ہاکی ہال آف فیم 5 غیرملکی 6 قومی اسٹارز کو ایوارڈز ملیں گے
پاؤل لیٹجن، فلورس بوویلینڈر، کرسٹین بلنک، جوآن اسکیئر اور ڈون پرایئر شامل۔
ہال آف فیم تقریب کراچی میں سجے گی۔ فوٹو:فائل
رواں ماہ کراچی میں شیڈول ہال آف فیم میں 5 غیرملکی پلیئرز اور 6 سابق قومی کھلاڑیوں کوایوارڈز سے نوازا جائیگا۔
کراچی میں شیڈول ہال آف فیم میں شامل غیرملکی کھلاڑیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں، ان پلیئرز کا تعلق ہالینڈ، جرمنی، اسپین اور آسٹریلیا سے ہے، ہال آف فیم تقریب کراچی میں سجے گی، اس میں 5 غیرملکی پلیئرز اور 6 سابق قومی کھلاڑیوں کوایوارڈز سے نوازا جائیگا۔
ہال آف فیم میں شامل غیر ملکی کھلاڑیوں میں بڑا نام ہالینڈ کے پاؤل لیٹجن کا ہے جو اپنے دور کے مایہ ناز پنالٹی کارنر اسپیشلسٹ تھے، انھوںنے177 میچوں میں ڈچ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 268 گول کیے۔ ان کا 1982 سے 2004 تک زیادہ گول کرنے کا عالمی ریکارڈ سہیل عباس نے توڑا، وہ 1973 میں ورلڈ کپ اور 1981 کو کراچی میں چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی ٹیموں کا بھی حصہ رہے، وہ اولمپکس 1976کے ٹاپ اسکورر بھی رہے۔
ہالینڈ ہی کے فلورس جان بوویلینڈر ایک اور مایہ ناز کھلاڑی تھے۔ وہ ورلڈ کپ 1994ء میں9گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر بھی رہے۔ فائنل مقابلے میں ہالینڈکوپاکستان کے ہاتھوں 3-1سے شکست کا سامنا رہا۔ وہ 1996کی اولمپکس ٹیم کا بھی حصہ تھے۔جرمنی کے کرسٹین بلنک بھی ایوارڈ کیلیے نامزد ہوئے ہیں، ان کی والدہ گریٹا بلنک بھی1950 سے 1960 میں ممتاز پلیئر رہیں، انھوں نے 1989 سے 1998 تک جرمن ٹیم کی نمائندگی کی۔ وہ 20 سال کے طویل عرصہ کے بعد اولمپکس1992 کی فاتح ٹیم کا بھی حصہ تھے۔
بلنک نے اپنی ٹیم کو چیمپئن بنوانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ میگا ایونٹ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔انھوں نے 1990 کے ورلڈ کپ میں سلور میڈل جیتنے والی جرمن ٹیم کی قیادت بھی کی۔
جوآن ایسکیئر اسپیش ٹیم کے مڈفیلڈر تھے، انھوں نے256 انٹرنیشنل مقابلوں میں ملکی ٹیم کی نمائندگی کی۔ انھیں3 اولمپکس کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ وہ1996 کے اولمپکس اور ورلڈ کپ 1998 میں سلور میڈلز جیتنے والی ٹیموں کا بھی حصہ تھے۔انھوں نے یورپیئن کپ اور چیمپینز ٹرافی 2004 میں گولڈ میڈلز جیتنے والی ٹیم کی قیادت بھی کی۔
آسٹریلیا کے ڈون پرایئر ہاکی کا شمار ممتاز امپائرز میں ہوتا ہے، انھوںنے 1988 اور1996 کے اولمپکس فائنل مقابلوں میں بھی امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔
کراچی میں شیڈول ہال آف فیم میں شامل غیرملکی کھلاڑیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں، ان پلیئرز کا تعلق ہالینڈ، جرمنی، اسپین اور آسٹریلیا سے ہے، ہال آف فیم تقریب کراچی میں سجے گی، اس میں 5 غیرملکی پلیئرز اور 6 سابق قومی کھلاڑیوں کوایوارڈز سے نوازا جائیگا۔
ہال آف فیم میں شامل غیر ملکی کھلاڑیوں میں بڑا نام ہالینڈ کے پاؤل لیٹجن کا ہے جو اپنے دور کے مایہ ناز پنالٹی کارنر اسپیشلسٹ تھے، انھوںنے177 میچوں میں ڈچ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 268 گول کیے۔ ان کا 1982 سے 2004 تک زیادہ گول کرنے کا عالمی ریکارڈ سہیل عباس نے توڑا، وہ 1973 میں ورلڈ کپ اور 1981 کو کراچی میں چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی ٹیموں کا بھی حصہ رہے، وہ اولمپکس 1976کے ٹاپ اسکورر بھی رہے۔
ہالینڈ ہی کے فلورس جان بوویلینڈر ایک اور مایہ ناز کھلاڑی تھے۔ وہ ورلڈ کپ 1994ء میں9گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر بھی رہے۔ فائنل مقابلے میں ہالینڈکوپاکستان کے ہاتھوں 3-1سے شکست کا سامنا رہا۔ وہ 1996کی اولمپکس ٹیم کا بھی حصہ تھے۔جرمنی کے کرسٹین بلنک بھی ایوارڈ کیلیے نامزد ہوئے ہیں، ان کی والدہ گریٹا بلنک بھی1950 سے 1960 میں ممتاز پلیئر رہیں، انھوں نے 1989 سے 1998 تک جرمن ٹیم کی نمائندگی کی۔ وہ 20 سال کے طویل عرصہ کے بعد اولمپکس1992 کی فاتح ٹیم کا بھی حصہ تھے۔
بلنک نے اپنی ٹیم کو چیمپئن بنوانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ میگا ایونٹ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔انھوں نے 1990 کے ورلڈ کپ میں سلور میڈل جیتنے والی جرمن ٹیم کی قیادت بھی کی۔
جوآن ایسکیئر اسپیش ٹیم کے مڈفیلڈر تھے، انھوں نے256 انٹرنیشنل مقابلوں میں ملکی ٹیم کی نمائندگی کی۔ انھیں3 اولمپکس کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ وہ1996 کے اولمپکس اور ورلڈ کپ 1998 میں سلور میڈلز جیتنے والی ٹیموں کا بھی حصہ تھے۔انھوں نے یورپیئن کپ اور چیمپینز ٹرافی 2004 میں گولڈ میڈلز جیتنے والی ٹیم کی قیادت بھی کی۔
آسٹریلیا کے ڈون پرایئر ہاکی کا شمار ممتاز امپائرز میں ہوتا ہے، انھوںنے 1988 اور1996 کے اولمپکس فائنل مقابلوں میں بھی امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔