الیکشن کی صبح صادق

استثنیٰ ہر معاملے میں ہوتا ہے، ہمارے ہاں تو ناقابل استثنیٰ بھی مستثنیٰ ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں

Abdulqhasan@hotmail.com

KARACHI:
ہمارے الیکشنی سیاستدان مجبور تھے ورنہ انھوں نے اس منحوس گھڑی کو ٹالنے کی بہت کوشش کی مگر چند کاغذوں کا آئین ان کے ہر حیلے اور بری خواہش کے سامنے رکاوٹ بن گیا علاوہ ازیں ملک کی عملاً سب سے بڑی طاقت نے یہ فیصلہ کیا کہ جب ہم مارشل لاء نہ لگا کر آئین کی پاسداری کر رہے ہیں تو سیاستدان کس کھیت کی مولی ہیں کہ انھیں آئین کو پامال کرنے کی اجازت دی جائے۔

چنانچہ غیر جانبدار اور دیانت دار جرات مند الیکشن کمیشن قائم ہوا اور اس نے آئینی تقاضوں کے مطابق سیاستدانوں کا یوم حساب مقرر کر دیا یعنی 11 مئی۔ یہ یوم حساب ہے اور اس دن سرکاری ایوانوں اور خوشبو دار راہدارویوں سے باہر نکل کر امیدوار عوام کے سامنے حاضر ہوں گے، اس حال میں کہ کسی کے دائیں ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں ان کا پانچ سالہ اعمالنامہ ہو گا یعنی گزشتہ پانچ جمہوری برسوں کی کمائی اور اعمال کا گوشوارہ اس طرح وہ اس لاچار حالت میں عوام کے سامنے ہوں گے جن کے نام پر انھوں نے پانچ برس تک عیش کی اور حسب توفیق کمائی کی۔

اب تمام اراکین اسمبلی رکنیت سے فارغ ہو چکے ہیں، یوں اب وہ کچھ بھی نہیں، سب طمطراق ختم، سارا تام جھام خاک ، اندھیرا ہی اندھیرا ہر طرف۔ اراکین اسمبلی کی اس عبرت ناک دنیاوی رعب داب سے محروم کیفیت پر مجھے ایک نظم یاد آ رہی ہے جس میں ان کے کسی 11 مئی کا ذکر ہے جب کہ آج ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے، اگر روشنی ہوئی تو الیکشن کے بعد جو قسمت کی بات ہے۔ اب یہ نظم

رات کے وقت ایک جنگل میں

چند اُلو اداس بیٹھے تھے

ایک بولا کہ رات لمبی ہے

دوسرے نے کہا کہ چھوٹی ہے

تیسرے نے کہا کہ چھوڑو بھی


رات لمبی ہو یا کہ چھوٹی ہو

صبح صادق ضرور آئے گی

ہم کو اندھا ضرور ہونا ہے

آپ 11 مئی کو صبح صادق ہی سمجھ لیں ،کسی شاعر نے ایک بار پھر اراکین اسمبلی کو اس پرندے سے تشبیہہ دی ہے جو بعض قوموں میں عقل و دانش والا بھی سمجھا جاتا ہے۔ ایسا ہوا کہ آج سے قبل ایوب خان کے دور میں ان کے چھوٹے بھائی سردار بہادر خان نے جو اپوزیشن لیڈر تھے اسمبلی کے اندر کہا تھا کہ

ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

استثنیٰ ہر معاملے میں ہوتا ہے، ہمارے ہاں تو ناقابل استثنیٰ بھی مستثنیٰ ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن کسی بھی اسمبلی میں کچھ لوگ معقول یعنی غیر الو بھی ہوا کرتے ہیں۔ ہماری گزشتہ اسمبلیوں میں بھی عام انسان موجود تھے جو کبھی حکومت کے ساتھ گھل مل جاتے تھے اور کبھی اپوزیشن بن جاتے تھے یعنی ادھر سے ادھر ہوتے رہتے تھے اور یہ ان کا پرانا سیاسی حق تھا کہ ضرورت اور وقت کے مطابق کوئی پارٹی بھی بدل لیں۔ ان دنوں بھی یہی ہو رہا ہے اور ہر پارٹی نو واردوں کو بخوشی قبول کر رہی ہے، وہ جیسا بھی ہو لیکن جس پارٹی کو چھوڑ کر آتا ہے، اس پارٹی کو کچھ نقصان تو ہوتا ہی ہے، دوسرے اس کی کامیابی کے امکانات بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔

ان دنوں عارضی سطح پر اقتدار کی جنگ جاری ہے یعنی کسی کو عارضی نگران وزیر اعظم مقرر کرنا ہے جو جلد ہی ہو جائے گا، سیاستدانوں سے نہ ہو سکا تو الیکشن کمیشن تو ہے ہی وہ یہ کام کر دے گا۔ سیاستدانوں کی ہر امید اور نا امیدی اسی کمیشن سے وابستہ ہے وہ تو الیکشن میں دیکھا جائے گا فی الحال سیاسی جماعتیں عوام کو ورغلانے کے لیے جلسے جلوس کر رہی ہیں اور ظاہر کہ وہ کوئی بڑا ہجوم جمع کر لیں گی۔ ایک تو عمران خان ہیں جو اپنی سیاست یعنی الیکشن کو جلسوں کے حوالے کر چکے ہیں اسے وہ سونامی کا نام دیتے ہیں دوسرے اب مولوی حضرات بھی اعلان کر رہے ہیں کہ وہ عمران خان سے بڑا جلسہ کریں گے۔

یہ جلسے اپنی چھوٹی بڑی حاضری کے بعد اپنی جگہ پر لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں پر کس طرح لے جانا ہے اور ایک بند کمرے میں ان سے اپنے نام کے آگے مہر لگوانا ہے۔ مہر ثبت کرنے کا عمل ایک صوفیانہ اور سلوک کا معاملہ لگتا ہے۔ ووٹر ایک الگ تھلگ جگہ پر بٹھا دیا جاتا ہے چاروں طرف سے بند اور آنکھوں سے اوجھل اس کے سامنے ایک پرچی ہوتی ہے جس پر چھپے ہوئے کسی نشان پر اس نے قریب ہی رکھی ہوئی مہر کو رنگین کر کے لگا دینا ہوتا ہے، اس سارے عمل میں صرف اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہوتا ہے نہ کوئی امید وار اور نہ کوئی الیکشن کمیشن وہ کاغذ پر مہر لگا کر ووٹ کی اس پرچی کو اس بند کمرے سے باہر لاتا ہے اور ایک ڈبے یعنی صندوقچی میں ڈال دیتا ہے جس کے بعد وہ پولنگ اسٹیشن سے باہر نکل آتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں اپنے ہاتھ کٹا کر اور بطور ووٹر اپنی حیثیت مکمل طور پر ختم کر کے ہلکا پھلکا ہو کر گھر کی راہ لیتا ہے اب اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ میں ہر سال اپنے کلب جمخانہ میں ووٹ دیتا ہوں اور جب کسی امیدوار کا سامنا ہوتا ہے تو وہ پوچھتا ہے ووٹ دینا یا دے دیا ہے اگر جواب دوں کہ ابھی دینا ہے تو اس کا رویہ خوشامدانہ ہوتا ہے اگر کہوں کہ دے دیا ہے تو وہ منہ پرے کر کے چلا جاتا ہے۔ یہی حال ہر ووٹر کا ہوتا ہے خواہ وہ لاہور جمخانہ کا ووٹر ہو یا جنرل الیکشن کا۔ اگر آپ نے ووٹ دیا تو آپ یہ منظر خود ہی دیکھ لیں گے۔
Load Next Story