اورنگی ٹاؤن کالعدم لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان کے3 ملزمان گرفتار
سی آئی ڈی کی اطلاع پر کارروائی، شوکت سردار، انعام اﷲ اور توکل رکشا میں سوار تھے، بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد
سی آئی ڈی کے ہاتھوں گرفتارتحریک طالبان اور لشکر جھنگوی کے ملزمان کی تصاویر اوران سے برآمدہونے والااسلحہ صحافیوں کو دکھایاجارہا ہے. فوٹو: ایکسپریس
لاہور:
سی آئی ڈی کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس نے اورنگی ٹاؤن میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر اسلحہ بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سی آئی ڈی کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس کے ڈی ایس پی اصغر عثمان نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سی آئی ڈی پولیس نے خفیہ اطلاع پر اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے رکشے میں سوار کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد شوکت سردار عرف عثمان عرف اسامہ اور کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد انعام اﷲ عرف بارود اور توکل عرف وزیری منتقلی کو گرفتار کر کے2 نائن ایم ایم پستول اور ایک ٹی ٹی پستول برآمد کر لیں۔
جبکہ ملزمان کی نشاندہی پر رکشا کے خفیہ خانوں میں چھپایا ہوا30 کلو دھماکہ خیز مواد اور سیکڑوں گولیاں برآمد کر لیں، انھوں نے بتایا کہ ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ملزمان اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بلوچ کالونی سے لیکر کنواری کالونی لے جا رہے تھے، انھوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ملزمان کو بیک اپ سپورٹ فراہم 3ملزمان بشیر خان محسود ، محفوظ اﷲ ، اعظم اور ایک نامعلوم ملزم جو کہ2موٹر سائیکلوں پر سوار تھے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے انھوں نے بتایا کہ ملزمان نے حال ہی میں کنواری کالونی میں ایک مکان کرائے پر حاصل کیا ہے۔
جہاں وزیرستان سے آنے والے بم بنانے کے ماہر ملزمان کو پناہ دینی تھی، انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے انکشاف کیا ہے حالیہ دنوں میں لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان ملکر کارروائیاں کر رہے ہیں، ان کارروائیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے حکم اﷲ محسود نے کراچی میں تحریک طالبان پاکستان سہراب گوٹھ کے امیر بشیر خان محسود کو رقم جمع کرنے کا حکم دیا جس میں13سے14افراد پر مشتمل گروہ تشکیل دیا جو کہ کاروباری حضرات سے فون کے ذریعے دھمکیاں دیکر یا دستی بم حملہ کر کے خوف زدہ کرنے کے بعد رقم حاصل کرتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کاروباری حضرات کی نشاندہی کچھ ایسے افراد کر رہے ہیں جن کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے اور وہ پولیس اور رینجرز سے بچنے کیلیے اس پارٹی کے جھنڈے کے نیچے جمع ہیں، انھوں نے بتایا کہ ملزم شوکت سردار نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ڈرائی فروٹ دکان کے مالک شہزاد رضا کو بہادر آباد تھانے کی حدود میں ہلاک کیا تھا جبکہ دوسری کارروائی میں پاسبان اعزا کے عہدیدار نیئر زیدی کوچنیسر گوٹھ کے قریب ہلاک کیا تھا اور تیسری واردات میں ملزم نے آغا سید آفتاب حیدر کو پریڈی اسٹریٹ پر فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔
اس کے علاوہ ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے ایک عہدیدار کو اعظم بستی میں حملہ کر کے زخمی کردیا تھا،ملزم نے حالیہ دنوں میں زری کے کاریگر حیدر ، نجی بینک کے ایک منیجر اور ٹریول ایجنسی کے مالک جاوید زیدی اور کے ای ایس سی کے ملازم فرقان کی ریکی مکمل کی ہوئی تھی، انھوں نے بتایا کہ ملزم شوکت سردار اس قبل بھی سی آئی ڈی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا ہے اور اس وقت اس کا تعلق آصف رمزی گروپ سے تھا اور اس وقت ملزم کی اسلحہ کی ترسیل کی ذمے داری تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم 2008 میں جیل سے رہا ہونے کے بعد قاسم رشید اور وسیم بارودی کے گروپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور قاسم رشید نے تنظیمی فنڈ سے ملزم کو رکشا خرید کر دیا تھا اس سے رقم جمع ہونے کے ساتھ ساتھ اسلحہ کی منتقلی اور ساتھیوں کی نقل و حمل اور ریکی کرنے کا فائدہ تھا، انھوں نے بتایا کہ ملزم شوکت سردار کا تعلق گاؤں میاں دی سیری ضلع ایبٹ آباد سے ہے اور ملزم توکل عرف وزیری کا تعلق تحصیل لدھا جنونی وزیرستان سے ہے جبکہ انعام اﷲ کا تعلق تحصیل مکین جنوبی وزیرستان سے ہے۔
سی آئی ڈی کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس نے اورنگی ٹاؤن میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر اسلحہ بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سی آئی ڈی کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس کے ڈی ایس پی اصغر عثمان نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سی آئی ڈی پولیس نے خفیہ اطلاع پر اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے رکشے میں سوار کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد شوکت سردار عرف عثمان عرف اسامہ اور کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد انعام اﷲ عرف بارود اور توکل عرف وزیری منتقلی کو گرفتار کر کے2 نائن ایم ایم پستول اور ایک ٹی ٹی پستول برآمد کر لیں۔
جبکہ ملزمان کی نشاندہی پر رکشا کے خفیہ خانوں میں چھپایا ہوا30 کلو دھماکہ خیز مواد اور سیکڑوں گولیاں برآمد کر لیں، انھوں نے بتایا کہ ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ملزمان اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بلوچ کالونی سے لیکر کنواری کالونی لے جا رہے تھے، انھوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ملزمان کو بیک اپ سپورٹ فراہم 3ملزمان بشیر خان محسود ، محفوظ اﷲ ، اعظم اور ایک نامعلوم ملزم جو کہ2موٹر سائیکلوں پر سوار تھے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے انھوں نے بتایا کہ ملزمان نے حال ہی میں کنواری کالونی میں ایک مکان کرائے پر حاصل کیا ہے۔
جہاں وزیرستان سے آنے والے بم بنانے کے ماہر ملزمان کو پناہ دینی تھی، انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے انکشاف کیا ہے حالیہ دنوں میں لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان ملکر کارروائیاں کر رہے ہیں، ان کارروائیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے حکم اﷲ محسود نے کراچی میں تحریک طالبان پاکستان سہراب گوٹھ کے امیر بشیر خان محسود کو رقم جمع کرنے کا حکم دیا جس میں13سے14افراد پر مشتمل گروہ تشکیل دیا جو کہ کاروباری حضرات سے فون کے ذریعے دھمکیاں دیکر یا دستی بم حملہ کر کے خوف زدہ کرنے کے بعد رقم حاصل کرتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کاروباری حضرات کی نشاندہی کچھ ایسے افراد کر رہے ہیں جن کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے اور وہ پولیس اور رینجرز سے بچنے کیلیے اس پارٹی کے جھنڈے کے نیچے جمع ہیں، انھوں نے بتایا کہ ملزم شوکت سردار نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ڈرائی فروٹ دکان کے مالک شہزاد رضا کو بہادر آباد تھانے کی حدود میں ہلاک کیا تھا جبکہ دوسری کارروائی میں پاسبان اعزا کے عہدیدار نیئر زیدی کوچنیسر گوٹھ کے قریب ہلاک کیا تھا اور تیسری واردات میں ملزم نے آغا سید آفتاب حیدر کو پریڈی اسٹریٹ پر فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔
اس کے علاوہ ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے ایک عہدیدار کو اعظم بستی میں حملہ کر کے زخمی کردیا تھا،ملزم نے حالیہ دنوں میں زری کے کاریگر حیدر ، نجی بینک کے ایک منیجر اور ٹریول ایجنسی کے مالک جاوید زیدی اور کے ای ایس سی کے ملازم فرقان کی ریکی مکمل کی ہوئی تھی، انھوں نے بتایا کہ ملزم شوکت سردار اس قبل بھی سی آئی ڈی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا ہے اور اس وقت اس کا تعلق آصف رمزی گروپ سے تھا اور اس وقت ملزم کی اسلحہ کی ترسیل کی ذمے داری تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم 2008 میں جیل سے رہا ہونے کے بعد قاسم رشید اور وسیم بارودی کے گروپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور قاسم رشید نے تنظیمی فنڈ سے ملزم کو رکشا خرید کر دیا تھا اس سے رقم جمع ہونے کے ساتھ ساتھ اسلحہ کی منتقلی اور ساتھیوں کی نقل و حمل اور ریکی کرنے کا فائدہ تھا، انھوں نے بتایا کہ ملزم شوکت سردار کا تعلق گاؤں میاں دی سیری ضلع ایبٹ آباد سے ہے اور ملزم توکل عرف وزیری کا تعلق تحصیل لدھا جنونی وزیرستان سے ہے جبکہ انعام اﷲ کا تعلق تحصیل مکین جنوبی وزیرستان سے ہے۔