پاکستان ایران افغانستان کا اجلاس جلد بلایا جائےصدر زرداری
پڑوسی ہونے کی حیثیت سے پاکستان اورایران کے خطے میں مشترکہ مقاصد ہیں
انٹرنیشنل نوروزکانفرنس میں شرکت کے بعد ایرانی صدرمحموداحمدی نژادسے گفتگو فوٹو: فائل
SHIKARPUR:
صدرآصف علی زرداری نے پاکستان ایران افغانستان کا چوتھا سہ فریقی اجلاس جلد ازجلد بلانے پر زور دیا ہے اور پاکستان کی افغانستان میں مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
جمعرات کو انٹرنیشنل نوروز کانفرنس میں شرکت کے بعد ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پڑوسی ہونے کی حیثیت سے پاکستان اور ایران کے خطے میں مشترکہ مقاصد ہیں اوردونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز اور مسائل کو حل کرنے کیلیے مل کرکام کرنیکی ضرورت ہے۔
صدرآصف زرداری نے کہا کہ امن گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان اور ایران کے باہمی مفاد میں ہے اور یہ گیس پائپ لائن منصوبہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ پاکستان نے منصوبے کی بروقت تکمیل کا عزم کر رکھا ہے۔انھوں نے توقع ظاہر کی کہ بندر عباس میں پاکستانی قونصلیٹ اور تہران میں ثقافتی مرکز کھولنے سے دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔
انھوں نے کہا کہ مندپیشن اورگبدر مدان پر نئی چوکیوں کا آغاز اورکوسٹل ہائی وے کے ذریعے کراچی اورگوادرکوچہ بہار اور بندر عباس کو ملانا دونوں ممالک میں رابطوں کے حوالے سے بڑے اہم اقدامات ہیں۔ صدرزرداری نے توقع ظاہر کی کہ دونوں سرحدی کراسنگز کو جلد از جلد کھول دیا جائے گا۔ ان سرحدی کراسنگز سے ایران سے ٹرکوں میں سامان ایک دن میں کراچی پہنچ جایا کریگا۔
صدرآصف علی زرداری نے پاکستان ایران افغانستان کا چوتھا سہ فریقی اجلاس جلد ازجلد بلانے پر زور دیا ہے اور پاکستان کی افغانستان میں مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
جمعرات کو انٹرنیشنل نوروز کانفرنس میں شرکت کے بعد ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پڑوسی ہونے کی حیثیت سے پاکستان اور ایران کے خطے میں مشترکہ مقاصد ہیں اوردونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز اور مسائل کو حل کرنے کیلیے مل کرکام کرنیکی ضرورت ہے۔
صدرآصف زرداری نے کہا کہ امن گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان اور ایران کے باہمی مفاد میں ہے اور یہ گیس پائپ لائن منصوبہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ پاکستان نے منصوبے کی بروقت تکمیل کا عزم کر رکھا ہے۔انھوں نے توقع ظاہر کی کہ بندر عباس میں پاکستانی قونصلیٹ اور تہران میں ثقافتی مرکز کھولنے سے دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔
انھوں نے کہا کہ مندپیشن اورگبدر مدان پر نئی چوکیوں کا آغاز اورکوسٹل ہائی وے کے ذریعے کراچی اورگوادرکوچہ بہار اور بندر عباس کو ملانا دونوں ممالک میں رابطوں کے حوالے سے بڑے اہم اقدامات ہیں۔ صدرزرداری نے توقع ظاہر کی کہ دونوں سرحدی کراسنگز کو جلد از جلد کھول دیا جائے گا۔ ان سرحدی کراسنگز سے ایران سے ٹرکوں میں سامان ایک دن میں کراچی پہنچ جایا کریگا۔