کوئٹہ دہشت گردی کی کڑیاں افغانستان سے ملتی ہیں
حملے کے ماسٹر مائنڈ سرحد پار افغانستان میں ہیں جہاں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سرگرمیاں اب کوئی راز نہیں۔
پاکستان کو افغانستان کے حالات پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
کوئٹہ میں جہاں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے موقع پر جب وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور صوبائی اسمبلی کے باہر لوگوں کا ایک ہجوم موجود تھا جنھیں کنٹرول کرنے کے لیے بلوچستان کانسٹبلری کی بس بھی وہاں کھڑی تھی عین اس موقع پر دہشت گردوں نے پولیس والوں سے بھری ہوئی بس پر حملہ کر کے متعدد افراد کو شہید کر دیا' ان میں زیادہ تر پولیس اہلکار شامل تھے جب کہ چند سویلین بھی اس نا گہانی واردات کی زد میں آ گئے۔
پاکستانی حکام نے فی الفور پتہ چلا لیا کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ سرحد پار افغانستان میں ہیں جہاں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سرگرمیاں اب کوئی راز نہیں جو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے تعاون سے پاکستان کے خلاف مذموم کارروائیوں میں ملوث ہے۔
پاکستان نے اس حوالے سے فوری طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعینات غیرملکی سفیروں اور ہائی کمشنرز کو طلب کر کے بتایا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' اور افغان ایجنسی ''این ڈی ایس'' پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ملوث ہیں۔ اس ضمن میں دفتر خارجہ میں غیر ملکی سفیروں اور ہائی کمشنرز کو سفارتی و عسکری قیادت کی جانب سے بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیزی سمیت افغان سرزمین سے پے در پے ہونیوالے حملوں پر بریفنگ دی گئی اور شرکاء کو بھارتی فوج کی تسلسل کے ساتھ ہونے والی جارحیت کے ٹھوس ثبوت بھی دکھائے گئے۔
سفیروں کو دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے شرکاء کو بتایا گزشتہ چار برسوں میں دہشتگردی کی کارروائیوں سے پاکستان کو بڑا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ انھوں نے کہا افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو شدید خطرہ ہے، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ بھارت، افغانستان اور امریکا کی طرف سے الٹا پاکستان پر دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا کی طرف سے پاکستان پر مسلسل یہ الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے اڈے ختم کرنے پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہا حالانکہ یہ اڈے افغانستان میں ہیں جہاں امریکا نے بھی اپنی فوج تعینات کر رکھی ہے۔
کیا امریکی افواج کو یہ اڈے نظر نہیں آتے یا ان کو نظر انداز کرنا امریکا کی وسیع تر سازش کا حصہ ہے۔ پاکستان کو افغانستان کے حالات پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے' پاکستان ڈیورنڈ لائن پر جو باڑ لگا رہا ہے' اسے مزید موثر کرنا چاہیے اور پاک افغان سرحد کو پیدل کراسنگ کے لیے بند کر دیا جانا چاہیے' اس طریقے سے وہاں سے آنے والے دہشت گردوں کو روکا جا سکتا ہے۔
پاکستانی حکام نے فی الفور پتہ چلا لیا کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ سرحد پار افغانستان میں ہیں جہاں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سرگرمیاں اب کوئی راز نہیں جو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے تعاون سے پاکستان کے خلاف مذموم کارروائیوں میں ملوث ہے۔
پاکستان نے اس حوالے سے فوری طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعینات غیرملکی سفیروں اور ہائی کمشنرز کو طلب کر کے بتایا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' اور افغان ایجنسی ''این ڈی ایس'' پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ملوث ہیں۔ اس ضمن میں دفتر خارجہ میں غیر ملکی سفیروں اور ہائی کمشنرز کو سفارتی و عسکری قیادت کی جانب سے بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیزی سمیت افغان سرزمین سے پے در پے ہونیوالے حملوں پر بریفنگ دی گئی اور شرکاء کو بھارتی فوج کی تسلسل کے ساتھ ہونے والی جارحیت کے ٹھوس ثبوت بھی دکھائے گئے۔
سفیروں کو دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے شرکاء کو بتایا گزشتہ چار برسوں میں دہشتگردی کی کارروائیوں سے پاکستان کو بڑا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ انھوں نے کہا افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو شدید خطرہ ہے، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ بھارت، افغانستان اور امریکا کی طرف سے الٹا پاکستان پر دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا کی طرف سے پاکستان پر مسلسل یہ الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے اڈے ختم کرنے پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہا حالانکہ یہ اڈے افغانستان میں ہیں جہاں امریکا نے بھی اپنی فوج تعینات کر رکھی ہے۔
کیا امریکی افواج کو یہ اڈے نظر نہیں آتے یا ان کو نظر انداز کرنا امریکا کی وسیع تر سازش کا حصہ ہے۔ پاکستان کو افغانستان کے حالات پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے' پاکستان ڈیورنڈ لائن پر جو باڑ لگا رہا ہے' اسے مزید موثر کرنا چاہیے اور پاک افغان سرحد کو پیدل کراسنگ کے لیے بند کر دیا جانا چاہیے' اس طریقے سے وہاں سے آنے والے دہشت گردوں کو روکا جا سکتا ہے۔