیاہے ۔152مقدمات میں ملوث متحدہ قومی موومنٹ کے81 کارکنوں کوگرفتار کیاگیا،ملزمان کیخلاف قتل کے 83، غیرقانونی اسلحہ کے51،پولیس مقابلے کے 5،ہنگامہ آرائی کے 4،ڈکیتی کے 2اوردھماکاخیز مواد کاایک مقدمہ درج ہے ۔55 مقدمات میں ملوث سنی تحریک کے38کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔
جن کے خلاف قتل کے 21،غیر قانونی اسلحہ کے 15،ہنگامہ آرائی کے 8،بھتہ خوری، پولیس مقابلے اورہنگامہ آرائی کے 3,3اورمنشیات کاایک مقدمہ شامل ہے۔32 مقدمات میں ملوث تحریک طالبان پاکستان کے27کارکنوں کوگرفتار کیا گیاجن کے خلاف قتل کے9،غیرقانونی اسلحہ کے 22اورپولیس مقابلے کاایک مقدمہ درج ہے۔18مقدمات میں ملوث گینگ وارکے17کارندے گرفتار ہوئے جن کے خلاف قتل کے4،غیر قانونی اسلحہ کے 10اور دھماکاخیز مواد کے 2مقدمات درج ہیں۔22مقدمات میں ملوث عوامی نیشنل پارٹی کے 13کارکنوں کوگرفتار کیاگیا۔
جن کیخلاف قتل کے 9،پولیس مقابلے کے4اور غیرقانونی اسلحے کے 6مقدمات درج ہیں۔21مقدمات میں ملوث کاالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے14کارکنوں کوگرفتار کیا گیاجن کے خلاف قتل کے16اور غیر قانونی اسلحہ کے 3مقدمات درج ہیں،سیاسی کارکنوں کے جرائم میںملوث ہونے کاکلچراتنافروغ پاگیاہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان بھی جرائم میں ملوث پائے گئے ،12 مقدمات میں ملوث پاکستان تحریک انصاف کے9کارکنوں کوگرفتارکیاگیا جن کے خلاف غیر قانونی اسلحے کے8اور ڈرکیتی کے 3مقدمات درج ہیں،14مقدمات میں ملوث پیپلزامن کمیٹی کے6کارکنوں کوگرفتار کیا گیاجن کیخلاف قتل کے8اور غیر قانونی اسلحہ کے4مقدمات درج ہیں،7مقدمات میں ملوث کالعدم سپاہ محمدکے4کارکنوں کوگرفتار کیاگیاجن کے خلاف قتل کے5اور غیر قانونی اسلحہ کے2مقدمات درج ہیں۔
قتل کے5مقدمات میں ملوث کاالعدم لشکرجھنگوی کے 2کارکنوں کو گرفتار کیاگیا،قتل اورغیر قانونی اسلحے کے مقدمات میں ملوث مہاجر قومی موومنٹ کے 4 کارکنوں کوگرفتار کیا گیا ۔ غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں کاالعدم جنداللہ کے5کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔آئی جی سندھ نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ کراچی میں تمام نو گوایریازختم کردیے گئے ہیں،اس ضمن میں پولیس اور رینجرزنے کنواری کالونی،لیاری، منگھوپیر،لانڈھی،سہراب گوٹھ ،پاک کالونی اور دیگرعلاقوں میں بھرپورکارروائیاں کی ہیں اوراب شہر میں کوئی نو گوایریا نہیں ۔