بھارتی عزائم پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت مزید بڑھائے

بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے

بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے. فوٹو : فائل

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں ریاستی دہشت گردی میں ناکام ہو چکا ہے جب کہ بھارت ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا۔گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کے پاکستان مخالف بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان غیرذمے دارانہ ہے، آرمی چیف فور اسٹار عہدے کا افسر ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف ایک ذمے دارانہ تقرری ہوتی ہے، اس قسم کے غیر ذمے دار بیانات اہم عہدے والوں کو زیب نہیں دیتے۔

پاک فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ دونوں جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں، بھارت ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا جب کہ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، ہم پاکستان کے خلاف کسی بھی بھارتی مس ایڈونچر کا جواب دیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے ہمیں نشانہ بنا رہا ہے لیکن اس میں بھی وہ ناکام ہو چکا ہے اور اگر بھارت روایتی جنگ کے ذریعے ہم پر بھاری ہو سکتا تو اب تک ہو جاتا۔

انھوں نے کہا کہ ہم پیشہ ورانہ فوج، ذمے دار جوہری ریاست اور تحمل کرنے والی قوم ہیں اور پاکستان کی جوہری صلاحیت مشرق کی طرف سے آنے والے خطرات کے لیے ہے جب کہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت بھارت کو حملہ کرنے سے روک رہی ہے۔ واضح رہے بھارتی آرمی چیف نے بیان دیا تھا کہ پاکستان کو تکلیف کا احساس دلاتے رہنا ہماری پالیسی ہے۔

بھارت کے آرمی چیف کا بیان افسوس ناک تو ہے ہی اور اس پر پاک فوج کے ترجمان کا ردعمل بروقت مناسب ہے لیکن بھارتی جنرل کے بیان سے یہ حقیقت بھی عیاں ہو گئی ہے کہ بھارت ریاستی سطح پر پاکستان میں دہشت گردی کی بھی پشت پناہی کر رہا ہے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے۔ پاکستان متعدد بار دنیا کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی فراہم کرچکا ہے۔


بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر وزراء تک کا جارحانہ رویہ بھی سب کے سامنے ہے۔ بھارتی میڈیا اور وہاں کا نام نہاد دانشور بھی پاکستان کے بار ے میں زہر اگلتا رہتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو بھارت ایک منصوبے کے تحت اس خطے میں جنگی ماحول پیدا کر رہا ہے۔ کبھی وہ کنٹرول لائن کے پار آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا پروپیگنڈا کرتا ہے اور کبھی پاکستان پر دہشت گردی کرانے کا الزام عائد کرتا ہے۔

بھارت ایسا کیوں کرتا ہے، بھارتی جنرل بپن راوت کے بیان سے عیاں ہے،بدقسمتی سے امریکا بھی بھارت کا اسٹرٹیجک اتحادی بن چکا ہے۔افغانستان بھی بھارت کا اڈا بن گیا ہے اور وہاں کے حکمران بھارتی کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔ اس منظرنامے کو سامنے رکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کو شمالی مغربی سرحد پر جو خطرہ ہے اس کا ماخذ بھی مشرقی دشمن ہی ہے، اس لیے مشرقی محاذ پر سب سے زیادہ توجہ دینا انتہائی اہم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شمال مغربی سرحد سے بھی غافل نہیں رہا جاسکتا، جہاں تک پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں بھی پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔

پاکستان دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکا ہے کہ پاکستان کسی کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرنا چاہتا لیکن اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔جنوبی ایشیا میں ایٹمی ڈیٹرینس ہی امن کی ضمانت بنا ہوا ہے، بھارت کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم وہ روایتی یا غیر روایتی دونوں قسم کی جنگ میں شکست نہیں دے سکتا ، اس لیے وہ پاکستان کے اندر گڑ بڑ کرارہا ہے۔کلبھوشن یادیو کے انکشافات سب کچھ ظاہر کررہے ہیں۔

پاکستان دہشت گردی کے جس عفریت کا شکار ہے، اس کے پس پردہ ہاتھ بھی بھارت اور افغانستان کے ہیں۔پاکستان کو موجودہ صورتحال میں اپنے دفاع سے کسی صورت غافل نہیں رہنا چاہیے۔ جہاں اندرون ملک دہشت گردوں کا خاتمہ ضروری ہے ، اسی طرح پاکستان کو جدید جنگی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے اور اپنی اندرونی دفاعی صلاحیت کو بھی بڑھانا چاہیے۔
Load Next Story