چیف جسٹس کی کھری کھری باتیں

جیل میں ایک دن گزارنا بھی مشکل ہے اور لوگ برسوں پڑے رہتے ہیں، چیف جسٹس

جیل میں ایک دن گزارنا بھی مشکل ہے اور لوگ برسوں پڑے رہتے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہفتے کو کراچی میں ایک نجی ہوٹل میں تیسری صوبائی جوڈیشل کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی اہم اور دوررس اثرات کی حامل باتیں کی ہیں۔

انھوں نے ججز کو انتہائی اہم اور ضروری مقدمات ایک سے3ماہ میں نمٹانے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ وکلاء ہڑتالوں کے قصے ختم کریں، ہم مقننہ نہیں اس لیے ہم قانون سازی نہیں کرسکتے، جمہوریت میں اہم ہے کہ ہم کسی کام میں دخل اندازی نہ کریں، محترم چیف جسٹس نے واضح کیا کہ قانون بنانا اور اصلاحات کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ انصاف میں تاخیر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، لوگوں کو ملک میں سستا انصاف ملنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ماتحت عدالتوں میں مقدمات کے بروقت فیصلے سے اعلیٰ عدلیہ پر بوجھ کم ہوگا، انھوں نے کہاکہ دنیا میں لوگ عدالت میں جانے کے ڈر سے مسئلہ خود حل کرتے ہیں لیکن پاکستان میں معاملہ عدالت لے جانے پر لوگ خوش ہوتے ہیں کہ عدالت میں دیکھ لوں گا، چیف جسٹس نے مزید کہاکہ جیل میں ایک دن گزارنا بھی مشکل ہے اور لوگ برسوں پڑے رہتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں معاملہ آنے پر پتہ چلتا ہے وہ بے گناہ ہیں، کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا رہا لیکن بدقسمتی سے فوجداری مقدمات میں تفتیش غیرمعیاری ہوتی ہے، استغاثہ کی ذمے داری جدید طریقے استعمال کرنا ہے لیکن استغاثہ کمزور ہونے کی وجہ سے ملزم آزاد ہوجاتے ہیں اور کہا جاتاہے کہ عدلیہ سے انصاف نہیں ملا۔

ایک عام جج صاحب کے پاس150کیسوں کی فہرست ہوتی ہے، اس لحاظ سے اسے ہر کیس میں ڈھائی سے3 منٹ دینا ہوتے ہیں، اس میں انھیں سماعت بھی کرنا ہے اور فیصلہ بھی لکھنا ہے، قوانین میں ریفارمز لانا پارلیمنٹ کا کام ہے، آج بھی74تجاویز ایسی ہیں جو ہم نے دیں مگر اس پر کچھ نہیں ہوا، قوانین بہتر کردیں پھر جج غلطی کرے تو میں ذمے دار ہوں، انصاف کو بیچا نہیں جاسکتا، ججز کو غلطی پر کوئی معافی نہیں ہوگی۔

پاکستان میں عدالتی نظام میں موجود خامیاں ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ یہ کوئی نیا نہیں بلکہ خاصا پرانا مسئلہ ہے لیکن آج کل اس میں بہت زیادہ شدت پیدا ہو گئی ہے۔پاکستان میں ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو برسوں سے مختلف قسم کے مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ وکلاء کو فیس دے دے کر تھک چکے ہیں، اوپر سے عدالتی عملے کو رشوت، عدالت میں آنے اور جانے کے اخراجات نے سائل کی معاشی حالت تباہ کر دی ہے۔


اتنا کچھ ہونے کے باوجود مقدمات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی یہ بات بالکل درست ہے کہ قوانین میں ریفارمز لانا عدالت کا کام نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے پولیس کی تفتیش کے حوالے سے بھی بات کی۔ حقیقت یہی ہے کہ عدالتی نظام کو درست کرنا ایک الگ مسئلہ ہے لیکن عدالت کے روبر حقائق پر مبنی مقدمات پیش کرنا بھی انتہائی اہم مسئلہ ہے۔انصاف پر مبنی فیصلوں کا دارومدار اسی پر ہے۔

پاکستان میں پولیس سسٹم بھی فرسودہ ہو چکا ہے۔ پولیس افسروں سے لے کر اہلکاروں تک اسٹیٹس کو کا شکار ہیں۔ اب تو پولیس کو صرف دھرنوں اور جلوسوں کو روکنے تک محدود کر دیا گیا ہے کیونکہ ملک میں آئے روز دھرنے ہوتے ہیں، احتجاجی جلسے ہوتے ہیں اور جلوس نکلتے ہیں۔ دھرنے والے حکومت سے سیکیورٹی بھی مانگتے ہیں اور قانون بھی توڑتے ہیں۔ وی آئی پی سیکیورٹی کے لیے بھی پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد مختص ہے۔

تھانوں میں تعینات پولیس بھی سست اور کاہل ہو چکی ہے۔ اس کے پاس انفارمیشنز حاصل کرنے کا نظام انتہائی بوسیدہ ہو چکا ہے۔ تفتیشی افسر کی ذہانت اور پروفیشنل ازم بھی کمزور ہے۔ اگر ہم قانون کے معاملات کو دیکھیں تو وہاں بھی ابہام کی بہتات نظر آتی ہے۔ کرمنل پروسیجر کوڈ اور پاکستان پینل کوڈ میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ جو ترامیم کی گئی ہیں ان سے مزید الجھاؤ پیدا ہوا ہے۔

ضیاء الحق کے دور سے لے کر اب تک جو بھی ترامیم ہوئی ہیں ان کی وجہ سے صورت حال مزید ابتر ہوئی ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی اسی دور میں بنائے گئے قوانین کا شکار ہوئے ہیں۔ اصولی طور پر پارلیمان نے اپنے اصل کام پر توجہ نہیں دی۔ صوبائی اسمبلیاں ہوں، قومی ا سمبلی ہو یا سینیٹ، ان اداروں نے قوانین میں بہتری لانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی وجہ کچھ بھی ہو لیکن پارلیمان کے کمزور کردار، پارلیمنٹیرینز کا عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بناء پر ملک کا عدالتی نظام، پولیس سسٹم اور بیورو کریسی کا نظام زوال پذیر ہو کر اپنی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہر ادارہ اپنے اصل کام پر توجہ دے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت پر پختہ یقین کا مظاہرہ کریں۔ پارلیمان آئین اور قانون میں موجود استحکام، ابہام اور دیگر مسائل پر توجہ دے کر انھیں دور کرے۔ عدلیہ اپنے دائرہ کار اور حدود میں رہے جب کہ انتظامیہ اور عسکری ادارے اپنے آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر فرائض انجام دیں تو ملک کا مستقبل سنور سکتا ہے۔

 
Load Next Story