فارنسک ڈویژنٹارگٹ کلنگ کے شکار افراد کا ڈیٹا تقسیم

پولیس اہلکاروں،سنی اور شیعہ مسلک کے افراد کے کیسز علیحدہ کردیے گئے،ذرائع

فارنسک ڈویژن یونٹ کے ذرائع نے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی وارداتوں کے پیش نظر فارنسک ڈویژن یونٹ میں روزانہ10سے12مقدمات آرہے ہیں۔ فوٹو: فائل

فارنسک ڈویژن یونٹ نے شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شیعہ اور سنی مسالک کے افراد کا علیحدہ علیحدہ ڈیٹا تیار کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔

جس کی مدد سے تفتیش کے دوران واردات میں استعمال کیے جانے والے اسلحے اور گولیوں کا تجزیہ کرکے رپورٹ تیار کی جائے گی، اس سلسلے میں فارنسک ڈویژن یونٹ کے ذرائع نے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی وارداتوں کے پیش نظر فارنسک ڈویژن یونٹ میں روزانہ10سے12مقدمات آرہے ہیں۔


جس کی وجہ سے فارنسک ڈویژن کے عملے کو مقدمات کی درجہ بند ی میں مشکلات کا سامنا کرنا تھا،ذرائع نے بتایا کہ مقدمات کی تیز رفتار تفتیش کے لیے فارنسک ڈویژن پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں قتل کیے جانے والے پولیس اہلکاروں ، سنی اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو لگنے والی گولیوں کا ریکارڈ علیحدہ علیحدہ مرتب کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سال2011ء سے سال رواں کے دوران قتل کیے جانے والے پولیس اہلکاروں اور مختلف مسالک کے افراد کے مقدمات کا ڈیٹا علیحدہ کرنے کا مقصد تفتیش میں آسانی پیدا کرنا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ فارنسک ڈویژن میں موجود 15ہزار مقدمات کے ریکارڈ سے کسی واردات میں استعمال ہونے والی گولیوں کا موازنہ کرنے کا عمل انتہائی مشکل کام ہے۔ لہذا اب گروپنگ کردی گئی ہے جس سے گولیوں کا موازنہ کرنے میں آسانی ہوگی اور نتائج جلد مل سکیں گے۔
Load Next Story