اسرائیلی وزیراعظم کا دورۂ بھارت
امریکی پالیسیوں میں یہودی لابی کے اثرروسوخ اور اہمیت سے بھارت بخوبی آگاہ ہے۔
امریکی پالیسیوں میں یہودی لابی کے اثرروسوخ اور اہمیت سے بھارت بخوبی آگاہ ہے۔فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھارت پہنچ گئے جہاں وہ چھ دن قیام کریں گے۔ 2003ء میں ایریل شیرون کے بعد کسی اسرائیلی وزیراعظم کا یہ پہلا دورۂ بھارت ہے، گزشتہ برس نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی، دفاع، داخلی ، خارجی معاملات سمیت ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں کی کئی یادداشتوں پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ نیتن یاہو کے ساتھ ایک بڑا تجارتی وفد بھی بھارت پہنچا ہے۔
بھارت اور اسرائیل کی دوستی گزشتہ چند دہائیوں سے مزید گہری ہوتی چلی جا رہی ہے جس کے پس منظر میں وہ مفادات پوشیدہ ہیں جن کا تعلق تجارتی، دفاعی فوائد حاصل کرنے کے علاوہ اسلام اور مسلمان دشمنی سے بھی ہے۔ ایک جانب اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا تو دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔ کشمیریوں پر ظلم وستم کے نت نئے طریقوں سے آگاہی اور مہلک ہتھیار اسرائیل ہی نے بھارت کو فراہم کیے۔
امریکی پالیسیوں میں یہودی لابی کے اثرروسوخ اور اہمیت سے بھارت بخوبی آگاہ ہے۔ اسے ادراک ہے کہ امریکا سے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کے لیے یہودی لابی کو خوش رکھنا نہایت ناگزیر ہے۔ لہٰذا جدید ترین ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ بیک وقت اپنے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ بھارت، اسرائیل اور امریکا کا یہ گٹھ جوڑ جنوبی ایشیا کے خطے میں نئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ امریکا خلائی سائنس، ایٹمی ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات میں بھارت کو ہرممکن تعاون فراہم کر رہاجب کہ وہ پاکستان پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آڑ میں واچ لسٹ میں شامل کر چکا ہے۔
بھارت جس قدر تیزی سے خلائی سائنس اور دیگر شعبوں میں ترقی کر رہا وہ پاکستان کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ اس کے ہاں بھی خلائی سائنس کے ادارے موجود ہیں مگر ابھی تک وہ ایسا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے جس پر قوم کا سر فخر سے بلند ہو سکے۔ پاکستان کو بھی اپنے ہمسایہ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی کے حصول کی جانب توجہ دینی چاہیے ورنہ آنے والے برسوں میں تجارتی، خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں پیچھے رہ جانے کے باعث اس کی راہ میں بہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھارت پہنچ گئے جہاں وہ چھ دن قیام کریں گے۔ 2003ء میں ایریل شیرون کے بعد کسی اسرائیلی وزیراعظم کا یہ پہلا دورۂ بھارت ہے، گزشتہ برس نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی، دفاع، داخلی ، خارجی معاملات سمیت ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں کی کئی یادداشتوں پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ نیتن یاہو کے ساتھ ایک بڑا تجارتی وفد بھی بھارت پہنچا ہے۔
بھارت اور اسرائیل کی دوستی گزشتہ چند دہائیوں سے مزید گہری ہوتی چلی جا رہی ہے جس کے پس منظر میں وہ مفادات پوشیدہ ہیں جن کا تعلق تجارتی، دفاعی فوائد حاصل کرنے کے علاوہ اسلام اور مسلمان دشمنی سے بھی ہے۔ ایک جانب اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا تو دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔ کشمیریوں پر ظلم وستم کے نت نئے طریقوں سے آگاہی اور مہلک ہتھیار اسرائیل ہی نے بھارت کو فراہم کیے۔
امریکی پالیسیوں میں یہودی لابی کے اثرروسوخ اور اہمیت سے بھارت بخوبی آگاہ ہے۔ اسے ادراک ہے کہ امریکا سے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کے لیے یہودی لابی کو خوش رکھنا نہایت ناگزیر ہے۔ لہٰذا جدید ترین ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ بیک وقت اپنے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ بھارت، اسرائیل اور امریکا کا یہ گٹھ جوڑ جنوبی ایشیا کے خطے میں نئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ امریکا خلائی سائنس، ایٹمی ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات میں بھارت کو ہرممکن تعاون فراہم کر رہاجب کہ وہ پاکستان پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آڑ میں واچ لسٹ میں شامل کر چکا ہے۔
بھارت جس قدر تیزی سے خلائی سائنس اور دیگر شعبوں میں ترقی کر رہا وہ پاکستان کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ اس کے ہاں بھی خلائی سائنس کے ادارے موجود ہیں مگر ابھی تک وہ ایسا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکے جس پر قوم کا سر فخر سے بلند ہو سکے۔ پاکستان کو بھی اپنے ہمسایہ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی کے حصول کی جانب توجہ دینی چاہیے ورنہ آنے والے برسوں میں تجارتی، خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں پیچھے رہ جانے کے باعث اس کی راہ میں بہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔