گلوبل وارمنگ اور سیلاب خدشات حفاظتی تدابیر ناگزیر
اگر مناسب اقدامات نہیں کیے گئے تو 2040ء تک پاکستان میں سیلاب سے 11ملین افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ قومی فلاح کے منصوبوں کو علاقائی و لسانی تنازعات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ فوٹو؛ فائل
HANOI:
جرنل سائنس میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر آیندہ 25 برسوں میں نہ صرف بارشوں میں شدت پیدا ہوجائے گی بلکہ کروڑوں لوگ سیلاب سے متاثر ہوں گے، جن خطوں کے لیے یہ خدشات ظاہر کیے گئے ہیں ان میں امریکا، یورپ، افریقہ سمیت ایشیا کے مخصوص علاقے بشمول پاکستان شامل ہیں۔
ہمارے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ 2040ء تک پاکستان میں سیلاب کے خطرات دگنا ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جب کہ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے میں کئی بار سیلابی صورتحال کا سامنا کرچکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہیں کیے گئے تو 2040ء تک پاکستان میں سیلاب سے 11ملین افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایشیاء میں سب سے زیادہ خطرات کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے مطابق2040ء تک 70 سے 156 ملین افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستانی حکمرانوں میں وژن کی کمی اور حقیقی عوامی مسائل سے پہلوتہی کے باعث یہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد شاید عمومی رویہ ''ہنوز دلی دور است'' سے زیادہ نہ ہو لیکن گزشتہ عرصے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات کا ادراک کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو 2010ء اور 2011ء میں مون سون بارشوں کے باعث شدید سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ قومی فلاح کے منصوبوں کو علاقائی و لسانی تنازعات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، ملک میں ڈیموں کی تعمیر ازحد ضروری ہے، اگر کوئی منصوبہ متنازع ہے تو اس کی جگہ دوسرے منصوبے شروع کیے جائیں۔ گلوبل وارمنگ انفرادی نہیں بلکہ ایک اہم اجتماعی مسئلہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر اجتماعی کاوشوں سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
موسمیاتی پیشگوئی اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے بارے میں ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرکے علاقائی ممالک قدرتی آفات سے بہتر انداز میں نمٹنے میں ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں۔ وقت سے پہلے آنے والی اس رپورٹ کو قدرت کا الارم سمجھ کر حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔
جرنل سائنس میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر آیندہ 25 برسوں میں نہ صرف بارشوں میں شدت پیدا ہوجائے گی بلکہ کروڑوں لوگ سیلاب سے متاثر ہوں گے، جن خطوں کے لیے یہ خدشات ظاہر کیے گئے ہیں ان میں امریکا، یورپ، افریقہ سمیت ایشیا کے مخصوص علاقے بشمول پاکستان شامل ہیں۔
ہمارے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ 2040ء تک پاکستان میں سیلاب کے خطرات دگنا ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جب کہ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے میں کئی بار سیلابی صورتحال کا سامنا کرچکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہیں کیے گئے تو 2040ء تک پاکستان میں سیلاب سے 11ملین افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایشیاء میں سب سے زیادہ خطرات کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے مطابق2040ء تک 70 سے 156 ملین افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستانی حکمرانوں میں وژن کی کمی اور حقیقی عوامی مسائل سے پہلوتہی کے باعث یہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد شاید عمومی رویہ ''ہنوز دلی دور است'' سے زیادہ نہ ہو لیکن گزشتہ عرصے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات کا ادراک کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو 2010ء اور 2011ء میں مون سون بارشوں کے باعث شدید سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ قومی فلاح کے منصوبوں کو علاقائی و لسانی تنازعات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، ملک میں ڈیموں کی تعمیر ازحد ضروری ہے، اگر کوئی منصوبہ متنازع ہے تو اس کی جگہ دوسرے منصوبے شروع کیے جائیں۔ گلوبل وارمنگ انفرادی نہیں بلکہ ایک اہم اجتماعی مسئلہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر اجتماعی کاوشوں سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
موسمیاتی پیشگوئی اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے بارے میں ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرکے علاقائی ممالک قدرتی آفات سے بہتر انداز میں نمٹنے میں ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں۔ وقت سے پہلے آنے والی اس رپورٹ کو قدرت کا الارم سمجھ کر حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔