لیاری میں رینجرز اور پولیس داخل نہیں ہو سکتی سپریم کورٹ میں ڈی آئی جی کا اعتراف
مزاحمت ہوگی،قائم مقام آئی جی کاجواب،میڈیامیں باتیں ہورہی ہیں،قانون نافذکرنیوالے ادارے لاعلم ہیں،چیف جسٹس
رینجرزکوخودکچھ کرناہوگا،کسی کوتومنہ کھولناہوگا،یہ بابالاڈلاکون ہے؟نوگوایریازختم کرنے کے لیے کون جانے نہیں دیتا،نام بتائیں اسے جیل بھیجیں گے؟استفسار فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے قانون نافذکرنیوالے اداروں کوہدایت کی ہے کہ وہ کراچی میں حکومت کی رٹ قائم کریں۔
تاکہ شہرمیں امن ہوسکے،قبضہ مافیا کے خاتمے اورنئی حلقہ بندیوں کے بغیر کراچی میں امن نہیں ہوسکتا،شہرمیں آگ لگی ہوئی ہے،روزانہ 10سے زائدلاشیں گررہی ہیں،صوبے کا چیف سیکریٹری غائب اور15دن سے کوئی آئی جی نہیں،یہ غیرسنجیدگی اورمجرمانہ غفلت ہے جس کاذمے دارصوبے کاسربراہ ہے،معلوم نہیں یہ شہراورصوبہ کس کے رحم وکرم پرہے،حکومت آئین کی دفعات 9,14 اور23 کے تحت عوام کے جان ومال کے تحفظ میں ناکام ہوگئی،قانون نافذکرنیوالے اداروں میں رابطے کااس قدر فقدان ہے کہ نوگوایریازسے متعلق رینجرزکاموقف کچھ اورجبکہ پولیس کاکچھ اورہے،رینجرزکوجرائم کے بارے میں کوئی نہیں بتائے گااسے جرائم کے خاتمے کیلیے خودکچھ کرناہوگا،عدالت نے قانون نافذکرنے والے اداروں کولیاری سمیت دیگرعلاقوں میں نوگوایریاز کا فوری خاتمہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
جمعرات کوچیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ نے جمعرات کوکراچی رجسٹری میں کراچی بدامنی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی،بینچ کے دیگرارکان میں جسٹس جوادایس خواجہ، جسٹس خلجی عارف حسین،جسٹس امیرہانی مسلم اورجسٹس اعجاز افضل شامل ہیں،سماعت کے آغازپر عدالت کے استفسارپرغلام شبیر شیخ نے بتایاکہ وفاق کی جانب سے انہیں آئی جی بنانے کانوٹیفکیشن جاری نہیں کیاگیاتاہم صوبائی حکومت نے انہیں آئی جی تعینات کردیاہے،چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ غیرسنجیدگی کایہ عالم ہے کہ 15دن گزرنے کے باوجودوفاق نے آئی جی تعنیات نہیںکیا۔
سماعت کے موقع پر کراچی میں نوگوایریاز کے حوالے سے پولیس اوررینجرز کے موقف میں واضح تضادسامنے آیاجس پر عدالت نے ڈی جی رینجرزکے وکیل سے ایک ہی دن میں دودفعہ جواب طلب کیا،اس کے باوجودعدالت رینجرز کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی اوررینجرز وپولیس کومتفقہ رپورٹ اورلائحہ عمل تیارکرنے کیلیے ایک دن کی مہلت دی،عدالت نے زمینوں پرقبضے اورغیرقانونی الاٹمنٹ پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ ریاست کی ملکیت ہیں وزیر اعلیٰ کی ذاتی زمینیں نہیں کہ جسے چاہیں الاٹ کردیں۔
عدالت نے ایس پی انکروچمنٹ سیل عرفان بہادرکوجمعے کو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے محکمہ ریونیوکوسرکاری اراضی کے سروے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دینے کاحکم دیا،جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ حکومت اپنی مرضی کی تقرریاں تومدت گزرنے کے باوجودکرلیتی ہے،16مارچ کوحکومت کی مدت گزر جانے کے باوجودگریڈ 20سے اوپرکے 22افسران کی تقرریاں اور تبادلے کیے، عدالت نے سیکریٹری کوآرڈیشن محمدمصباح کے بیان پر عدم اطمینان کااظہارکرتے ہوئے انچارج چیف سیکریٹری عارف خان کوطلب کیا ، انھوں نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی کی تعیناتی کے حوالے سے وفاقی حکومت کوآگاہ کردیا گیاتھااوراس ضمن میں یاددہانی کا خط بھی بھیج دیاگیا تھا۔
عدالت نے چیف سیکریٹری سے متعلق استفسارکیاتو ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ وہ 3دن سے غائب ہیں، عدالت نے شدیدبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہاں آگ لگی ہوئی ہے اورصوبے میں چیف سیکریٹری اورآئی جی نہیں ہیں،عدالت نے انچارج چیف سیکریٹری کوہدایت کی کہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سے جواب لے کرآئیں،عدالت نے لیاری میں گینگ وار کے اہم کردار ارشد پپوکے قتل سے متعلق استفسار کیاتو ڈی آئی جی ساؤتھ شاہد حیات نے عدالت کو بتایا کہ سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیاہے اور تفتیش جاری ہے،چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ کوئی کتنابھی ظالم ہو،ماورائے عدالت قتل اورلاش کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
آئی جی سندھ نے بتایاکہ عزیر بلوچ اورارشد پپوگروپ کے مابین دشمنی تھی،ڈی آئی جی شاہدحیات نے بتایا کہ لیاری میں ہونیوالے واقعات کی تفتیش آسان نہیں یہاں رینجرزکوبھی داخل ہونے کے لیے سیکڑوں کی نفری درکار ہوتی ہے ،عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ پولیس کی جانب سے اس بیان کو قبول نہیں کیاجاسکتا ، عدالت نے نوگوایریاز کے خاتمے کاحکم دیاتھا،اس کا مطلب توہرکسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دینا ہوگا،عدالت نے ارشدپپو کے قتل کی ایف آئی آرکوغیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ چارپانچ افسران کے ہاتھ میں کراچی پولیس دیدی گئی ہے،عدالتی احکامات کومذاق سمجھاگیا،ذمے دارکون ہے سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کوبھی وضاحت کرناہوگی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایالیاری میں پولیس اوررینجرز داخل نہیں ہوسکتی، جس پر عدالت نے ڈی جی رینجرزکے وکیل جسٹس(ر)شاہدانور باجوہ کوہدایت کی کہ ڈی جی رینجرزکابیان جمع کرائیں،شاہد انور باجوہ نے ڈی جی رینجرزکی جانب سے بتایا کہ کوئی نوگوایریانہیں اگرپولیس اطلا ع دیتی تولیاری میں بھی کارروائی کی جاتی،ڈی جی رینجرز کے وکیل نے کہاکہ یہ بات عام ہے کہ کراچی میں دو ماہ میں ایس ایچ اوتبدیل کردیا جاتا ہے اور لندن سے ایس ایچ او کی تعیناتی کیلیے ٹیلیفون آتاہے، اتنی جلد ایس ایچ او کی تبدیلی کی وجوہات کاجائزہ لیاجاناچاہیے ۔
لارجربینچ نے لیاری سے متعلق ڈی جی رینجرزکاجواب مسترد کرتے ہوئے رینجرز کی کارکردگی پربھی عدم اطمینان کاآظہار کیااور ڈی جی رینجرز کو دوبارہ جواب داخل کرنے کی ہدایت کی،عدالت نے استفسارکیا کہ لیاری میں ارشدپپواور اس کے ساتھیوں کو قتل کرکے لاشوں کی بے حرمتی کی گئی،اس پرکیا کارروائی کی گئی، جب کوئی ایسا کرتاہے تو وہ قانون کو چیلنج کرتاہے ، شہر میں حکومت کی رٹ قائم کریں ، کوئی قانون سے بالاترنہیں ، ڈی آئی جی ساؤتھ شاہد حیات نے عدالت کو بتایا کہ لیاری گینگ وارکے مقتول رکن ارشد پپوگروپ کوسیاسی جماعت کی حمایت حاصل تھی،چیف جسٹس نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے استفسار کیا یہ بابا لاڈلا کون ہے؟چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاپولیس رینجرز اورایف سی کی موجودگی میں نوگوایرکاخاتمہ کیوں نہیں ہوا، کسی نہ کسی کو منہ کھولناہوگا، میڈیا میں باتیں آرہی ہیں لیکن قانون نافذ کرنیوالے ادارے لاعلمی ظاہرکررہے ہیں،لارجر بینچ نے قائم مقام آئی جی سے پوچھاکیا وہ انھیں لے کرلیاری جاسکتے ہیں؟ آئی جی نے کہاپولیس کو لیاری میں مزاحمت ہوگی ججزساتھ چلیں تو بھی مزاحمت ہوگی۔
چیف جسٹس نے کہا ہم نے کسی کے ساتھ کیاکیا ہے جو مزاحمت ہوگی؟ عدالت نے کہا ڈی جی رینجرز کوکچھ معلوم نہیں صرف بیان پر دستخط کرکے دیدیے ہیں،ڈی جی رینجرز لیاری کے کلیئر ہونے کاسرٹیفکیٹ دیں اورلکھ کر دیں وہاں کسی کوکچھ ہوا تو وہ ذمے دار ہوں گے، جسٹس امیرہانی مسلم نے ڈی جی رینجرزکے جواب کو غیر ذمے دارانہ قراردیا،چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاکہ بدامنی کیس کے فیصلے کے باوجود لگتاہے کہ شہرمیں مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔قبل ازیں ڈی آئی جی شاہدحیات نے عدالت کے روبرو اعتراف کیاکہ لیاری میں پولیس اوررینجرز داخل نہیں ہوسکتی۔
جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی طرف سے نو گو ایریاز بتانے کامقصد ہے کہ آپ اپنی شکست تسلیم کررہے ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون ہے جو آپ کو نو گو ایریاز ختم کرنے کے لیے جانے نہیں دیتاہے،ا س کا نام بتائیں اسے جیل بھجیں گے ،ڈی جی رینجرز کی جانب سے دوبارہ پیش کیے گئے جواب میں بتایاگیاکہ رینجرز نے لیاری میں 65آپریشن کیے اور 258ملزمان کوگرفتار کیا،پیپلزاسٹیڈیم میں رینجرز کاایک ونگ کا ہیڈکوارٹر ہے جبکہ بے نظیر یونیورسٹی میں رینجرزکے دستے موجودہیں،عدالت نے رینجرز اور پولیس کو ہدایت کی کہ دونوں ادارے جمعے تک مشترکہ بیان اور حکمت عملی تیارکرکے جمع کرائیں۔
عدالت نے قراردیاکہ حکومت آئین کی دفعات 9,14اور23کے تحت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوگئی، بعد ازاں انچارج چیف سیکریٹری عارف احمد خان دوباہ عدالت میں پیش ہوئے اوربتایا کہ میں ابھی وزیراعلیٰ سے مل کر آرہا ہوں انھوں کنٹریکٹ پولیس افسران کو ہٹانے کی سمری کی نقل دیدی ہے جو میں عدالت میں پیش کررہا ہوں ،انھوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے اس ضمن میں ایڈووکیٹ جنرل سے بھی رائے طلب کی ہے جس پر اے جی نے رائے دی ہے کہ سندھ سول سرونٹس ایکٹ کے سیکشن14کے تحت مطلوبہ شرائط پرپورا اترنے والوں کو کنٹریکٹ پر تقررکیاجاسکتا ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ سیکریٹری داخلہ سمیت کنٹریکٹ افسران جمعے کوپیش ہوکر وضاحت کریں اس ضمن میں کیس ٹو کیس جائزہ لیاجائے گا۔
عارف خان نے بتایا کہ انہیں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے رابطہ کرنے پر بتایاہے کہ آئی جی سندھ کی تقرری کانوٹیفیکیشن آج ہی جاری کردیا جائے گا۔اس موقع چیف جسٹس افتخارچوہدری نے ریمارکیس دیے کہ ہم پولیس افسران کی حوصلہ شکنی نہیں کرناچاہتے ہیں، اہل سیاست جوچاہے کریں لیکن عدالت آئین کا نفاذ چاہتی ہے اوربیورو کریسی کو اپنا کام کرناچاہیے ، انہیں آئین کا تحفظ حاصل ہے ،انیتاتراب کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ افسران غیر قانونی احکامات ماننے کے پابندنہیں ۔
جسٹس جوادایس خواجہ نے کہاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں کچھ شخصیات ناگزیرہوتی ہیں، تاہم ان کنٹریکٹ افسران میں کوئی آئن آسٹائن تونہیں تھاجن کے بغیر پولیس کا کام نہیں ہو رہا،انھوں نے کہا کہ کسی کے بغیر کوئی کام نہیں رکتالیکن ذمے داری کا احساس ہونا چاہیے،انھوں نے چیف سیکریٹری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ آپ ان نوجوان پولیس افسران کوترقی دیں جن کا میرٹ ہے نہ کہ کنٹریکٹ افسران کوان کی جگہ تعینات کرکے ان کی حق تلفی کریں پھر دیکھیں کہ یہ لیاری اورکنواری کالونی کیاہے ،دنیا کے ہرکونے میں جانے کے لیے تیارہونگے۔عدالت نے سماعت جمعہ کیلیے ملتوی کردی۔
تاکہ شہرمیں امن ہوسکے،قبضہ مافیا کے خاتمے اورنئی حلقہ بندیوں کے بغیر کراچی میں امن نہیں ہوسکتا،شہرمیں آگ لگی ہوئی ہے،روزانہ 10سے زائدلاشیں گررہی ہیں،صوبے کا چیف سیکریٹری غائب اور15دن سے کوئی آئی جی نہیں،یہ غیرسنجیدگی اورمجرمانہ غفلت ہے جس کاذمے دارصوبے کاسربراہ ہے،معلوم نہیں یہ شہراورصوبہ کس کے رحم وکرم پرہے،حکومت آئین کی دفعات 9,14 اور23 کے تحت عوام کے جان ومال کے تحفظ میں ناکام ہوگئی،قانون نافذکرنیوالے اداروں میں رابطے کااس قدر فقدان ہے کہ نوگوایریازسے متعلق رینجرزکاموقف کچھ اورجبکہ پولیس کاکچھ اورہے،رینجرزکوجرائم کے بارے میں کوئی نہیں بتائے گااسے جرائم کے خاتمے کیلیے خودکچھ کرناہوگا،عدالت نے قانون نافذکرنے والے اداروں کولیاری سمیت دیگرعلاقوں میں نوگوایریاز کا فوری خاتمہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
جمعرات کوچیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ نے جمعرات کوکراچی رجسٹری میں کراچی بدامنی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی،بینچ کے دیگرارکان میں جسٹس جوادایس خواجہ، جسٹس خلجی عارف حسین،جسٹس امیرہانی مسلم اورجسٹس اعجاز افضل شامل ہیں،سماعت کے آغازپر عدالت کے استفسارپرغلام شبیر شیخ نے بتایاکہ وفاق کی جانب سے انہیں آئی جی بنانے کانوٹیفکیشن جاری نہیں کیاگیاتاہم صوبائی حکومت نے انہیں آئی جی تعینات کردیاہے،چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ غیرسنجیدگی کایہ عالم ہے کہ 15دن گزرنے کے باوجودوفاق نے آئی جی تعنیات نہیںکیا۔
سماعت کے موقع پر کراچی میں نوگوایریاز کے حوالے سے پولیس اوررینجرز کے موقف میں واضح تضادسامنے آیاجس پر عدالت نے ڈی جی رینجرزکے وکیل سے ایک ہی دن میں دودفعہ جواب طلب کیا،اس کے باوجودعدالت رینجرز کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی اوررینجرز وپولیس کومتفقہ رپورٹ اورلائحہ عمل تیارکرنے کیلیے ایک دن کی مہلت دی،عدالت نے زمینوں پرقبضے اورغیرقانونی الاٹمنٹ پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ ریاست کی ملکیت ہیں وزیر اعلیٰ کی ذاتی زمینیں نہیں کہ جسے چاہیں الاٹ کردیں۔
عدالت نے ایس پی انکروچمنٹ سیل عرفان بہادرکوجمعے کو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے محکمہ ریونیوکوسرکاری اراضی کے سروے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دینے کاحکم دیا،جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ حکومت اپنی مرضی کی تقرریاں تومدت گزرنے کے باوجودکرلیتی ہے،16مارچ کوحکومت کی مدت گزر جانے کے باوجودگریڈ 20سے اوپرکے 22افسران کی تقرریاں اور تبادلے کیے، عدالت نے سیکریٹری کوآرڈیشن محمدمصباح کے بیان پر عدم اطمینان کااظہارکرتے ہوئے انچارج چیف سیکریٹری عارف خان کوطلب کیا ، انھوں نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی کی تعیناتی کے حوالے سے وفاقی حکومت کوآگاہ کردیا گیاتھااوراس ضمن میں یاددہانی کا خط بھی بھیج دیاگیا تھا۔
عدالت نے چیف سیکریٹری سے متعلق استفسارکیاتو ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ وہ 3دن سے غائب ہیں، عدالت نے شدیدبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہاں آگ لگی ہوئی ہے اورصوبے میں چیف سیکریٹری اورآئی جی نہیں ہیں،عدالت نے انچارج چیف سیکریٹری کوہدایت کی کہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سے جواب لے کرآئیں،عدالت نے لیاری میں گینگ وار کے اہم کردار ارشد پپوکے قتل سے متعلق استفسار کیاتو ڈی آئی جی ساؤتھ شاہد حیات نے عدالت کو بتایا کہ سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیاہے اور تفتیش جاری ہے،چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ کوئی کتنابھی ظالم ہو،ماورائے عدالت قتل اورلاش کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
آئی جی سندھ نے بتایاکہ عزیر بلوچ اورارشد پپوگروپ کے مابین دشمنی تھی،ڈی آئی جی شاہدحیات نے بتایا کہ لیاری میں ہونیوالے واقعات کی تفتیش آسان نہیں یہاں رینجرزکوبھی داخل ہونے کے لیے سیکڑوں کی نفری درکار ہوتی ہے ،عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ پولیس کی جانب سے اس بیان کو قبول نہیں کیاجاسکتا ، عدالت نے نوگوایریاز کے خاتمے کاحکم دیاتھا،اس کا مطلب توہرکسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دینا ہوگا،عدالت نے ارشدپپو کے قتل کی ایف آئی آرکوغیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ چارپانچ افسران کے ہاتھ میں کراچی پولیس دیدی گئی ہے،عدالتی احکامات کومذاق سمجھاگیا،ذمے دارکون ہے سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کوبھی وضاحت کرناہوگی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایالیاری میں پولیس اوررینجرز داخل نہیں ہوسکتی، جس پر عدالت نے ڈی جی رینجرزکے وکیل جسٹس(ر)شاہدانور باجوہ کوہدایت کی کہ ڈی جی رینجرزکابیان جمع کرائیں،شاہد انور باجوہ نے ڈی جی رینجرزکی جانب سے بتایا کہ کوئی نوگوایریانہیں اگرپولیس اطلا ع دیتی تولیاری میں بھی کارروائی کی جاتی،ڈی جی رینجرز کے وکیل نے کہاکہ یہ بات عام ہے کہ کراچی میں دو ماہ میں ایس ایچ اوتبدیل کردیا جاتا ہے اور لندن سے ایس ایچ او کی تعیناتی کیلیے ٹیلیفون آتاہے، اتنی جلد ایس ایچ او کی تبدیلی کی وجوہات کاجائزہ لیاجاناچاہیے ۔
لارجربینچ نے لیاری سے متعلق ڈی جی رینجرزکاجواب مسترد کرتے ہوئے رینجرز کی کارکردگی پربھی عدم اطمینان کاآظہار کیااور ڈی جی رینجرز کو دوبارہ جواب داخل کرنے کی ہدایت کی،عدالت نے استفسارکیا کہ لیاری میں ارشدپپواور اس کے ساتھیوں کو قتل کرکے لاشوں کی بے حرمتی کی گئی،اس پرکیا کارروائی کی گئی، جب کوئی ایسا کرتاہے تو وہ قانون کو چیلنج کرتاہے ، شہر میں حکومت کی رٹ قائم کریں ، کوئی قانون سے بالاترنہیں ، ڈی آئی جی ساؤتھ شاہد حیات نے عدالت کو بتایا کہ لیاری گینگ وارکے مقتول رکن ارشد پپوگروپ کوسیاسی جماعت کی حمایت حاصل تھی،چیف جسٹس نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے استفسار کیا یہ بابا لاڈلا کون ہے؟چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاپولیس رینجرز اورایف سی کی موجودگی میں نوگوایرکاخاتمہ کیوں نہیں ہوا، کسی نہ کسی کو منہ کھولناہوگا، میڈیا میں باتیں آرہی ہیں لیکن قانون نافذ کرنیوالے ادارے لاعلمی ظاہرکررہے ہیں،لارجر بینچ نے قائم مقام آئی جی سے پوچھاکیا وہ انھیں لے کرلیاری جاسکتے ہیں؟ آئی جی نے کہاپولیس کو لیاری میں مزاحمت ہوگی ججزساتھ چلیں تو بھی مزاحمت ہوگی۔
چیف جسٹس نے کہا ہم نے کسی کے ساتھ کیاکیا ہے جو مزاحمت ہوگی؟ عدالت نے کہا ڈی جی رینجرز کوکچھ معلوم نہیں صرف بیان پر دستخط کرکے دیدیے ہیں،ڈی جی رینجرز لیاری کے کلیئر ہونے کاسرٹیفکیٹ دیں اورلکھ کر دیں وہاں کسی کوکچھ ہوا تو وہ ذمے دار ہوں گے، جسٹس امیرہانی مسلم نے ڈی جی رینجرزکے جواب کو غیر ذمے دارانہ قراردیا،چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاکہ بدامنی کیس کے فیصلے کے باوجود لگتاہے کہ شہرمیں مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔قبل ازیں ڈی آئی جی شاہدحیات نے عدالت کے روبرو اعتراف کیاکہ لیاری میں پولیس اوررینجرز داخل نہیں ہوسکتی۔
جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی طرف سے نو گو ایریاز بتانے کامقصد ہے کہ آپ اپنی شکست تسلیم کررہے ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون ہے جو آپ کو نو گو ایریاز ختم کرنے کے لیے جانے نہیں دیتاہے،ا س کا نام بتائیں اسے جیل بھجیں گے ،ڈی جی رینجرز کی جانب سے دوبارہ پیش کیے گئے جواب میں بتایاگیاکہ رینجرز نے لیاری میں 65آپریشن کیے اور 258ملزمان کوگرفتار کیا،پیپلزاسٹیڈیم میں رینجرز کاایک ونگ کا ہیڈکوارٹر ہے جبکہ بے نظیر یونیورسٹی میں رینجرزکے دستے موجودہیں،عدالت نے رینجرز اور پولیس کو ہدایت کی کہ دونوں ادارے جمعے تک مشترکہ بیان اور حکمت عملی تیارکرکے جمع کرائیں۔
عدالت نے قراردیاکہ حکومت آئین کی دفعات 9,14اور23کے تحت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوگئی، بعد ازاں انچارج چیف سیکریٹری عارف احمد خان دوباہ عدالت میں پیش ہوئے اوربتایا کہ میں ابھی وزیراعلیٰ سے مل کر آرہا ہوں انھوں کنٹریکٹ پولیس افسران کو ہٹانے کی سمری کی نقل دیدی ہے جو میں عدالت میں پیش کررہا ہوں ،انھوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے اس ضمن میں ایڈووکیٹ جنرل سے بھی رائے طلب کی ہے جس پر اے جی نے رائے دی ہے کہ سندھ سول سرونٹس ایکٹ کے سیکشن14کے تحت مطلوبہ شرائط پرپورا اترنے والوں کو کنٹریکٹ پر تقررکیاجاسکتا ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ سیکریٹری داخلہ سمیت کنٹریکٹ افسران جمعے کوپیش ہوکر وضاحت کریں اس ضمن میں کیس ٹو کیس جائزہ لیاجائے گا۔
عارف خان نے بتایا کہ انہیں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے رابطہ کرنے پر بتایاہے کہ آئی جی سندھ کی تقرری کانوٹیفیکیشن آج ہی جاری کردیا جائے گا۔اس موقع چیف جسٹس افتخارچوہدری نے ریمارکیس دیے کہ ہم پولیس افسران کی حوصلہ شکنی نہیں کرناچاہتے ہیں، اہل سیاست جوچاہے کریں لیکن عدالت آئین کا نفاذ چاہتی ہے اوربیورو کریسی کو اپنا کام کرناچاہیے ، انہیں آئین کا تحفظ حاصل ہے ،انیتاتراب کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ افسران غیر قانونی احکامات ماننے کے پابندنہیں ۔
جسٹس جوادایس خواجہ نے کہاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں کچھ شخصیات ناگزیرہوتی ہیں، تاہم ان کنٹریکٹ افسران میں کوئی آئن آسٹائن تونہیں تھاجن کے بغیر پولیس کا کام نہیں ہو رہا،انھوں نے کہا کہ کسی کے بغیر کوئی کام نہیں رکتالیکن ذمے داری کا احساس ہونا چاہیے،انھوں نے چیف سیکریٹری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ آپ ان نوجوان پولیس افسران کوترقی دیں جن کا میرٹ ہے نہ کہ کنٹریکٹ افسران کوان کی جگہ تعینات کرکے ان کی حق تلفی کریں پھر دیکھیں کہ یہ لیاری اورکنواری کالونی کیاہے ،دنیا کے ہرکونے میں جانے کے لیے تیارہونگے۔عدالت نے سماعت جمعہ کیلیے ملتوی کردی۔