جمہوریت اور عوامی جمہوریت

ضروری ہے کہ ہم جمہوریت کے بارے میں اپنی تحقیق اور ریسرچ کا خلاصہ پیش کردیں

barq@email.com

اب کے بر س ''برسی'' میں جو گرج برس ہوئی وہ ہر کسی کو سنائی دی ہوگی باقی باتوں سے تو ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ ہوتی رہتی ہیں کس نے کس کو قتل کیا کون کس کو قتل کر رہا ہے اور کوئی کیس کس کو قتل کرکے اپنا مفاد حاصل کرتا ہے کس کے کندھوں پر پیر رکھ کر بلند ہو رہا ہے کون اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے کس کس کو اور کیسے کیسے گرا رہا ہے کچل رہا ہے اور اس کے سینے پر قدم رکھ کر چھلانگیں لگاتا ہے

یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا

مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو

اور گرا کر آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ''قریبی'' کو ہی گراتا ہے جو پیڑ چھا جائے اس کے گرانے ہی میں نیچے والے پودوں کو بڑھوتری ملتی ہے یعنی اگر اباسین میں سیلاب نہ آیا ہوتا تو لوگوں کو خس و خاشاک میں نعل و گہر کیسے ملتے ایک اور کہاوت بھی بڑی معنی خیز ہے کہ کتوں کی موت گیدڑوں کی عید ہوتی ہے اس لیے ہم سیاست کی ان بھول بھلیوں میں نہیں پھنسیں گے اور صرف اسی بات کی بات کریں گے جس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ جائز یا ناجائز تعلق ہم ''خدا مارے'' عوام سے بنتا ہے۔

بھول گئے سب کچھ، یاد نہیں اب کچھ

ایک تیری یاد نہیں بھولی۔ جولی اومیری جولی

یعنی اگر اباسین میں سیلاب نہ تھا تو کسی کو خس و خاشاک میں لعل و جوار کیسے ملتے اس کے ساتھ ہی ایک کہاوت بھی ہے کہ کتوں کی موت گیدڑوں کی عید ہوتی ہے

مطلب یہ کہ باقی تو ساری باتیں سیاست کی تھیں اور سیاست کا کوچہ ہمارے لیے بھول بھلیوں سے کم نہیں ہے اس لیے سیاست کو ایک طرف کرکے صرف اس ''چیز'' کی بات کریں گے جس کا جائز یا ناجائز تعلق ہم خدا مارے ''عوام سے بھی ہے اور وہ ہے خدا ماری جمہوریت جس کے بارے میں ہم نے سنا ہے کہ '' عوام پر عوام کے ذریعے عوام کی حکومت لیکن پاکستان میں آکر یہ تھوڑی سی ''ترمیم شدہ'' ہو گئی ہے اور اس کی صورت عوام پر ''خواص'' کی حکومت خواص کے ذریعے۔ یا عوام پر شاہی حکومت شاہی خاندانوں کے ذریعے۔ویسے حق بھی ہے کہ جمہوریت اسی گھرانے میں پیدا ہوئی ہے اسی میں پلی بڑھی ہے اور اسی میں مستقل رہائش پزیر ہے مجال ہے کہ اس گھر سے باہر کبھی قدم بھی نکالا ہو اور کسی ایرے غیرے نے اس کا پلو بھی دیکھا ہو یہی بے انتہا پردہ نشینی ہی ہے کہ خاندان سے باہر اسے کوئی جانتا تک نہیں کہ اس عفیفہ کا قدو قامت کیا ہے خدو خال کیسے ہیں


سراپا بر سر اپائے خودم از بے خودی قربان

کہ زیر ''مرکز خود'' صورت ''پرکار'' میں رقصم

اور پھر بی بی شہیدہ جن کی یہ برسی تھی اور جس میں یہ ''برسا برسی'' ہوئی ان کی تو شخصیت ہی جمہوریت اور جمہوریت ہی شخصیت ہے۔کچھ لوگ جو یا تو نادان ہوتے ہیں اور جمہوریت کے معنی و مفہوم تک سے آگاہ نہیں ہوتے یا محض ''منفی تنقیدیے'' ہوتے ہیں یہ باقی سارے جہاں میں کھلے عام گھوم پھر سکتی ہے لیکن ''گھرانوں'' کے نزدیک پھٹکنے تک کی اجازت اسے نہیں اور ان گھرانوں میں شاہی جمہوری خاندان کے ساتھ ساتھ کچھ ذیلی خاندان بھی اس کا منہ دیکھنے کے رودار نہیں ہیں۔

ضروری ہے کہ ہم جمہوریت کے بارے میں اپنی تحقیق اور ریسرچ کا خلاصہ پیش کردیں۔ یونان میں ایک ط اور ق کے خاندان کا رکن تھا نام تھا ''دیمقراط '' یہ سقراط بقراط اور طنراط وغیرہ کا رشتہ نہیں تھا۔ لیکن یونان میں یہ رواج تھا کہ اس قسم کے فاضل یعنی فالتو لوگوں کے نام میں ط یا ق ضرور ڈالتے تھے ورنہ ماں باپ نے اس کا نام ڈیماکریٹس رکھا ہوا تھا اس فالتو فاضل آدمی نے دو چیزیں دریافت کی تھی ایک ''ایٹم '' (A-TOM) یعنی وہ ذرہ جو ناقابل تقسیم ہے اور دوسری ایک طرز حکومت جو اس کے نام پر ''ڈیما کریسی'' کہلائی جو مشرف بہ اردو یعنی ''مود'' ہو کر جمہوریت بنی۔لیکن اس بچارے کو معلوم نہیں تھا کہ اس دنیا میں کوئی چیز مستقل نہیں ہے بقول آتشؔؔ زمانہ رنگ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اور بقول علامہ اقبال

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

'' ثبات '' ایک تغیر کو ہے زمانے میں

چنانچہ اس کے ناقابل تقسیم ذرے (A-TOM)کو بھی ایسا ٹوم (TOM)کر دیا گیا کہ اس کے ڈنکے ہیرو شیما اور ناگا ساکی تک مچ گئے اور اس کی ڈیما کریسی کی بھی ایسی کی تیسی کر دی گئی جو آئینے میں خود کو پہچاننے سے بھی منکر ہو گئی اس کی تقریباً نو ہزار نو سو نناوے ٹکڑے کر دیے گئے جن کو کوئی یہاں گرا کوئی وہا ں گرا لیکن پاکستان کی سرزمین چونکہ بہت زرخیز ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ بلا کے کاریگر اور ہنر مند ہیں۔

بیچ بیچ میں مخصوص قسم کے واش مین آکر اسے دھوتے ہیں نہلاتے ہیں اور پھر نچوڑتے ہیں اور کس بل نکالتے ہیں اس عمل کو آمریت کہتے ہیں چنانچہ پاکستان میں اس عطر مجموعہ کا نام بھی تھوڑا سا بدل کر عوامی جمہوریت رکھا گیا ہے نام تو کچھ او بھی اس کے وقتاً فوقتاً رکھے جاتے رہے ہیں لیکن یہ آخری نام جو قائد عوام فخر ایشیا فادر جمہوریت نے رکھا تھا بہت مقبول ہے اور خاص طور پر تھری ڈانمشن پارٹی کے زیر استعمال ہے لیکن نادان لوگ اس میں جمہوریت کا لفظ دیکھ کر اسی تک محدود ہو جاتے ہیں اور پھر منفی تنقید کرتے رہتے ہیں حالانکہ اس کے ساتھ یہ '' عوامی '' کا لفظ بھی لگا ہوا ہے اور اس کا مطلب صاف ہے۔

یعنی صرف اور صرف ''عوام''کے لیے مخصوص ہے خواص اتنے زیادہ دیانت دار اور امانت دار ہیں کہ اس میں ذرہ بھر بھی ''خیانت'' نہیں کرتے اور ساری کی ساری جمہوریت عوام کے لیے مخصوص رکھتے ہیں چنانچہ آج کل اس کا نعرہ بھی بدل گیا ہے۔ پہلے تو یہ نعرہ تھا عوام پر عوام کی حکومت عوام کے ذریعے لیکن اب عوام پر خواص کی حکومت خواص کے ذریعے یا عوام پر خاص خاندانوں کی حکومت خاص خاندانوں کے ذریعے۔ ظاہر ہے کہ خواص کے خاندانوں کے قریب تک بھی نہ ٹپخنے والی جمہوریت ہی عوامی جمہوریت ہو سکتی ہے اور ہے جس کے سارے ''شیئر'' عوام کے پاس ہیں اور خاص خاندانوں نے ایک شیئر بھی اپنے لیے نہیں رکھا ہے ۔
Load Next Story