سال گزر گیا پولیس زیادتی کے ملزمان کو گرفتار نہ کر سکی

ابراہیم حیدری میں7سالہ طوبی سے زیادتی کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

قصورکے واقعے سے زخم تازہ ہو گئے، قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے، والدہ طوبی۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
پولیس ایک سال گزرنے کے باوجود ابراہیم حیدری میں کمسن بچی طوبی سے زیادتی اوراسے قتل کرنے کی کوشش کرنے والے ملزمان کوگرفتارنہ کر سکی۔

کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں کمسن بچی طوبی سے زیادتی کے واقعے کا سپریم کورٹ نے واقعہ کاازخودنوٹس لیا تھا، ایس آئی او ابراہیم حیدری ارشدجٹ نے بتایاکہ طوبی کیس میں 82 افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے تاہم تمام تر حکمت عملی کے باوجود ملزمان کا سراغ نہ مل سکا۔

اس وقت کے تفتیشی افسر نے مقدمے کو اے کلاس کرکے اس کی رپورٹ دہشت گردی کی عدالت میں جمع کرا دی، جسے ہی ملزمان کا سراغ ملے گے کیس دوبارہ کھول دیا جائے گا، متاثرہ بچی کی والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ 6 بچوں کی ماں ہے، سویرا عرف طوبی تیسرے نمبر پر ہے۔


پولیس نے ملزمان کو تو نہیں پکڑا ہمیں روزاذیت دیتی تھی محلے والوں نے ہم سے بات کرنا ہی چھوڑ دیا تھا جب کہ پولیس کے رویے سے تنگ آکر اپنا گھر چھوڑ کر دوسرے علاقے میں شفٹ ہوگئے ہیں۔

خاتون نے مزید بتایا قصور کا واقعہ دیکھ کر ایک سال بعد دوبارہ میرے زخم تازہ ہوگئے، میری بیٹی سے زیادتی کرنے والے ملزمان اور قصور میں زینب کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے۔

یاد رہے کہ جنوری 2017 میں ابراہیم حیدری کی حدود سے 7سال بچی طوبی زخمی حالت میں ملی تھی جسے علاقے کے مکینوں نے فوری اسپتال پہنچایا تھا جہاں لیڈی ڈاکٹرنے اس کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کی تھی، ملزمان نے زیادتی کے بعد بچی کی گردن پر چھری پھیر کر سیدھے ہاتھ کی نس کاٹ دی تھی اور اسے مردہ سمجھ کر پھینک دیا تھا۔
Load Next Story