زیرالتوا آڈٹ کیسز کا انبار لگ گیا ایف بی آر پریشان

لاکھوں کیسزمنتخب،صرف چند ہزار کا آڈٹ ہوسکا،ناکافی انسانی وسائل وجہ قرار

بجٹ 2015کی شق214ڈی سے تاخیری ریٹرنزکے آڈٹ انتخاب سے مسئلہ کھڑاہوا۔ فوٹو؛ فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے دیر سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کو آڈٹ کے لیے منتخب کرنے سے متعلق شق سیکشن 214 ڈی ختم کرنے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز ایف بی آر کے آڈٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو تحریری طور پر رپورٹ بھجوائی گئی ہے جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 214 ڈی ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے فنانس ایکٹ 2015 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت لاگو کی جانے والی سیکشن 214 ڈی کے تحت انکم ٹیکس آڈٹ کے لیے منتخب ہونے والے ٹیکس دہندگان کے بعد سے آڈٹ کا کام متاثر ہورہا ہے کیونکہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے کی وجہ سے آڈٹ کے لیے منتخب کرنے کے بعد ماتحت اداروں کے پاس آڈٹ کے زیر التوا کیسوں کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 80 سے تجاوز کرگئی ہے اور آڈٹ کیسوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے گزشتہ 2 سال کے دوران صرف21 ہزار694 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہو سکا ہے۔

ایف بی آر کے آڈٹ ڈپارٹمنٹ نے موقف اختیار کیا کہ آڈٹ کے اتنی بڑی تعدادمیں زیر التوا کیس نمٹانے کیلیے دستیاب انسانی وسائل ناکافی ہیں، صرف 1 سال کے دوران آڈٹ کے زیر التوا کیسوں کی شرح میں 33.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، مذکورہ شق لاگو ہونے کے بعد ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے اور دیر سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی بنیاد پر صرف ٹیکس ایئر 2015 میں مزید 3 لاکھ6 ہزار 380 لوگ آڈٹ کیلیے منتخب ہوئے جبکہ ٹیکس ایئر 2015 کیلیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی مختلف شقوں کے تحت مجموعی طور پر 3لاکھ 91 ہزار579 لوگ آڈٹ کیلیے منتخب ہوئے جن میں سے صرف21 ہزار 145 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہو سکا ہے اور 3 لاکھ70 ہزار 434 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ التوا کا شکار ہے۔


دستاویز کے مطابق ٹیکس ایئر 2015 میں 3 لاکھ6ہزار 380 ٹیکس دہندگان کو سیکشن 214 ڈی کے تحت آڈٹ کیلیے منتخب کیا گیا جن میں سے صرف251 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہوسکا اور 3 لاکھ 6 ہزار129 آڈٹ کے کیسز التوا کا شکار ہیں جبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 177کے تحت 1ہزار727 ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا جن میں سے صرف 532 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل کیا جا سکا اور باقی1ہزار 195 آڈٹ کے کیس التوا کا شکار ہیں، اسی طرح انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 214 سی کے تحت 83ہزار 472ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا جن میں سے صرف 20ہزار362ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہوسکا اور 63 ہزار110آڈٹ کے کیس التوا کا شکار ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیاکہ ٹیکس ایئر 2016 میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 10 ہزار 485 ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا، ان میں سے 4 لاکھ 9 ہزار 577 ٹیکس دہندگان کو سیکشن 214 ڈی کے تحت منتخب کیا گیا جن میں سے صرف 406 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل ہوسکا اور4 لاکھ 9ہزار171 آڈٹ کیسز التوا کا شکار ہیں، انکم ٹیکس آرڈیننس2001 کی سیکشن 177کے تحت 908 ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا اور صرف 143 ٹیکس دہندگان کا آڈٹ مکمل کیا جا سکا، باقی765 آڈٹ کیسز التوا کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ اس وقت آڈٹ کے جتنے کیس زیر التوا ہیں اس سے پہلے کبھی التوا کا شکار نہیں تھے اور اس کی بنیادی وجہ ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس میں متعارف کرائی جانے والی شق 214 ڈی ہے، اگر یہ شق برقرار رہی تو اس سال بھی اس شق کے تحت بے تحاشہ ٹیکس دہندگان آڈٹ کیلیے منتخب ہوجائیں گے جنہیں سنبھالنا مشکل ہو جائیگا اور کام کا بوجھ بڑھنے کے ساتھ مقدمہ بازی بھی بڑھ جائیگی۔

 
Load Next Story