عدالتی حکم پر نجی جیل پر چھاپہ 64ہاری بازیاب
سیشن جج کے حکم پر پیارو لوند پولیس کی کارروائی عدالت نے بیانات قلمبند کرتے ہوئے آزاد کر دیا
تمام افراد کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں مرضی سے زندگی گزارنے کی اجازت دیتے ہوئے آزاد کر دیا گیا۔ فوٹو: فائل
سیشن جج کے حکم پر پیارو لوند پولیس نے گوٹھ دُر محمد لاشاری میں مبینہ نجی جیل پر چھاپہ مار کر حبس بے جا میں رکھے 28 خواتین اور 11 بچوں سمیت 64 ہاریوں کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کر دیا۔
جہاں تمام افراد کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں مرضی سے زندگی گزارنے کی اجازت دیتے ہوئے آزاد کر دیا گیا۔ گوٹھ دُر محمد لاشاری کے رہائشی لکی بھیل نے سیشن کورٹ ٹنڈوالہیار میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے خاندان کے افراد کو مقامی زمیندار دُر محمد لاشاری نے اپنی نجی جیل میں محبوس رکھا ہوا ہے جنہیں بازیاب کروایا جائے۔
جس پر عدالت نے پیارو لوند پولیس کو مذکورہ افراد کو بازیاب کروا نے حکم دیاتھا۔ بازیاب ہونے والوں میں پرکاش، شریمتی گڈی، شریمتی سبھاگی، شریمتی، ماروی، چکرا، لالو، مینگل، جھیٹو، ہیرو، پریمو، امر چند، شیرو، گوردھن، مکیش، بھمیو، ڈھالو و دیگر شامل ہیں۔
دوسری طرف ایس ایچ او پیارو لوند اے ڈی بھنبھرو نے ایکسپریس کو بتایا کہ بازیاب افراد کسی نجی جیل میں قید نہیں تھے بلکہ اپنے گھروں میں بیٹھے تھے، وہاں سے انہیں عدالت میں پیش کیا ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لوگ مقامی زمینداروں کی زمینوں پر کام کرتے ہیں اور ان سے قرض لیتے ہیں اور جب قرض واپس مانگا جاتا ہے تو نجی جیل کا ڈراما رچایا جاتاہے اور قرض لی گئی رقم واپس نہیں کرتے۔
جہاں تمام افراد کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں مرضی سے زندگی گزارنے کی اجازت دیتے ہوئے آزاد کر دیا گیا۔ گوٹھ دُر محمد لاشاری کے رہائشی لکی بھیل نے سیشن کورٹ ٹنڈوالہیار میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے خاندان کے افراد کو مقامی زمیندار دُر محمد لاشاری نے اپنی نجی جیل میں محبوس رکھا ہوا ہے جنہیں بازیاب کروایا جائے۔
جس پر عدالت نے پیارو لوند پولیس کو مذکورہ افراد کو بازیاب کروا نے حکم دیاتھا۔ بازیاب ہونے والوں میں پرکاش، شریمتی گڈی، شریمتی سبھاگی، شریمتی، ماروی، چکرا، لالو، مینگل، جھیٹو، ہیرو، پریمو، امر چند، شیرو، گوردھن، مکیش، بھمیو، ڈھالو و دیگر شامل ہیں۔
دوسری طرف ایس ایچ او پیارو لوند اے ڈی بھنبھرو نے ایکسپریس کو بتایا کہ بازیاب افراد کسی نجی جیل میں قید نہیں تھے بلکہ اپنے گھروں میں بیٹھے تھے، وہاں سے انہیں عدالت میں پیش کیا ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لوگ مقامی زمینداروں کی زمینوں پر کام کرتے ہیں اور ان سے قرض لیتے ہیں اور جب قرض واپس مانگا جاتا ہے تو نجی جیل کا ڈراما رچایا جاتاہے اور قرض لی گئی رقم واپس نہیں کرتے۔